Home » Article » سانحہ ریسکیو 15لاہور کی تاریخ کا ایک اور بڑاواقعہ ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:محمد اعظم عظیم اعظم

سانحہ ریسکیو 15لاہور کی تاریخ کا ایک اور بڑاواقعہ ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:محمد اعظم عظیم اعظم

ایک بار پھر دہشت گردوں نے اپنے کمین گاہوں سے سرنکالا اور پھر وہی کچھ کیا جس کا ڈرتھا اور جس کے لئے حکومت ،عوام اور سیکیورٹی کے ادارے پہلے ہی چوکس اور تیار تھے اور یوں 27مئی کا دن لاہور اور پاکستان کی تاریخ میں ایک اور دہشت گردی کے باب کا اضافہ کرگیا ۔اگرچہ لاہور کاسا نحہ ریسکیو ون فائیو ایک ایسے وقت میں رونماہواہے کہ جب سوات میں فوجی آپریشن بڑی تیزی سے اپنی کامیابیوں کے اہداف حاصل کررہاہے تواس کے ساتھ ہی دہشت گردوں نے حکومت اور سیکورٹی فورسز کازرور توڑنے اور اسے کم کرنے کے لئے ملک پھر میں دہشت گردی اور حملے کرنے کی دھمکی دے ڈالی جس کے مطابق گزشتہ دنوں ملک کے بیشتر اخبارات میںدہشت گردوں ایک اہم اور مرکزی رہنماکے حوالے سے ایک خبر یہ شائع ہوئی تھی کہ اگر حکومت نے مالاکنڈ اور وزیرستان میں جاری اپنی کارروائیاں بند نہ کیں تو پورے ملک میں حملے کئے جائیں گے اور اسی روز یعنی 27 مئی کی صبح 10 بجے سے ساڑھے دس بجے کے درمیان لاہور میں شاہراہ فاطمہ جناح پر واقع دوسال قبل تعمیر ہونے والی اپنی نوعیت کی دور حاضر کے تمام جدید تقاضوں سے آراستہ مضبوط ترین ریسکیو15کی عمارت میں خودکش دھماکہ ہوا جسے تجزیہ نگارلاہور کی تاریخ کا ایک بڑاواقعہ قرار دے رہے ہیںجس میں پوری عمار ت دیکھتے ہی دیکھتے ملبے کے ڈھیرمیں تبدیل ہوگئی اورجس کے نتیجے میں عمارت میں موجود اپنے فرائض کی انجام دہی پر مامور ریسکیو15 کاعملہ سمیت 45افرادجن میں12پولیس اہلکار اور ایک بچہ ہلاک اور 300کے لگ بھگ زخمی ہوگئے ہیں جبکہ ابتدائی تحقیقات اور عینی شاہدین کے مطابق اس واقع میںملوث دہشت گردی جو چار موٹر سائیکلوں پر سوار تھے انہوں نے پہلے 5سے 10منٹ تک جدید ترین آتشین ہتھیاروں سے اندھادھند ہوائی فائرنگ کی جس سے خوف وہراس پھیل گیا پھر اس کے بعد انہوں نے سامنے کھڑی ہوئی کئی کلو بارود سے بری ایک وین کو فائرنگ سے اڑا دیا جس کے نتیجے میںایک زور دار دھماکہ ہو ا س دھماکے میں استعمال ہونے والا مواد اس قدر پاور فل تھا کہ جس جگہہ یہ دھماکہ ہوا ہے وہاں 22فٹ گہرا گڑھا پڑگیا ہے ۔جب کہ اس دھماکے کے نتیجے میں ریسکیو15کی مرکزی عمارت تو تباہ ہوئی مگر اس کے ساتھ ہی تھانہ سول لائن اور قریب ہی واقع ایک حساس ادارے کی عمارت کو بھی شدید نقصان پہنچاہے ایسا لگاتا ہے کہ ان دہشت گردوں کا ارادہ بھاری جانی اور مالی نقصان کرنے کا تھا جس سے یہ اندازہ بھی بخونی لگایاجاسکتا ہے کہ دہشت گرد پوری پلاننگ سے آئے تھے اور جو پوری طرح سے تربیت یافتہ تھے ان کا ارادہ کوئی بڑی واردات کرنے کا تھا مگر سخت سیکیورٹی کے باعث وہ اپنے مشن میں کامیابی حاصل نہ کرسکے۔ نہ صر ف یہ بلکہ اس خودکش حملے کی شدت کا اندازہ اس سے بھی لگایاجاسکتا ہے کہ اس دھماکے سے دور دور تک کی عمارتوں کے بھی شیشے ٹوٹ گئے اور بعض عمارتوں کوبھی شدید نقصان پہنچاہے جس میں کئی پیٹرول پمپس سیمت گاڑیوں کے3 شورومز بھی شامل ہیںاور ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ دھماکے کے ساتھ ہی اس 15کی عمارت کے قریب کھڑیں 50کے قریب چھوٹی بڑی نجی اور سرکاری گاڑیاں بھی پوری طرح تباہ ہوگئی ہیں۔یہ ایک یقینا قومی المیہ ہے جس پر پوری پاکستانی قوم اپنی پوری قوت کے ساتھ پھرپور طریقے سے مذمت کرتے ہوئے حکومت سے یک زبان ہوکر یہ مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت ملک کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لئے اپنی طاقت کوپوری شدت کے ساتھ استعمال کرے اور دہشت گردوں کے ان اوچھے ہتکنڈوں سے قطاً نہ مرعوب ہواور نہ ہی دبے اور اس کے ساتھ ہی قوم حکومت اور چیف آف دی آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے یہ بھی درخواست کرتی ہے کہ سوات آپریشن کسی بھی صورت میں اس کے منطقی انجام تک پہنچنے سے قبل ہرگز ختم نہ کرے اوراب حکومت پراس المناک سانحہ کے بعدیہ ذمہ داری پہلے سے کئی گنا زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ وہ دہشت گردوں کا نام و نشان مٹانے کے لئے آپریشن اس وقت تک جاری رکھے کہ جب تک سرزمین پاکستان دہشت گردوں سے پوری طرح پاک نہیں ہوجاتی اور اس کے ساتھ یہ بات بھی حکومت اور سیکیورٹی فورسز کے ادارے ذہن میں اچھی طرح سے رکھیں کہ اگر یہ آپریشن جو حکومت نے اس یقین کے ساتھ شروع کیا ہے کہ وہ کسی بھی دہشت گرد کو نہیں چھوڑے گی جو اس ملک کے لئے ناسور بن چکے ہیں اگر اس عزم کے بعد بھی حکومت نے اپنا یہ آپریشن جو اب پوری کامیابی سے اپنی منزل کی جانب گامزن ہے اسے حکومت نے ادھورا چھوڑ دیا اور اس طرح اگر ایک بھی دہشت گرد باقی بچ گیا تو پھر وہ کچھ عرصہ بعد اپنی ایک نئے گروپ کے ساتھ نئی قوت لئے نمودار ہوگا اور پھر وہ ملک کا امن و سکون تباہ کرے گا۔ اگرچہ لاہور حکومت نے سانحہ ریسکیو15کے اس واقعہ کی تحقیقات کے لئے ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی ٹیمی بروقت تشکیل دے دی ہے جو اس سارے واقع کا بریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد حکومت کو جلد رپورٹ پیش کرے گی جس کی رپورٹ کے بعد ہی کسی درست سمت میں فیصلہ کیاجاسکے گا کہ اس واقع میں کونی سی ملک دشمن قوتیں ملوث تھیں اور ان کے پش پردہ ان ممالک کی انہیں حمایت حاصل تھی جو اس قسم کے واقعات رونماکرکے پاکستان کی بقاو خودمختاری اور سا لمیت کے بڑاخطرہ بنی ہوئیں ہیں۔ ادھر مشیر داخلہ رحمان ملک نے اس واقع کے بعد کہا ہے کہ لاہور میںریسکیو15کی عمارت میں ہونے والا خود کش دھماکہ سوات آپریشن کا ردعمل ہے۔اور اس کے ساتھ ہی آج پوری پاکستانی قوم بھی رحمان ملک کی اس بات پر پوری طرح سے متفق ہے کہ 27مئی کو لاہور میں ریسکیو15کی عمارت میں ہونے والا دہشت گردی کا یہ المناک واقعہ سوات میں جاری دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کاہی ردعمل ہے کیوں کے سیکیورٹی فورسزکے کامیاب آپریشن کے بعد سوات کے شورش زدہ علاقوں سے دہشت گردوں کے قدم اکھڑ رہے ہیں لاہور کاسانحہ 15اس کا ثبوت ہے۔اس کے ساتھ ہی آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری پاکستانی قوم سوات آپریشن پر حکومت کے بھرپور حمایت جاری رکھے تاکہ حکومت خندہ پیشانی سے اس میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے سوات ،مالاکنڈاور دیگر شورش دہ علاقوں کو جلد از جلدہشت گردوں سے پاک کراسکے۔اور ان علاقوں سے 25سے30 لاکھ کے لگ بھگ نقل مکانی کرآنے والے افراد جلد ازجلداپنے علاقوں میں واپس جاسکیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپناجانی اور مالی نقصان کرکے جو اہم کردار ادا کررہا ہے اس پر اب کسی دوست اور دشمن کوبھی انگلی اٹھانے کی جرات نہیں کرنی چاہئے کیوں کہ پاکستان نے گزشتہ کئی سالوں سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جو ذمہ داری انجام دی ہے اس کی ان بے لوث خدمات کو اب سارے دنیا کو نہ صرف پھرپور طریقے سے سراہانے اورخراج تحسین ہی پیش کرنے کی ضرورت ہے بلکہ اب تو ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ باالخصوص پاکستان اور باالعموم دنیا بھر سے دہشت گردی کے خاتمے اور اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے پاکستان کی ہر طرح سے مدد بھی کرنی چاہئے۔