Home » Article » سیکولرزم کے علمبردار اور اسلامی نظام۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:ڈاکٹر شبیر احمد خور شید

سیکولرزم کے علمبردار اور اسلامی نظام۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:ڈاکٹر شبیر احمد خور شید

03333001671
shabbir4khurshid@gmail.com
اس وقت مجھے بے انتہا حیرت ہوئی جب میں نے یہ خبر سنی کہ باچا خان کے حامی اور اس کے نظریات کے علمبردار وں نے سوات میں نفاذ شریعت محمدی پر اتفاق کر لیا ہے۔ اور وہ علاقے میں شریعت محمدی نافذ کر نے پر آمادہ ہو گئے ہیں ۔باچا خان کی شخصیت اور ان کے نظریات سے کون پاکستانی ہے جو واقف نہیں ہے؟ باچا خان شروع سے ہی اینٹی پاکستان اور اینٹی قائد اعظم رہے تھے۔وہ کونسا موقعہ تھا جب انہوں نے پاکستان اور اسکی اول درجے کی قیادت اور پاکستان کی بانی جماعت مسلم لیگ کی مخالفت نہ کی ہو؟وہ تو ایک شاطر ہندو رہنما مسٹر ایم کے گاندھی کے ہمیشہ ہی پیروکار رہے تھے۔ وہ اس بات پر بھی فخر محسوس کرتے تھے کہ لوگ انہیں سرحدی گاندھی کے نام سے پکاریں۔ سرحدی گاندھی نے کانگر س کی پالیسیوں کو ہمیشہ فیور کیا اور ہمیشہ پاکستان کی مخالفت کی۔حتیٰ کہ تقسم ہندوستان کے موقعے پر سرحدی گاندھی نے یہاں تک کہا کہ ۔۔’’اگر تقسیم کے موقعے پر کانگرس نے خدائی خدمت گاروں کو مسلم لیگی بھیڑیوں کے سامنے ڈالدیا تو وہ اسے کانگرس کی غداری کہیں گے۔اندازہ کیجئے جو شخص قائد اعظم اور ان کی جماعت کے لوگوں کو بھیڑیئے کہہ رہا ہووہ کس کی نمک خواری کا حق ادا کر رہا تھا؟یہ اسلام اور پاکستان کے دشمن آج کیسے پاکستان کے خیر خواہ ہو سکتے ہیں؟ حد تو یہ ہے کہ جب 1947 میں صوبہ سرحد کو پاکستان میں شامل ہونے یا نہ ہونے کے سوال پر ریفرنڈم ہوا توسرحدی گاندھی نے پاکستان کی کھل کر مخالفت کی۔ لوگوں کو گھر گھر جا کر ورغلانے کی کوشش کی کہ وہ پاکستان کے حق میں ووٹ نہ ڈالیں ۔باچا خان اسفند یار ولی کے دادا نے اس موقعے پر کھل کر پاکستان اور قائد اعظم کی مخالفت کی۔ یہ نہرو اور گاندھی کے ساری زندگی ہمنوا رہے جب تک وہ زندہ رہے پاکستان کی مخالفت سے دستبردار نہ ہوے۔ سرخ پوش رہنما نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ وہ پاکستان میں صوبہ سرحد کی شمولیت نہیں چاہتے ہیں۔ ڈیورنڈ لائن انگریز کی بنائی ہوئی سرحد ہے ہم اس سرحد کو نہیں مانتے۔ہم آزاد پختونستان چاہتے ہیں یہ ہمارا حق ہے جو کوئی ہم سے نہیں چھین سکتا ہے۔ انہو نے کشمیر کاذ کی کبھی حمایت نہ کی ۔یہ لوگ بھارتیوں سے زیادہ بھارت کے وفا دار تھے۔یہی وجہ تھی کہ سرحد کے لوگوں نے انہیں کبھی منہ لگایا ہی نہیں تھا۔ یہ تو بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا کہ یہ لوگ سرحد میں اس قابل ہوے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ حکومت سازی کرنے میں کامیاب ہوگئے۔مذہبی لوگوں کی خود غرضیوں اور نا اتفاقیوں کی وجہ سے جماعت اسلامی جیسی صوبہ سرحد کی بڑی جماعت الیکشن سے باہر رہی اور لال مسجد آپریشن پر مولوی فضل الرحمان کی دوغلی پالیسیوں کی وجہ سے سرحد کے لوگوں کے پاس کوئی چوئس نہ تھی ۔جس کے نتیجے میں سرحد میں اے این پی حکومت سازی کے قابل ہوئی۔ باچا خان اور ان کی سرخ پوش جماعت اپنے آپ کو سیکولرزم کا حامی کہتے رہے ہیں جواسلامی نظام کے انتہائی مخالفین میں سے ہیں۔ انہوں نے تو ہمیشہ مذہب کی مخالفت کی تھی۔یہ لوگ کمیونزم کے حامی تھے ان کامغرب سے بھی جھگڑاپاکستان کی طرح ہی رہا ہے۔ جب روس نے افغانستان میں جارحیت کا ارتکاب کیا تو یہ لوگ روس اور بھارت کے شانہ بشان کھڑے تھے۔ اے این پی جو کل تک امریکی سامراج کی مخالف تھی ۔آج نہیں سمجھ آرہی ہے کہ یہ ڈالرز کی جھنکار سے کیوں کراس قدر مرعوب نظر آرہی ہے اور کیوں کر امریکی ایجنٹ کا کر دار ادا کر رہی ہے؟آج یہ فاششٹ پارٹی کے لوگ جو کل تک مغرب اور خاص طور پر امریکہ کے شدید مخالف تھے کیسے امریکہ اور مغرب کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں؟ لگتا یوں ہے کہ اصول وصول ،نظریہ وظریہ کچھ نہیں سب کچھ مفادات کا معاملہ ہے۔کل تک ان کی حرکتوں کی وجہ سے امریکہ نے انہیں منہ نہیں لگایا تھاتو یہ سیکولر تھے اور امریکی سامراج کے مخالف تھے اور آج یہ ہی سیکولرزم کے حامی سامراجی ایجنڈے پر عمل پیرا ہوکر اسی سامراج کے ایجنٹ بنے ہوے ہیں۔ قوم کے ہر با شعور فرد کو اس وقت انتہائی استعجاب کا احساس ہوا جب یہ خبر سنی گئی کہ اے این پی اور اس کے تمام رہنما صوفی محمد کے نفاذ شریعت محمدی کی بڑھ چڑھ کر حمایت کر رہے ہیں ۔دل مانتا نہیں تھا کہ یہ سیکولر لوگ کیونکر اسلام کے حامی ہوسکتے ہیں؟ ان لوگوں کو تو جیسے مذہب سے چڑ ہوتی ہے۔ان کے اس ایجنڈے پر عمل پیرا ہونے سے قبل ہی امریکہ بہادر کے تمام ہی لوگ کہہ رہے تھے کہ پاکستان میں دو ہفتے کے اندر بڑی تبدیلی آئے گی۔ عام لوگ یہ سمجھ بیٹھے کہ نا اہل حکمرانوں کے دن گنے جا چکے ہیں۔ چلیئے این آر او زدگی کے ماحول سے تو قوم کو چھٹکارا ملے گا۔کہ اچانک ہی روسی ایجنٹ امریکی لابی کے ہم نوا بن گئے اور پھر کیا تھا پاکستان کی سیکولر لابی کے لوگوں نے نفاذ شریعت کے گُن گانے شروع کر دیئے ساری دنیا انگشت بدندان تھی کہ یہ انقلاب آیا کیسے؟ مچھلیاں فضاء میں اڑنے لگیں اور پرند چرند سمندروں میں بسیرا کرنے پر مبارک بادیاں وصولنے لگے….! اور مزیدار بات یہ ہوئی کہ صدر زرداری جیسے امریکہ نواز اور سوشلزم کی حامی پارٹی کے سربرہ نے بھی اس معاہدے کی توسیق بلا چوں وچرا کردی ۔جس پر پاکستانی قوم اور بھی حیرت زدہ تھی کہ خدایا یہ پاکستان میں معجزے پر معجزے کیسے رونما ہو رہے ہیں؟ اب تو لگتا ہے کہ سارا پاکستان اسلام کی آماجگاہ بن جائے گا اور نظریہِ پاکستان کی عملی شکل اس مملکت خداداد میں دیکھی جا سکے گی۔شاید اے این پی والے اپنیسیکولرزم کے نعرے سے بہر نکل آئے ہیں۔ اے این پی کے حوالے سے اُس وقت جب یہ ابھی نئی نئی صوبائی مقتدر بنی تھی کہ اس کے ایجنڈے کی ایک بہت ہی اہم بات سامنے آئی تھی ۔ انہوں نے حکومت سازی کرتے ہی پورے صوبہ سرحد میںباقاعدہ گریٹر پختونستان کے بینرز آویزاں کروا دیئے تھے ۔ یہاں یہ دیکھنا مقصد تھا کہ لوں کا اور مرکزی حکومتی ٹو لے کا اس پر کیا reaction ہوتا ہے۔جب ملک میں ان بینرز پر آواز اٹھی تو اے این پی نے ساری قوم کی آنکھوں دھول جھونکنے کی کوشش کی اور کہا کہ یہ کام ان کا نہیں ہے اور بات آئی گئی ہو گئی۔اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا جو کھیل اے این پی امریکہ اور اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مل کر کھیل رہی ہے ۔ وہ پاکستان کو توڑ کر اس میں امریکیوں کی خواہش کے مطابق گریٹر پختونستان کا گیم ہے۔ انہوں نے صو بے میں اچانک ڈرامائی انداز میں آپریشن اس لئے شروع کرایا کہ جب لوگ فوج کے ہاتھوں تباہ ہونگے تو لوگوں میں فوج سے نفرت پیدا ہوگی اور لوگ پریشانی کے عالم میں فوج کے خلاف بنگالیوں کی طرح ہتھیار لیکر کھڑے ہوجایئں گے اور اس طرح ڈیورینڈ لائن کو سرحد نہ ماننے والوں کے ایجنڈے کی تکمیل با آسانی ہو جائے گی۔ جس میں پاکستان کے ازلی دشمنوں کی انہیں مکمل آشیر واد حاصل ہوگی اور ضرورت ہوئی تو وہ ماضی کے کھیل کو دوبارہ دہرا سکتا ہے۔ وہ تمام لوگ جو قرآن کے حکمِ جہاد کے مخالف ہیںان میں بڑی بڑی داڑیوں والے بھی ہیں جنہوں نے جہاد سے فرار کا راستہ جہادِ بل نفس میں تلاشا ہوا ہے ۔وہ اس خطرناک فوجی آپریشن کی حمایت میں رطب اللسان ہیں۔ وہ تمام لوگ جانے ان جانے میں پاکستان کی تخریب میں شامل ہیں ۔ انتہائی دکھ کی بات یہ ہے کہ لاہور کی علماء و مشائخ کانفرنس میں سوات کے ایک باچاخان کے حامی بے غیرت سیکو لر اور پاکستان مخالف مولوی نے بانیِ پاکستان کے خلاف اپنی گندی زبان استعمال کر کے یہ ظاہر کر دیا کہ یہ لوگ کس کے ایجنڈے کی تکمیل میں مصروف ہیں۔ اس قسم کے تمام لوگ پاکستان میں اپنے اپنے ایجنڈے کی تکمیل کی خاطر یہاںانسانوں کا بے تحاشہ خون بہانے کے لئے فوجی ٹولے کو موٹیویٹ کرنے میں مصروف ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں نے بھی باچا خان کے لب ولہجے میں ہی اپنی کانفرنس میںباتیں کیں۔ گریٹر پختونستان کے حامیوں نے صدر زرداری کی کمزور مگر بظاہر بھر پور مینڈیٹ کی حامل پیپلز پارٹی کی حکومت میں شمولیت کے بعد انپے پرانے منصوبے گریٹر پختونستان کی تکمیل کے کام کا بھر پور انداز میں آغاز کر دیا ہے۔ موجودہ آپریشن در اصل پاکستان کو کمزور کرنے کی سازش ہے۔ کہ اچانک لوگوں کو بے خانماں کر کے ہماری فورسز کوئی قابل تعریف کارنامہ انجام نہیں دے رہی ہیں ۔یہ جو کچھ مشرقی پاکستان میں کر چکے ہیں وہ ہی اس بقیہ پاکستان میں بھی کرنے کی تیاریاں تکمیل کو پہچا رہے ہیں۔ لگتا یوں ہے کہ ہم میں دشمنوں سے لڑنے کی سکت تو ہے نہیں لہٰذا اپنے لوگوں پر ہی طبع آزمائی کی جائے۔ملک میں فوجیں سرحدوں کی حفاظت کے لئے ہوتی ہیں ۔ملک پر حکمرنی اور اپنے لوگوں کو بے گھر اور برباد کرنے کے لئے نہیں ہوتی ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں نا جنہوں نے کا پاکستان کے دو مرتبہ آئین شکن کو گارڈ آف آنر پیش کر کے اس سرزمین سے رخصت کیاتھا….! کوئی روکو انہیں کہ پاکستان بڑی قربانیوں کے نتیجے میں وجود میں آیا تھا۔ ایک اخبار میں یہ واقعہ پڑھ کر میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی تھی سوات کے ایک گاؤں کے رہائشی نے بتایا کہ وہ بمباری سے گاؤں کی تباہی میں معجزانہ طور پر بچ گیاتھا۔ اس کا کہنا تھا کہ ہم گاؤں کے لوگ ہر شخص کو جانتے ہیں اگر کوئی نیا شخص گاؤں میں داخل ہوتا ہے تو سب کو علم ہوجاتا ہے۔ کہ کوئی باہر کا شخص گاؤں میں موجود ہے۔ ہمارے گاؤں میں کوئی ایک فرد بھی باہر کانہ تھا اور نہ ہی یہاں کوئی طالبان تھے۔ تو فوج نے بمباری کر کے ہمارا پورا گاؤں کیوں تباہ کر دیا؟گاؤں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ ہمیں بتایا جائے کہ ہمارا قصور کیا تھا۔ ہمارے گاؤں کو کن نا کردہ گناہوں کی پاداش میں مٹی کا ڈھیر بنا دیا گیاہے؟ اسی قسم کے حالات مشرقی پاکستان میں پیدا کرانے کے بعد بڑی تعداد میںبنگالیوں کے بھیانک قتل وغارت گر ی اور نقل مکانی کئے جانے کے بعد بھارت نے پاکستان کو دو لخت کرنے میں ذرا بھی دیر نہ لگائی تھی۔اور پھر یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی بھی نہیں ہے کہ کانگرس اور سرخ پوشوں کے روابط بہت پرانے چلے آتے ہیں۔ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ گذشتہ 62 سالوں میں کبھی بھی سرحد کے لوگوں نے سرخ پوشوں کو منہ نہیں لگایا تھا۔ سرحد کے لوگ نہایت ہی دیندار اور پکے پاکستانی ہیں۔یہاںپر مذہبی لوگوں کی نا اتفاقی اور نااہلی کی وجہ سے ان پاکستان مخا لفوں کو راستہ مل گیا ہے۔بھارت امریکہ اور مغرب کے انتہا پسند عیسائی اور یہودی بھی کوئی پاکستان کو بر قرار نہیں دیکھنا چاہتاہے۔ان سب کی نظریں ہمارے ایٹمی اثاثوں پر لگی ہوئی ہیں۔ وہ پاکستان کو کمزور کر کے طالبان کا بہانہ بناکر اس کے ایٹمی اثاثوں پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں ۔اس میں غلام احمد کا ٹولہ جو ہمارے ہر ادارے میں طاقتور ہے ان کا ہمنوا ہے۔اﷲپاکستان اور اسکے اثاثوں کی حفاظت فرمائے۔