Home » Article » عدل و انصاف کے قیام کیلئے پانچ بنیادی اصول ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر : محمد احمدترازی

عدل و انصاف کے قیام کیلئے پانچ بنیادی اصول ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر : محمد احمدترازی

mahmedtarazi@gmail.com
ساتویں صدی ہجری کے وسط(۶۳۹ھ) کا زمانہ تھا جب مصر پر مملوک (خاندان غلاماں )کی حکمرانی تھی۔ جو محض طاقت اور قوت کی بنیاد پر قانونی ضابطوں اور فقہی احکامات اور دینی تعلیمات کو پامال کررہے تھے،اُس زمانے میں شیخ عزالدین عبدالسلام جن کا تعلق شام سے تھا کو الملک الصالح نجم الدین نے مصرکے چیف جسٹس کے اعلی ترین منصب پر فائز کیا،شیخ عزالدین عبدالسلام قانون و شریعت کی حکمرانی کو پسند کرنے والے ایک با اصول شخص تھے ،اوراُن کی دینی عظمت اور حق گوئی و بے باکی سے سب واقف تھے،چنانچہ انہوں نے اپنی تقرر ی کے بعد قانونی معالات میں مملوک ارباب اقتدار کے خلاف بڑی جرأت سے حق و انصاف کے مطابق فیصلے اور احکامات صادر کرنا شروع کئے،اُن کی عظمت کا اندازہ اہلِمصر کو اس دن ہوا جس دن انہوں نے اپنے معرکتہ العرأ فیصلے میں کہا کہ ’’امرائے سلطنت مسلمانوں کے بیت المال کی ملکیت ہیں،جب تک وہ شرعی طریقے سے آزاد نہ ہونگے اُن کے معاملات شرعاً صحیح نہیں ہیں،اور وہ عام غلاموں کے حکم میں ہیں۔’’شیخ کے اِس فیصلے سے اُن اُمرائے سلطنت جو نسلاً ترک اور غلاموں کی اولاد تھے اور مختلف جنگوں میں پکڑے گئے تھے، کے اقتدار کے ایوانوں میں ہلچل مچ گئی اور اُن امرائے سلطنت نے سلطان سے شکائت کی کہ چیف جسٹس ہمیں ذلیل کرنا چاہتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ تمہیں سرعام نیلام کیا جائے گا۔یہ شکایت سن کر سلطان نے چیف جسٹس شیخ عزالدین عبدالسلام کو اپنے دربار میںطلب کیا اور اُن سے سلطنت کی مصلحتوں اور دربار و حکومت کے وقار کا واسطہ دیکر اپنا فیصلہ واپس لینے کی درخواست کی ،مگر شیخ عزالدین نے سلطان کی خواہش کے مطابق اپنا فیصلہ تبدیل کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ شریعت کے حکم کو کسی کی خاطر نہیں بدل سکتے،انہوں نے سلطان سے صاف صاف کہہ دیا کہ وہ عدالتی معاملات اور فیصلوں میں دخل اندازی نہ کریں،اور اگر وہ نہیں مانے تو وہ چیف جسٹس کے منصب سے دست بردار ہوجائیں گے،سلطان چیف جسٹس کا غیر مفاہمانہ رویۂ دیکھ کر طیش میں آگیا اور اس نے تند و تیز لہجے میں چیف جسٹس کو برابھلا کہتے ہوئے کہا ’’آپ سلطنت کے معامالات میں دخل دینے والے کون ہوتے ہیں، جائیے مسجد میں جاکر بیٹھۓ اور اللہ اللہ کیجئے،چیف جسٹس شیخ عزالدین عبدالسلام خاموشی سے اٹھے ،گھر آئے، اپنا سامان سواری پر لادا، اہل خانہ کو ساتھ لیا اور قاہرہ چھوڑنے کے ارادے سے روانہ ہوئے، کسی نے سوال کیا جناب آپ کہاں جارہے ہیں؟، چیف جسٹس شیخ عزالدین عبدالسلام نے نہایت اطمینان سے جواب دیا ،’’کیا اللہ کی زمین فراغ نہیں ہے کہ کسی ایسی سرزمین پر رہا جائے جہاں قانون کی پاسداری نہ ہو ،جہاں اہل شریعت بے قیمت ہوجائیں،اور جہاں عدالتی نظام میں ارباب اقتدار مداخلت کریں،’’تاریخ کی کتابیں کہتی ہیں کہ چیف جسٹس کے شہر چھوڑ کرجانے کی خبر قاہرہ کے طول و عرض میں جنگل کی آگ کی پھیل گئی ۔مورخ لکھتا ہے کہ کیا عالم اور کیا عامی ،سارا قاہرہ شہر گویا چیف جسٹس کی ہم نواہی اور حمایت کیلئے امنڈ آیا۔اور اُن کے پیچھے ہولیا،علمأ ،صلحا،تاجر،اساتذہ،بچے ،بوڑھے،جوان ،مرد و خواتین سب کے سب شیخ کی حمایت میں سراپا احتجاج تھے،اور کہہ رہے تھے اگر آپ نے مصر چھوڑ دیا تو ہم بھی مصر چھوڑ دیں گے، یوں لگتا تھا کہ پورا کا پورا مصرشیخ صاحب کے ساتھ ہوگیا،اس عوامی یکجہتی اور حمایت نے حکمرانوں کو حیران وششدر کردیااور انہیں اندازہ ہوگیا کہ شیخ کے چلے جانے سے اُن کی سلطنت بھی جاتی رہے گی،چنانچہ سلطان نے عوامی تائید و حمایت کو دیکھتے ہوئے چیف جسٹس کے آگے ہتھیار ڈال دیئے۔اور اپنی گستاخی پر معافی طلب کرتے ہوئے چیف جسٹس سے گزارش کی کہ آپ خود اُمرائے کو سلطنت نیلام کرکے شریعت کے حکم کی تعمیل کریں،تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ شیخ عزالدین عبدالسلام نے ایک ایک امیر کو بڑی سے بڑی بولی پر نیلام کیا اور اُن کی قیمت وصول کرکے مسلمانوں کی ضرورت اور رفاعہ عامہ کے کاموں پر صرف کی،دنیا نے دیکھا کہ کس طرح مملوک ارباب اقتدار شیخ عزالدین عبدالسلام کے فیصلے کو ماننے پر مجبور ہوئے اور کس طرح ایک صاحب عزیمت چیف جسٹس کی جرأت و استقلال نے اسلام کے اصول حکمرانی اور نظام عدل کو نئی زندگی عطا کرکے قانون کی بالادستی ،عدالت کے وقار اور اس کی عصمت و تقدس کا بول بالا کرکے اسلامی معاشرے کی اساس اور اُس کی بنیادوں کو زندہ رکھا،آج بھی ساتویں صدی ہجری کا یہ واقعہ اسلام کے نظام عدل و انصاف کے قیام کے حوالے سے چند اہم بنیادی اصول وقاعدے متعین کررہا ہے۔جن پر عمل کرکے ہم ایک بار پھر دنیا میں ایک باوقارانصاف پسند زندہ معاشرے اور اسلامی فلاحی مملکت کا قیام عمل میںلاسکتے ہیں۔ اس واقعہ سے ہمیںسب سے پہلا اصول یہ معلوم ہوتا ہے کہ’’ ہر حالت میں قانون کی حکمرانی اور شریعت کی بالادستی قائم کی جائے ’’۔ دوسرا اہم وبنیادی اصول ہمیںبتاتا ہے کہ’’ قانون کی نگاہ میں سب برابر ہیں خواہ وہ امیر ہوں یا غریب طاقتور ہوں یا کمزور ۔’’حضور اکر م ﷺ ارشاد فرماتے ہیں ’’ماضی میںقومیں اس لیے تباہ ہوگئیں کہ وہ کمزوروں پر قانون لاگو کرتے تھے۔مگر ذی اثر قانون سے بالاتر رہتے تھے۔’’ اسلام کے نظام عدل و انصاف کے قیام کاتیسرا اہم و بنیادی اصول یہ کہتا ہے کہ ’’ ایک ایسی خودمختار عدلیہ قائم ہو جوارباب اقتدار کے اثر و رسوخ اور دباؤ سے آزادہو ۔اور جس کے کٹہروں اور فیصلوں میں حاکم وقت اور عام شہری کی حیثیت برابر ویکساں ہو۔’’چوتھا اہم و بنیادی اصول کہتاہے کہ’’ عوام کا عدلیہ اور اس کے فیصلوں پر مبنی بر انصاف ہونے کا اعتماد قائم ہواور انہیںایسا محسوس ہو کہ جج نہیں اُن کے فیصلے بول رہے ہیں۔’’اس واقعے میں موجود پانچواں اصول و قاعدہ ہمیں بتاتا ہے کہ’’ایسے ارباب اقتدارجو دستور،جمہوریت اور عدلیہ کی آزادی کی بساط لپیٹ دینے پر تلے ہوں اور جن کی تلوار میزان عدل کی تابعداری کرنے سے باغی ہو اور جو عدالت کے انصاف پر مبنی فیصلوں پر عمل درآمد سے انکاری ہوں تو پھر انصاف پسند عوام کیلئے زندہ ضمیر چیف جسٹس اور ججوں کی حمایت اورقانون کی بالادستی کیلئے اُٹھ کھڑے ہونا اورباہم منظم و متحد ہوکر جدوجہد کرنا لازم ہوجاتا ہے، کیونکہ ایسی صورت میں عوام کی قوت ہی وہ قوت رہ جاتی ہے جو حکمرانوں کو عدلیہ کے فیصلوں پر عمل درآمد کا پابند بناتی ہے اور نظام عدل وانصاف اور اداروں کوحکمرانِ وقت کے دستِ بردسے محفوظ رکھ سکتی ہے۔’’ آج کسی بھی قوم اور معاشرے میں امن وسلامتی اور اُس کی بقاء کیلئے اِن پانچ بنیادی اصولوں کا موجودضروری ہے۔دنیا نے دیکھاجب تک اسلامی نظام عدل و انصاف کے یہ سنہری اصول ہماری میراث رہے،مسلمان قوم اور معاشرے پھلتے،پھولتے رہے،ترقی و کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتے رہے، اسلام بلاد عرب سے نکل کر شرق سے غرب تک غالب ہوگیا،کئی صدیوں تک اسلام کے اُس نظام عدل و انصاف کا ڈنکا بجتا رہاجس نے خلفائے راشدین کے بعد بھی بیسیوں حکمرانوں کو ملزموںکے کٹہرے میں لاکھڑا کیا،یہ اسلام ہی کا نظام عدل تھا جس نے انصاف قائم کرکے دنیا کو امن وسکون کا گہوارہ بنادیا،مگر افسوس اسلام کے دیگر سنہری اصولوں کی طرح آج ہمارا نظام عدل بھی اغیار کے پاس دکھائی دیتاہے،اسلامی مملکتیں اور انحطاط کا شکارہمارے معاشرے عدل و انصاف اور قانون کی بالادستی سے محروم ظلم و جبر،اقرباء پروری،بدعنوانی اور کرپشن جیسے ناسوروں سے سڑ رہے ہیں،آج ہمارے پاس مظلوم کی پہنچ سے دور خوبصورت بلند و بالا عدالتیں،جج ،ریڈر،ہرکارے،وکیل اور موٹی موٹی قانون کی کتابیں رہ گیئں،سچ کہا ہے کسی نے کہ انصاف اونچی اونچی عمارتوں اور قانون کی موٹی موٹی کتابوں کا محتاج نہیں ہوتا، بلکہ قوم اور معاشروں میں انصاف کے قیام کیلئے اِن پانچ بنیادی اصول و قواعد اور شیخ عزالدین عبدالسلام جیسے زندہ ضمیر ججوں کی ضرورت ہوتی ہے۔آج وطن عزیز میں موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری وہ باکردار اور انصاف پسند جج ہیں ،جو اسی روایت کو زندہ کئے ہوئے ’’جسٹس فار آل ’’کیلئے سرگرم عمل ہیں اور ان کے اقدامات کے ثمرات آہستہ آہستہ قوم کے سامنے آرہے ہیں، چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور دوسرے معزز جج صاحبان قوم کی اُن لازوال قربانیوں کا احساس کرتے ہوئے عدلیہ کو ایک باوقار، آزاد ،بلاتاخیر، بلاتفرق اور سستا انصاف فراہم کرنے والا ادارہ بنانے کے لئے کوشاں ہیں، اگریہ سفر اسی طرح خلوص نیت کے ساتھ جاری رہا تو امید کی جاسکتی ہے کہ بہت جلد عوام کا عدلیہ پر مکمل اعتماد بحال ہوجائے گا،چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور دوسرے اعلیٰ ججز کی ان کوششوں اور اقدامات کو پوری قوم احترام کی نظروں سے دیکھتی ہے اور یہ امید بھی کرتی ہے کہ عدلیہ کو اب ایک باوقار اور آزاد ادارہ بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے تاکہ قوم کو بلاتفریق آسان اور سستا انصاف فراہم ہو،یہ ایک حقیقت ہے کہ جس ملک اور جس قوم کے انصاف فراہم کرنے والے ادارے مضبوط، غیر جانبدار اور آزاد ہوتے ہیں، وہ ملک و قوم مضبوط اور خوشحال ہوتی ہے،یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ باوردی اور جمہوری حکمران نے یہ کوشش کی کہ عدلیہ اُن کے ماتحت ہو اور عدلیہ کا کام صرف اِس قدر ہو کہ اُس کے ہر جائز و ناجائز اقدام کے لئے تحفظ فراہم کرے ،یہ بات اب کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ماضی کے حکمرانوں نے عدلیہ کو اپنے ماتحت کرنے اور اپنے جائز و ناجائز اقدامات اور اقتدار کو دوام بخشنے کے لئے ملک و قوم کے ساتھ کس قدر بھیانک مذاق کیے، لیکن اب امید کی ایک کرن پیدا ہوئی ہے کہ عدلیہ کو اس کا مقام دلانے کے لئے قوم نے جو لازوال قربانیاں پیش کی ہیں اس کے نتیجے میں آئندہ کسی حکمران کو یہ جرأت نہیں ہوگی کہ وہ آزاد عدلیہ کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرے۔