Home » Article » جے یوآئی کاحکومت سے علیحدگی کا فیصلہ جذباتی ہے یا سیاسی

جے یوآئی کاحکومت سے علیحدگی کا فیصلہ جذباتی ہے یا سیاسی

جے یوآئی کاحکومت سے علیحدگی کا فیصلہ جذباتی ہے یا سیاسی….تحریر:محمداعظم عظیم اعظم
یوں توپاکستان ہر لحاظ سے دنیا کا وہ منفرد ملک ہے جہاں ہرسیکنڈ اور ہرلمحے سیکڑوں ایسے حیرت انگیزحالات واقعات رونماہوتے رہتے ہیں کہ عقلِ انسانی دنگ رہ جاتی ہے اور یہیںروز رونماہونے والے حیرت انگیز حالات واقعات انسانوں کی بھیڑ اور مسائل کی دلدل میں دب کر رہ جاتے ہیںجن کا شمار کرناناممکن ہوتا ہے مگر جب کبھی میڈیا حرکت میں آجاتاہے تو ایسے واقعات کو اہمیت دے دی جاتی ہے بلکل ایک ایساہی حیران کُن واقعہ گزشتہ دنوں پاکستان کی تاریخ میںاُس وقت پیش آیا جب ایک کرپشن (حج اسکینڈل) کے کیس میں ملوث وزیرکے ساتھ نشاندہی کرنے والا وزیربھی اپنی وزارت سے فارغ کردیاگیااَب اِس سارے منظر اور پس منظر میں یہ سوال پیداہوتاہے کہ کیوں ……؟؟یہ ہے ناں!ہماراملک پاکستان دنیا کا ایک عجیب و غریب ملک اور اِس ملک میں پیش آنے والابے انصافی پر مبنی یہ واقعہ جس پر مذمت کی صُورت میںجتنالکھااوربولاجائے وہ کم ہے۔اور اِس کے ساتھ ہی اِس میں کوئی شک نہیں کہ اِس سال پاکستان کا حج اسکینڈل جس شدت سے پاکستان سمیت ساری دنیا کے سامنے آیا ہے اِس پہلے ہمارے یہاں ایسا کبھی نہیں ہواتھا کہ پاکستان جیسے اسلامی ملک کا حج اسکینڈل اِس طرح سے دنیاکے سامنے آیا ہواور پاکستان کا وقار نہ صرف پاکستان ہی میں مجروح ہواہوبلکہ ہمارے عزیز ترین دوست اور بھائی مسلم ملک سعودی عرب میں بھی اِس حج اسکینڈل کی بازگشت اتنی ہی شدت سے محسوس کئی گئی ہو کہ جتنی ہمارے یہاں اِس کا احساس کیا گیا۔اِس حوالے سے کہنے والے تو بہت کچھ کہہ رہے ہیں مگر قوم کس کی بات کو درست مانے ….؟؟اور کس کی نہیں…..بہرکیف !پاکستانی قوم ابھی اِسی مخمصے میں مبتلاتھی کہ بالآخر گزشتہ دنوں ملک کی بدنامی کا باعث بنے والے حج اسکینڈل 2010کا ڈراپ سین ہوگیا ۔ بہرحال! اَب قوم یہ کہہ کر خود کو تسلی توضرور دے رہی ہے کے ہر بُرے کا انجام بُراہی ہوتاہے اور وہی ہواجس کا بڑے دنوں سے مطالبہ کیاجارہاتھا ۔خبر کے مطابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی نے حج اسکینڈل 2010کے حوالے سے اپنی پسندیدہ شخصیت کے حامل وفاقی وزیرمذہبی اُمورحامدسعید کاظمی اور وفافی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی عظم سواتی کی جانب سے ایک دوسرے پر مسلسل ہونے والی ناخوشگوار بیان بازیوں کی بنیاد پر دونوں کو پہلے تو اِنہیں سمجھانے کی پوری کوشش کی مگر جب یہ اپنے معاملات مل بیٹھ کر طے نہ کرسکے تو گزشتہ دنوں ہمارے بے تحاشہ صبروبرداشت کے حامل وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی نے صدر مملکت آصف علی زرداری کو اعتمادمیں لیااور اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے انتہائی قدم یہ اٹھایاکہ اُنہوں نے نہ صرف حامد سعید کاظمی کو ہی یکذمبشِ قلم اِن کی وزارت سے برطرف کردیاہے بلکہ اعظم سواتی کو بھی حامد سعید کاظمی کے حج اسکینڈل کو اُچھالنے اور کرپشن کی نشاندہی کرنے کے جرم سے ملک میں پیداہونے والی ناخوشگوار صورت حال سے تنگ آکر اِنہیں بھی کابینہ سے نکال باہر کیاہے اور یوں اَب دونوں ہی وفاقی وزرأ اپنی انپی ذاتی لڑائیوں کی وجہ سے اپنی اچھی بھلی وزراتوں سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں۔
یہ کہہ رہے تھے وزارت کو چھوڑنے والے 
سَداکسی کی حکومت رہانہیں کرتی
خدارا ذکرنہ کر لیلِیٔ وزارت کا 
یہ بے وفاہے کسی سے وفانہیں کرتی
اوراَب اپنے گھروں میں جاکر اپنے اپنے مدٔاحوں کے سامنے اپنی صفائیاں پیش کرکے اپنے اپنے داموں پر لگنے والے نشانات کو دھونے کی کوششیںکررہے ہیں۔جیساکہ میں یہ اُوپر عرض کرچکاہوں ہوں کہ وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی نے حج اسکینڈل 2010کو ہوادینے اور وفاقی وزیرمذہبی اُمور حامد سعیدکاظمی کی حج کرپشن کی نشاندہی کرنے کی پاداش میں وفاقی وزیراعظم سواتی کو جس طرح برطرف کیاہے وہ حیران کُن ضرور ہے کہ وزیراعظم نے اعظم سواتی کو حامد سعیدکاظمی کے ساتھ کیوں طرف کیا ہے ..؟اور ہمارے یہاں ایک عوامی اور جمہوری حکومت ہی میںایسا پہلی بار ہی کیوںہواکہ کرپشن کی نشاندہی کرنے والا وزیر بھی اپنی وزرات سے فارغ کردیا گیاہے….؟یہ حقیقت ہے کہ جہاں وزیر اعظم کے اِس غیر منصفانہ روئے سے بہت سے سوالات جنم لے رہے ہیں تووہیں ملک میں بدلتی ہوئی اِس ساری سیاسی صورت حال کے بعد حکومت کوبھی آئندہ بہت سے نئے سیاسی چیلنجز اور مشکلات کابھی سامنہ پڑسکتاہے ۔ وزیراعظم کی جانب سے اعظم سواتی کو اِن کے عہدے سے برطرف کئے جانے کے بعدجمعیت علمأ اسلام (ف) نے اپنے جس شدید ردعمل کا اظہار کیا وہ ہرلحاظ سے درست ہے اِس کی جگہہ کوئی اور جماعت بھی ہوتی تووہ بھی یہی کرتی جو جے یو آئی نے کیا ہے۔ اگرچہ اِس میںکوئی شک نہیں کہ جے یوآئی نے فوری طور پر خود کو حکومت سے علیحدگی کا اعلان کرکے ملکی سیاست میں ایک طوفان برپاکردیاہے)اِس کے بعد ایم کیو ایم سمیت اور بہت سی ایسی حکومت اتحادی جماعتیں بھی ہیں جو اَب یہ سوچنے پر مجبور ہیںکہ حکومت سے جس قدر جلد ممکن ہوسکے علیحدہ ہواجائے جس کے لئے اطلاعات یہ ہیں کہ ایم کیو ایم نے تو ملک میں تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال اور آرجی ایس ٹی کے ملک میں نفا ذ کے خلاف ایم کیوایم نے اپنے ہنگامی اجلاسوں کے سلسلے شروع کردیئے ہیں) اور جس کے بعد وفاقی وزیربرائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس رحمت اللہ کاکڑ اور وفاقی وزیرسیاحت عطاء الرحمان بھی مستعفی ہوگئے اور ہی اطلاعات یہ بھی ہیں کہ جے یوآئی کے اِس غیر متوقعہ فیصلے سے حکومت کو جو دھچکہ لگاہے اِس کا حکومت کو وہم وگمان بھی نہیں تھا کہ جے یوآئی یکدم سے اتنابڑاقدم بھی اٹھاسکتی ہے اِس کا اندازہ اِس سے بھی لگایاجاسکتاہے کہ جب صدر آصف علی زرادی اور وزیراعظم سیدیوسف رضاگیلانی نے مولانا فضل الرحمن سے فوری طورپر ٹیلی فون پر رابطہ کرنے اور اِس ساری صُورت حال پر تبادلہ خیال کرنے اور اِسے سنبھالنے کی کوشش کو تو غصے سے لال پیلے ہوتے مولانافضل الرحمن نے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اِن سے اپنی گرجدار آواز میں معزرت کرلی۔اور پھر فون بندہوگئے ۔اطلاعات یہ ہیں کہ فون تو بندہوگئے تھے مگر حکومت نے اپنے لئے پیداہونے والی مشکل صُورت حال کو کنٹرول کرنے اور مولانافضل الرحمن کو منانے اور اِن کی خوشامدکرنے کے لئے ایوانِ صدر کے خصوصی ایلچی ڈاکٹر قیوم سومرو صدر اور وزیراعظم کے خصوصی پیغامات لے کرمولانا فضل الرحمان کے پاس راتوںرات پہنچے تو وہ بھی غصے سے لال پیلے ہوتے مولانا فضل الرحمان کومنانے میںاپنی ناکامی پر واپس ایوانِ صدر کو لوٹ گئے۔ اگرچہ یہ درست ہے کہ مولانافضل الرحمان کا مؤقف درست ہے کہ حکومت کا رویہ اِن کے ساتھ نامناسب ہے اور حکومت نے اعظم سواتی کو یوں برطرف کئے جانے پر اِنہیںاعتماد میں نہیں لیا اِن کا کہنا ہے اِس حکومتی روئے اور بے حسی کے باعث اَب ہم مذید حکومت کے ساتھ نہیں چل سکتے۔یہاں سوال یہ پیداہوتا ہے کہ مولانافضل الرحمان نے اعظم سواتی کی برطرفی کے بعد عالمِ غصے میںجس انداز سے حکومت سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے اورجس میں اُنہوں نے صرف وزراتوں سے استعفیٰ دینے کے سِوا کچھ نہیں کیا ہے حتی کہ اُنہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اِن کی قائمہ کمیٹیوں کی چئیر مین شب بھی قائم رہے گی اور ساتھ ہی مولانا شیرانی بھی اپنے عہد ے پر فائز رہیں گے تو اِس صُورت حال میں مولانا کا حکومت سے علیحدگی کا یہ کیسافیصلہ…..؟؟جس سے حکومت پر کیا اثر پڑے گا….؟؟یہاں میراسوال کی شکل میں خیال یہ ہے کہ یہ جے یو آئی کا کوئی جذباتی فیصلہ ہے یا اِس کی کوئی اور سیاسی چالبازی…؟؟جس کے بعد جے یو آئی حکومت سے اور فوائد حاصل کرنے کے لئے کسی قسم کی ڈیل کرنے کے ساتھ ساتھ برطرف کئے گئے اعظم سواتی سمیت اپنے دیگراستعفیٰدینے والے وزرأ کوبھی بحال کرالے گی ۔