Home » Article » ہم تو ڈوبے ہیں صنم

ہم تو ڈوبے ہیں صنم

تحریر: نجیم شاہ
بالآخر حاجیوں کی چیخ و پکار نے رنگ دکھا دیا۔ حج جیسے مقدس فریضے میں کرپشن کی پاداش میں حامد سعید کاظمی کو مذہبی امور کی وزارت سے فارغ کر دیا گیا جبکہ اس کرپشن کے خلاف آواز اُٹھانے والے اعظم خان سواتی کی بھی کابینہ سے چھٹی کرا دی گئی۔ نتیجتاً حکومت کو اپنی اہم اتحادی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے ہاتھ دھونا پڑا۔ حامد سعید کاظمی کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی جبکہ اعظم خان سواتی کا جمعیت علمائے اسلام (ف) سے ہے۔ مولانا فضل الرحمن کا موقف ہے کہ اعظم خان سواتی نے اللہ کے مہمانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر کلمہ حق بلند کیا تھا ۔ اعظم سواتی کی برطرفی سے قبل جے یو آئی سے مشاورت نہیں کی گئی ۔ اس لئے جے یو آئی اس یکطرفہ فیصلے کی پاداش میں حکومتی اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کرتی ہے۔کرپشن ہماری جڑوں میں کینسر کی طرح موجود ہے۔ ہمارے سیاست دانوں نے اس مقدس فریضے کو بھی نہیں بخشا۔ کرپشن کے معاملے میں ملک پہلے ہی دنیا بھر میں بدنام ہے ۔ اب حج کے حوالے سے کرپشن کی جو کہانیاں سامنے آئیں ان بدعنوانیوں نے ملک کی بدنامی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ حامد سعید کاظمی نے سپریم کورٹ کے روبرو پیش ہو کر حج انتظامات میں کرپشن کا اعتراف کیا جبکہ سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر عمر خان علی شیرزئی نے بھی ناقص حج انتظامات کا ذمہ دار حامد سعید کاظمی کو ٹھہراتے ہوئے الزام لگایا کہ حاجیوں سے پچیس ہزار روپے فی کس کمیشن کھایا گیا ہے۔ جس کے بعد حامد سعید کاظمی کو اپنی وزارت سے خود ہی استعفیٰ دے دینا چاہئے تھا لیکن پیپلز پارٹی سے تعلق راستے کی رکاوٹ بن گیا۔اعظم خان سواتی کا تعلق پاکستان کے امیر ترین شخصیات میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی سیاست کا آغاز ضلع مانسہرہ کی ناظم اعلیٰ سے کیا۔ مانسہرہ میں ڈھوڈیال کے مقام پرہزارہ یونیورسٹی کا قیام اُن کا عظیم کارنامہ ہے ۔ اعظم سواتی بعد میں جمعیت علمائے اسلام کے توسط سے پارلیمنٹ میں پہنچ کر سائنس اور ٹیکنالوجی کی اہم وزارت کے وزیر بن گئے ۔ اعظم خان سواتی کے بقول اُن کے سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت سنبھالنے کے کچھ عزائم تھے۔ وہ اس وزارت میں رہتے ہوئے سائنسدانوں کو بہتر سکیل اور پرکشش مراعات دلوا کر سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں انقلاب برپا کرنا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لئے انہوں نے حکومت سے کئی بار استدعا کی کہ اُن کی وزارت کو تین ارب روپے کا بجٹ دیا جائے لیکن حکومت کی طرف سے اُن کی وزارت کو صرف ساٹھ کروڑ روپے دیئے گئے تھے۔ اعظم خان سواتی یہ حسرت دل میں ہی لئے وزارت سے رخصت ہو گئے۔ اگر وہ سائنس دانوںکو بہترین سکیل اور مراعات دلوانے میں کامیاب ہو جاتے تو اُن کا نام تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جاتا۔ یہی وہ مسئلہ ہے جس کی وجہ سے سائنس دان یہ ملک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ اعظم خان سواتی نے حج آپریشن میں مبینہ کرپشن اور حجاج کرام کو پیش آنے والی مشکلات پر عدالت کے ساتھ تعاون کا فیصلہ کیا تو اس جرم کی پاداش میں اُنہیں وزارت سے برطرف کر دیا گیا۔ حج انتظامات میں کرپشن سے جہاں حجاج کرام کو دشواری کا سامنا کرنا پڑا وہیں دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی بھی ہوئی۔ یوں تو پاکستان میں ہر شعبے میں کرپشن عروج پر ہے لیکن حج جیسے مذہبی فریضے میں کرپشن کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی۔ اس مبینہ کرپشن اور حجاج کرام کو پیش آنے والی مشکلات پر سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس اور کیس کی سماعت کے لئے خصوصی بنچ تشکیل دے کر عوام کے دل جیت لئے ہیں۔ جن لوگوں نے حجاج کو ذلیل و خوار کیا وہ اللہ کی پکڑ میں بھی آئیں گے لیکن دنیا میں بھی ان کی گرفت اور حساب ضروری ہے۔ اگر کرپٹ افراد کو نشان عبرت نہ بنایا گیا تو عدلیہ کا اختیار اور وقار سب کچھ سوالیہ نشان بن کر رہ جائے گا۔ایک طرف حکومت مفاہمت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جبکہ دوسری طرف اہم اتحادی جماعت نے حکومتی اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے۔ اعظم خان سواتی کی برطرفی کا یکطرفہ فیصلہ اور سندھ کے صوبائی وزیر داخلہ کا ایم کیو ایم پر برس پڑنا حکومت کیلئے مزید مشکلات کھڑی کر سکتا ہے۔ حامد سعید کاظمی کا تعلق چونکہ پیپلز پارٹی سے ہے اس لئے اُن کی حج کرپشن منظرعام پر آنا حکومت کو بالکل بھی ناگوار گزرا ۔کیونکہ اس کرپشن کے سامنے آنے سے نہ صرف اندرون ملک حکومت پر تنقید ہوئی بلکہ بیرون ممالک بھی پاکستان کی خوب جگ ہنسائی ہوئی۔ بالآخر حکومت نے حامد سعید کاظمی کو برطرف کرکے اتحادی جماعت کے وزیر کو بھی برطرف کرکے اُنہیں یہ پیغام دے دیا کہ ،ہم تو ڈوبے ہیں صنم ، تم کو بھی لے ڈوبیں گے!،