Home » News » نئی خارجہ پالیسی،حکومت کی سفیروں سے مشاورت

نئی خارجہ پالیسی،حکومت کی سفیروں سے مشاورت

  • Publish on December 13, 2011 in News
  • |
  • by admin

نیٹو حملے اور بون کانفرنس سے بائیکاٹ کے بعد پاکستان کی خارجہ پالیسی کے نئے جنم کے آثار پیدا ہو چکے ہیں۔ سرکار کی پندرہ اہم ترین ملکوں میں تعینات سفیروں کیساتھ مشاورت جاری ہے۔نیٹو حملوں کے بعد خارجہ پالیسی کا ازسرنو جائزہ لینے کے لیے اہم ممالک میں تعینات پاکستان کے سفیرں کی دو روزہ کانفرنس اسلام آباد میں جاری ہے۔ کانفرنس کے پہلے روز افتتاحی اجلاس کی صدارت وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی برادری کا ساتھ دیتے ہوئے اپنی بساط سے کہیں بڑھ کر اپنا کردار ادا کیالیکن اس جنگ میں قومی وقار اور خودمختاری پر حملے کی صورت میں قابل برداشت نہیں۔ عوامی امنگوں اور قومی مفادات کے مطابق خارجہ پالیسی کی تشکیل اب ناگزیر ہے۔اجلاس میں عسکری حکام نے قومی سلامتی کو درپیش حالات اور علاقائی صورتحال پر بریفنگ دی۔اس موقع پر کانفرنس میں شامل سفیروں نے اپنی سفارشات پیش کیں۔ ان سفارشات کے مطابق ایک مسودہ تیار کرتے ہوئے اجلاس کے دوسرے روز زیر بحث لایا جائے گا۔ اختتامی سیشن میں تجاویز کو حتمی شکل دی جائے گی۔ خارجہ پالیسی کی تشکیل نو کے حوالے سے اراکین پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ حکومت کو کچھ عرصہ پہلے یہ کام کرلینا چاہیے تھا۔ سفیروں کی دو روزہ کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو صدارت کی دعوت دی گئی ہے۔