Home » Article » آئی ایس آئی کے سربراہ کی طلبی کی ہتک آمیز کوشش

آئی ایس آئی کے سربراہ کی طلبی کی ہتک آمیز کوشش

تحریر:محمد اکرم خان فریدی
قارئین! قبل اس کے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ کی امریکہ کی عدالت میں طلبی کے بارے میں کوئی رائے دی جائے آپ کے پاس اس ادارے کے بارے میں معلومات ضرور ہونی چاہئیں۔ ملٹری انٹیلی جنس(ایم آئی)،نیول انٹیلی جنس(این آئی) اور ائر انٹیلی جنس (اے آئی ) کی طرح انٹر سرسز انٹیلی جنس(آئی ایس آئی) بھی خالص عسکری نوعیت کا ادارہ ہے ۔ایم آئی،این آئی اور اے آئی تینوں اپنی اپنی سروس کے لئے خفیہ معلومات حاصل کرتی ہیں لیکن آئی ایس آئی تینوں سروسز سے متعلق معلومات اکٹھی ہی نہیں کرتی بلکہ اِس کے ماہرین اِن معلومات کا بغور جائزہ لے کر نتائج اخذ کرتے ہیں ۔یہاں تک کہ آئی ایس آئی کے ماہرین دُشمن کی نیت تک کا اندازہ لگا کر چیف آف آرمی سٹاف،ائر چیف اور نیول چیف کو آگا ہ کرتے ہیں ۔آئی ایس آئی کی بنیاد 1948ء میں برٹش آرمی آفیسر میجر جنرل (ر) کیوتھوم نے رکھی۔1950ء میں اسے قانونی طور پر پاکستان کے تحفظ کی زمہ دار ٹہرا دیا گیا ۔ جب ایوب خان پاکستان کے صدر بنے تو اُنہوں نے آئی ایس آئی کا دائرہ اختیار وسیع کر دیا جبکہ ذولفقار علی بھٹو کے دور میں اس ادارے کو انتہائی غیر اہم کرنے کی کوششیں کی گئیں ۔جنرل ضیاء الحق کے اقدار سنبھالنے کے بعد ایک بار پھر اس ادارے میں جان ڈالی گئی اور ملک میں موجود سیاسی پارٹیوں کی مانیٹرنگ کی ذمہ داری بھی اسی ادارے کو سونپی گئی۔وقت گزرتا گیا اور اس ادارے کی زمہ داریوں میں بھی گاہے بگاہے اضافہ اورکمی ہوتی گئی ۔آج آئی ایس آئی کا ہزاروں کا عملہ ایک حاضر سروس لیفٹیننٹ جنرل کے انڈر ملک و قوم کے مفادات کے تحفظ کے لئے اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر محنت کر رہا ہے۔لیفٹننٹ جنرل جوکہ آئی ایس آئی میں بطور ڈائریکٹر جنرل کام کرتے ہیں انکے نیچے تین ڈپٹی ڈائریکٹر جنرلز ،ڈی ڈی جی پولیٹیکل،ڈی ڈی جی جنرل اور ڈی ڈی جی ایکسٹرنل کام کرتے ہیں ۔جبکہ یہ ادارہ چھ سے آٹھ ڈویثر نوں میں کام کرتا ہے۔جیسے کہ جوائینٹ انٹیلی جنس بیورو(JIB)جوائنٹ کاوئنٹر انٹیلی جنس بیورو(JCIB)جوائنٹ اٹیلی جنس نارتھ(JIN)جوائنٹ انٹیلی جنس مسلینئیس(JIM)جوائنٹ سگنل انٹیلی جنس بیورو(JSIB)جوائنٹ انٹیلی جنس ٹیکنیکل(JIT) اور جوائنٹ انٹیلی جنس ٹیکنیکل ڈویثرن شامل ہیں۔آئی ایس آئی کے اب تک کے سربراہان میں میجر جنرل (ر) گوتھم،بریگیڈئیر ریاض حسین،میجر جنرل محمد اکبر خان ،لیفٹیننٹ جنرل غلام جیلانی خان ،لیفٹیننٹ جنرل محمد ریاض،لیفٹیننٹ جنرل اختر عبدالرحمٰن ،لیفٹیننٹ جنرل حمید گل،لیفٹیننٹ جنرل(ر) شمس الرحمٰن کلو،لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی،لیفٹیننٹ جنرل جاوید ناصر،لیفٹیننٹ جنرل جاوید اشرف قاضی،لیفٹیننٹ جنرل نسیم رانا،لیفٹیننٹ جنرل ضیاالدین بٹ،لیفٹیننٹ جنرل محمد احمد،لیفٹیننٹ جنرل احسان الحق،لیفٹیننٹ جنرل اشفاق پرویز کیانی ،لیفٹیننٹ جنرل ندیم تاج اور لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کے نام شامل ہیں۔قارئین!آئی ایس آئی کو وزیر داخلہ کے ماتحت بنانے کی کوشش کے بعد 2008ء میں ممبئی حملوں کے بعد آئی ایس آئی چیف کو بھارت بھجوانے کا فیصلہ ،اِن دونوں اقدامات کی ناکامی کے باوجود موجودہ حکومت کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ امریکہ کی خوشنودی کے حصول کے لئے فوج اور آئی ایس آئی کو دباؤ میں رکھا جائے ۔یہ عمل جاری رکھتے ہوئے حکمرانوں نے بہت سے ایسے اقدامات کئے جِن میں آئی ایس آئی اور ملک کے محب وطن حلقوں کی رضامندی نہ تھی۔حال ہی میں آئی ایس آئی کے سربراہ کی امریکی عدالت میں طلبی صرف ہتک آمیز ہی نہیں بلکہ انتہائی قابلِ مذمت اقدام ہے ۔ہمارے حکمرانوں کی جانب سے اِس ہتک آمیز امریکی کوشش کی کھلم کھلا مذمت نہ کرنا اِس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ وطنِ عزیز کے ساتھ زرہ بھر بھی محبت نہیں رکھتے۔ یہ امریکہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے علم میں ہے کہ آئی ایس آئی نے دہشت گردی اور طالبان کے خاتمہ کے لئے بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے اور دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں نہ صرف آئی ایس آئی بلکہ پورے پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دیتے ہوئے بے شمار قربانیاں دی ہیں لیکن افسوس کہ اسکے باوجود بھی آج امریکہ کا منفی برتاؤ سمجھ سے باہر ہے ۔افسوس در افسوس کہ امریکہ کبھی پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کی جانے والی کوششوں کی تعریف کرتا ہے اور کبھی اپنے محسن مُلک کے ساتھ منفی برتاؤ کی آخری حدوں کو چھونے کی کوشش میں مصروف نظر آنے لگتا ہے۔آج پاکستان کی حکومت نے اگر آئی ایس آئی کے سربراہ کو امریکی عدالت میں طلب کئے جانیوالے ہتک آمیز واقعہ کو نظر انداز کر دیا تو اُنہیںذہن نشین کر لینا چاہئے کہ وقت اور قوم اُنہیں کبھی معاف نہیں کریں گے۔اُنہیں چاہئے کہ وہ امریکہ سے برملا اِس بات کا اظہار کریں کہ آئی ایس آئی کے سربراہ کی طلبی انتہائی قابلِ مذمت عمل ہے ۔قارئین! یہاں میں ایک بات برے ہی وثوق کے ساتھ کہتا ہوں کہ آئی ایس آئی کے پاکستان اور اسکی قوم پر بہت احسانات ہیں اور جو قومیں احسان فراموش ہوتی ہیں وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتیں۔