Home » Article » دھماکے ،ملزمان،نامعلوم مقام ، تفتیش اور نتائج ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:خورشید الزماں عباسی

دھماکے ،ملزمان،نامعلوم مقام ، تفتیش اور نتائج ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:خورشید الزماں عباسی

لاہور میں تباہ کن دھماکے سے پولیس کی ایمرجنسی سروس پندرہ کی عمارت تباہ کر دی گئی تین سو سے زائد افراد زخمی اورجب تک یہ سطور شائع ہوں گی ایسا لگتا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد پینتیس سے دوگناہو چکی ہو گی ۔ سوات آپریشن کے منفی اثرات نے بلاشبہ اپنے نتائج ابھی دکھانے ہیں ۔ہماری تجزیاتی سوچ کیلئے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ جب کسی کی ایماء پر ہنگامی فیصلہ کر کہ اقدامات اٹھائے جاتے ہیں تو پھر اس طرح کے نتائج کا بہرحال سامنا کرنا پڑتا ہے ۔بہتر حکمت عملی کو جب ایسے اقدامات کرتے وقت زیر غور نہیں لاؤ گے تو حالات پھر اسی طرح کی صورتحال اختیارکیا کرتے ہیں ۔سوات آپریشن اور دہشت گردی کے خاتمہ کے حوالہ سے میں نے ذاتی طور پر اپنے بے شمار کالموں میں بھرپور حمایت کی ہے اور اس حوالہ سے قارئین نے خوب حوصلہ آفزائی بھی کی مگر چند پیشہ صحافت سے تعلق رکھنے والوں نے تنقید کر کہ میر ی مخفی سوچ کو بیدار کر نے کی کوشش بھی کی اصل حقیقت یہ ہوتی ہے کہ لکھنے والا لکھنے والے کی تحریر کو ہمارے معاشرے میں صرف تنقید کے نقطہ نظر سے پڑھتا ہے جبکہ قارئین صرف معلومات کی حد تک مگر یہ روایت صرف اور صرف ہمارے ملک میں پائی جاتی ہے ۔ میر ے پڑھنے والے اگر میرے گزشتہ کالموں کا ان سطور سے تقابلی جائزہ لیں تو انہیں میری تحریر کا جھکاؤ کہیں بھی صرف یکطرفہ نظر نہیں آئے گا ۔سوات آپریشن میں فوج کی حوصلہ افزائی کے ساتھ میں نے کئی منفی پہلو بھی واضح کیئے جو کہ آن ریکارڈ ہیں ۔بیرونی سازشوں کا بھی ذکر کیا اوران کی ایماء پر ملک میں کام کرنے والے ان کے سیاسی ایجنٹوں کا تذکراہ بھی ،فوج کی حمایت بھی کی اور انہیں مشورہ بھی دیا ۔سیاستدانوں کی مخالفت بھی کی اورانہیں اصلاح وطن کا درس بھی دیا ۔بلکہ ملکی دفاع کیلئے نئے اور سنجیدہ مگر سخت گیر قوانین وضح کرنے کے مشورے بھی دیئے ۔ملک کی ساری سیاسی جماعتوں کو ای میلز بھی کر کے متوجہ کیا کے یہ تجاویز ہیں ۔اگر کوئی کار آمد نظر آئے تو عمل کرو مگر کسی ایک سیاسی جماعت نے بھی حب الوطنی کا مظاہرہ ای میل کے جواب میں نہیں دکھایا جو ایک دو جواب آئے وہ بھی ایسا لگا کہ انہیںشائد قومی زبان اردو پڑھنے میں دشواری ہے یا میرے سمجھانے کا انداز ٹھیک نہیں البتہ ہماری ان تجاویز کو میرے قارئین نے بھرپور طریقے سے سرہا جن کی اچھی خاصی تعداد ہے سب سے خود صورت اورلاجواب ای میل ان تجاویز کے حق میں ایک دوست نے دی کہ کن سیاستدانوں کو یہ تجاویز دے رہے ہو یہ تو ان کیلئے زہر کا درجہ رکھتی ہیں ۔ہمارے ملک کے سیاستدان تو اغیار کے مشن پر عمل درآمد کرنے والے لوگ ہیں ۔بہر حال موذن کا کام اذان دینا ہوتا ہے نماز کے لیے کوئی آئے یا نہ آئے خود مختار ممالک کی سیاسی قیادت وہی ہو اکرتی ہے ۔جو ملک کو مشکل حالات سے نکالتی ہے ۔ملکوں کی سیاسی تاریخ انہیں لمحات کو سنہری حروف سے لکھا کرتی ہے ۔آئیں آج دھماکے ،ملزمان، نامعلوم مقام، تفتیش اور نتائج کے حقائق پر نظر ڈالیں کہ اس کے پس پردہ کیا حقائق کارفرما ہیں ؟ملک میں فاطمہ جناح ، لیاقت علی خان ، ذوالفقار علی بھٹو ، ضیاء الحق ، پاک ایئر فورس کے چیف مارشل اور بے نظیر بھٹو کی ہلاکتوں کے حقائق آج تک قوم کیلئے سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں ۔مانا ان کے قتل میں امریکہ ہی کو موردالزام ٹھہرایا گیا مگر میں نہیں مانتا اس لیئے کے اگر اندرون ملک سے ان رہنماؤں کے قتل میں اندرونی ہاتھ ملوث نہ ہوتے تو کوئی بھی ان رہنماؤں کو اس طرح قتل کرنے کا منصوبہ کیسے بنا سکتا تھا ۔کسی نے آج تک اتنی جرات کی ہے کہ ان رہنماؤں کے قتل کی حقیقت کو سامنے لائے ہمارے ملک میں سیاسی انتقام ،سازشوں اورقتل گری سے لیے جانے کی بڑی گندی روایت ہے ۔ضیاء الحق نے اپنے اقتدار کیلئے ذوالفقار علی بھٹو کو دوسروں کی ایماء پر قتل کر دیا اور خود کرسی اقتدار پر براجمان ہوگیا ۔ ضیاء الحق قتل ہوا تو اعجاز الحق کو سیاست میں لا کر حقائق دبادیئے گئے ۔بھٹو کے خون کے صلہ میں بے نظیر کو اقتدار مل گیا۔ بے نظیر کے خون کا صدقہ آصف علی زرداری کو اقتدار مل گیا یہ کیا ہے ؟ان شخصیات کے قتل کے حقائق کیلئے غیر ملکی اداروں سے تحقیقات کروائی گئیں مگر نتائج پر خود انہی شخصیات کے ورثاء نے کبھی زور نہیں دیا کہ وہ قوم کے سامنے لائے جائیں گویا مذکورہ شخصیات کے خون کے اصل دشمن تو ان کے اپنے ورثاء ثابت ہوئے اس میں امریکہ یا کسی دوسری قوت پر تو الزام ہی لگانے والی بات ہوئی۔ جب اپنے ہی خاندان کے ورثاء ہی اپنوں کے خون کے پیاسے ہوں اوران کے خون کے صلہ میں اقتدار کو ترجیح دیں تو دھماکے ،ملزمان ،نامعلوم مقام، تفتیش اورنتائج اسی طرح گول مول کر دیئے جاتے ہیں۔ جن کا ریکارڈ ہمارے ملک کی 62 سالہ تاریخ میں بھرپور طریقے سے خفیہ خانوں میں محفوظ چلا آرہا ہے ۔ توایسے میں جب سارے ملکی وسائل پر زرداری کا قبضہ ہے ۔سارے حکومتی ادارے ان کے کنٹرول میں ہیں۔ تو بے نظیر بھٹو کے قتل کے حقائق کی رپورٹ کو منظر عام پر لانے میں قصوار قاتل ہیں یا صدر زرداری۔ کیا کوئی ذی شعور اس حقیقت کو تسلیم کرنے کو تیار ہے کہ بے نظیر قتل کے حقائق پاکستان کی موجودہ حکومت کیلئے پاکستانی قوم کے سامنے لانے مشکل ہیں ،تو پھر یہ حقیقت ہے ناں کہ دھماکے ،ملزمان، نامعلوم مقام ،تفتیش اور نتائج سراسر ایک ڈرامہ ہے ۔ اسی طرح پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے جرم میں گرفتار شدگان کا آج تک کسی ایک کیس میں بھی ملوث ہونے کے حقائق منظر عام پر لائے گئے جواب ہے ،،جی نہیں،، ایسا نہیں ہوا تو یہ کام پاکستانی حکومت اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کا ہے یا اس میں بھی امریکہ کا قصور ہے ۔،،جواب جی ہاں،، ملکی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ہے تو پھر کیا اس کام کیلئے امریکہ کو مخلص ہونے کی ضرورت ہے یا پاکستان حکومت اور اس کے ذیلی اداروں کی، جواب ہے پاکستان کی حکومت اوراس کے ذیلی اداروں کا کام ہے ۔کیا گزشتہ 62 سالوں سے ہمارا میڈیا ہر دہشت گردی کے واقعہ کے بعد یہی رپورٹ نہیں دیتا کہ پولیس نے واقعہ میں ملوث افراد کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر کے تفتیش شروع کر دی ہے ۔پھر آج تک اس تفتیش کے کسی ایک واقعہ کے حقائق کبھی قوم کے سامنے آئے یا لائے گئے ہیں ۔جواب ہے ،،جی نہیں ،، خدا کیلئے یہ بتایا جائے یہ نامعلوم مقام ہے کیا ؟یہ ملزمان کہاں چلے جاتے ہیں ؟یہ تفتیش او ر اس کے نتائج کہاں دفن کر دیئے جاتے ہیں ؟