Home » News » دنیا کو ہماری مشکلات اور مسائل کا ادراک کرنا چاہئے،وزیر داخلہ

دنیا کو ہماری مشکلات اور مسائل کا ادراک کرنا چاہئے،وزیر داخلہ

اسلام آباد(این این آئی)وفاقی وزیر داخلہ سینیٹر رحمن ملک نے کہا ہے کہ کوئی بھی باہر سے آکر ہمیں نہیں بچائیگاٗ کشکول پھینک کر غیر ملکی امداد کے بجائے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا چاہیےٗ قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے مستقل اور جامع حکمت عملی اختیار کر نا ناگزیر ہےٗ افغانستان میں سویت یونین کیخلاف جنگ نے ہمیں کلاشنکوف اور ہیروئن جیسے تحفے دیئےٗکئی سالوں لڑ رہے ہیںٗعالمی برادری تعاون کرےٗ دہشتگرد اسلام اور پاکستان کے خیر خواہ نہیںٗ مرضی کا اسلام مسلط کرنا چاہتے ہیںٗ خاتمہ کر کے ہی دم لینگےٗ انسداد دہشت گردی اور قانون شہادت کے قانون میں ترامیم کی ضرورت ہےٗ قوانین میں سقم کی وجہ سے اہم کیسوں کے ملزمان عدالتوں سے بری ہو جاتے ہیںٗغیر ملکی امدادی کارکنوں کے ویزوں کے مسائل حل کئے جائیں گے ۔ وہ منگل کوانٹرنیشنل ریڈ کریسنٹ کے ہیڈ آفس میں قدرتی آفات کے حوالے سے دو روزہ قومی کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب او ر شرکاء کے سوالوں کے جواب دے رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات کے حوالے سے ایس اوپیز بنانے کی ضرورت ہے اور یہ کام صرف حکومت کا نہیں بلکہ سول سوسائٹی کو بھی اس سلسلہ میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ ہر علاقے کی جغرافیائی اور دیگر ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایس او پیز بنائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے مستقل اور جامع حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان میں حالات کی خرابی کو جواز بنا کر بیرون ملک کمپنیاں اور انشورنس ادارے غیر ملکیوں کو یہاں کے سفر سے منع کرتے ہیں لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ پاکستان دہشت گردی کیخلاف جنگ میں صف اول کے اتحادی کا کردار ادا کر رہا ہے اور اگر غیر ملکی امدادی ادارے اور ان کے کارکن پاکستان نہیں آئیں گے تو یہاں کے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا۔وزیر داخلہ نے کہا کہ سوات اور مالاکنڈ میں آپریشن کے بعد آئی ڈی پیز کا مسئلہ پیدا ہوا تو حکومت، ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل اور انٹرنیشنل ریڈ کریسنٹ جیسے اداروں نے آئی ڈی پیز کی دیکھ بھال، بحالی اور دوبارہ آباد کاری کے کام کو اس احسن انداز میں سرانجام دیا کہ وہ اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ انہوں نے این جی اوز اور عالمی امدادی اداروں کی تعریف کی کہ وہ مشکل حالات اور خطرات کے خطرناک علاقوں میں جا کر خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم ایک ایسی قوم ہیں جو مشکلات کا مقابلہ کرنا جانتے ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام جیسے بہت سے امدادی اداروں کے کارکن دہشت گردی کا نشانہ بنے وہ یہاں ہماری مدد کرنے آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں کسی بھی ملک سے زیادہ قربانیاں دی ہیں، صوبہ خیبر پختونخوا کا ہر گھر دہشت گردی سے متاثرہ ہے، ملک بھر کے عوام کسی نہ کسی مشکل میں دہشت گردی کی لعنت سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ملک کی اقتصادی اور معاشی صورتحال پر اس کے گہرے اثرات ہیں۔ افغانستان میں سویت یونین کیخلاف جنگ نے ہمیں کلاشنکوف اور ہیروئن جیسے تحفے دیئے، ہم برسوں سے ان حالات کا مقابلہ کر رہے ہیں، ہماری نوجوان نسل اسی ماحول میں پلی بڑھی ہے۔ دنیا کو ہماری مشکلات اور مسائل کا ادراک کرنا چاہئے اور عالمی برادری کو ہمارے ساتھ تعاون کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد اپنی مرضی کا اسلام مسلط کرنا چاہتے ہیں وہ نہ اسلام اور نہ ہی پاکستان کے خیر خواہ ہیں۔ وہ کرائے کے قاتل ہیں اور کسی اور کیلئے کام کر رہے ہیں۔ وزیر داخلہ نے یقین دلایا کہ حکومت امدادی اداروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرے گی اور انہیں سیکورٹی اور لاجسٹک سپورٹ سمیت جس قسم کا تعاون چاہئے ہو گا فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ این جی اوز اور امدادی ادارے نہ صرف قدرتی آفات بلکہ عام حالات میں بھی معاشرے کی خدمت کر رہے ہیں اور عوام کو سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ خطاب کے بعد شرکاء کے سو الات کے جوابات دیتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ امدادی اداروں کے غیر ملکی کارکنوں کے ویزوں سے متعلقہ مسائل کو حل کیا جائے گا۔ انہوں نے اس موقع پر سیکرٹری جنرل کی سفارش پر ریڈ کریسنٹ کے غیر ملکی کارکنوں کے ویزوں میں چھ ماہ کی توسیع کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ سفارتخانوں کو ہدایت کرینگے کہ جو بھی امدادی کارکن پاکستان آنا چاہے اسے ضروری کارروائی کے بعد تین ماہ کا ویزا جاری کر دیا جائے گا۔ایک سوال کے جواب میںانہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ناکے اس لئے لگائے گئے کیونکہ مہنگے سکینرز کیلئے ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں۔ ان ناکوں کے ذریعے بہت سے ممکنہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام ہوئی ہے۔ عوام ان ناکوں پر پولیس سے تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی اور قانون شہادت کے قانون میں ترامیم کی ضرورت ہے۔ قوانین میں سقم کی وجہ سے اہم کیسوں کے ملزمان عدالتوں سے بری ہو جاتے ہیں۔ وزیر داخلہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ معذوروں کو ان کے حقوق دینے کے حوالے سے پارلیمنٹ قانون سازی کرے گی اور تمام بڑے ہسپتالوں سے منسلک بحالی مراکز قائم کئے جائیں گے۔ معذوروں کو ملازمتوں میں پانچ فیصد کوٹا دیا جائے گا۔ پنجاب کی 1122 سروس کی طرز پر دیگر صوبوں میں بھی اس طرح کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کیلئے اب وہ وقت آ گیا ہے کہ ہمیں کشکول توڑ دینا چاہئے اور غیر ملکی امداد پر انحصار کی بجائے ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا چاہئے اور اپنے وسائل پر انحصار کرنا چاہئے۔ کوئی ہمیں باہر سے آ کر نہیں بچائے گا ہمیں خود اپنے آپ کو بچانا ہو گا۔ اب ہم نے ادراک کر لیا ہے کہ ہمیں اپنے قدموں پر کھڑے ہونا ہو گا کیونکہ جس گھر کو روز قرضہ لیکر چلایا جائے اس میں خودداری نہیں رہتی۔