Home » Article » اقوام متحدہ کے بہلاو ے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:محمداعظم عظیم اعظم

اقوام متحدہ کے بہلاو ے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:محمداعظم عظیم اعظم

29مئی آیااور خاموشی سے کسی چور کے مافق دبے پاؤں گزرگیا کسی کو یہ احساس ہی نہیں ہواکہ یہ دن کتنا اہم تھانہ کہیں ہچل ہوئی نہ شوروغل برپاہوا اورنہ فسلطین سے اسرائیلی مظالم ختم ہونے اور اسے آزاد کئے جانے کی اور نہ ہی کشمیر سے بھارتی افواج کا انخلا شروع ہونے کی کو ئی خبر آئی اور نہ کوئی نوید سنائی دی ۔؂اس لئے کہ29مئی کو اقوام متحدہ نے امن کوششوں کا عالمی دن منانے کااعلان کیاتھاکہایہ جارہاتھاکہ یہ دن منانے کامقصد عالمی سطح پر قیام امن کے لئے کی جانے والی کوششوں کی اہمیت کو اجاگر کرناتھا جبکہ دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ اقوام متحدہ ایک بے بس ادارہ بن کررہ گیا ہے۔ کیوں کہ یہ ادارہ اپنی جیسی تیسی کوششوں کے باوجود نصف صدی سے بھی زائد کا عرصہ گزرجانے کے باوجود بھی اب تک دنیا کے متعدد خطوں باالخصوص فلسطین اور کشمیر میں اسرائیلی اور بھارت کی ہٹ دھرمی ختم کرنے اور ان دونوں خطوں میں عوام کو حق خودارادیت دلانے اور قیام امن میں بھی بری طرح ناکام رہاہے۔دنیایہ بھی جانتی ہے کہ فلسطین کا امن مشن 61برس یعنی1948سے جاری ہے اور جبکہ کشمیر کا مسلہ بھی کوئی نیانہیں ہے کشمیر میںبھارتی فوج کے ناپاک قدم بھی 62برس قبل 1947میں پڑے یوں تب ہی سے کشمیر کاامن و سکون تہس نہس اور برباد ہے اور بدقسمتی سے ان دونوں خطوں میں اقوام متحدہ کا ادارہ بھی امن کا قیام عمل میں نہیں لاسکا اس سارے عرصے میں ان خطوں سے لاکھوں شہری بھی بدامنی کے باعث ہجرت کی اورلاکھوں شہیدہوچکے ہیں. اقوام متحدہ کے ایک اندازے کے مطابق امن کوششوں کے حوالے سے پاکستان بدستور سرفہرست ہے اور ملک10626اہلکار امن مشن کے لئے اپنا کردار اداکررہے ہیں جبکہ 9220اہلکاروں کے ساتھ بنگلہ دیش دوسرے ،8617اہلکاروں کے ساتھ بھارت تیسرے، 5792اہلکاروں کے ساتھ نائجیریا چوتھے اور3856کے ساتھ نیپال پانجویں نمبر پر ہے۔یہاں غور طلب پہلو یہ ہے کہ دنیابھرمیں امن مشن پر کام کرنے والے ادارے کی اتنی کوششوں کے بعد بھی امن کا قیام عمل میں نہ آنا قابل افسوس ہی نہیںبلکہ باعث ندامت بھی ہے جبکہ امن مشن میں معاونت کے حوالے سے پہلے 5ممالک میں سے 4ممالک سارک ممالک میں بھی شامل ہیںیوں ان ممالک کے 32319اہلکار امن مشن کے لئے اقوام متحدہ کی فورس میں35فیصد اہلکاروں کاتعلق سارک ممالک سے ہے۔جبکہ اہلکاروں کی معاونت کے حوالے سے 96اہلکاروں کے ساتھ امریکا67ویں نمبر پر ہے اور اسی طرح برطانیہ 290اہلکاروں کے ساتھ43ویںنمبر پرہے جبکہ پاکستان کے کل 10626اہلکاروں میں 9840فوجی اہلکار شامل ہیںاور اسی طرح ان میں662پولیس اور124ملٹری آبزروشامل ہیں مالی معاونت کے حوالے سے 10بڑے ممالک میں امریکا سرفہرست ہے جبکہ جاپان دوسرے، جرمنی تیسرے، برطانیہ چوتھے، فرانس پانچویں، اٹلی چھٹے، چین ساتویں، کینیڈاآٹھو یں، اسپین نویں اور کوریادسویں نمبر پر ہے۔ ہرچند ان تمام کوششوں کے اس سے قطعاً انکار نہیں کہ اقوام متحدہ کے قیام کے 61برس گزرجانے کے باوجو دبھی یہ اداردہ دنیا میں اپنی وہ ذمہ داریاں ٹھیک طرح سے نہیں نبھاسکا ہے جن کے لیے اس کا وجود عمل میں لایاگیا تھا اور اس لحاظ سے باالخصوص مسلم دنیا کاایک عام خیال یہ ہے کہ یہ ادارہ جواپنے قیام کے مقاصد اور ان اصولوں کو بھی پسِ پشت ڈال چکاہے اور جن کی بنیادوں پر اس ادارے کا وجود عمل میں لایاگیا تھا اورجوخالصتاًاپنے زمانوں کے لحاظ سے بھی دنیاکودرپیش سنگین مسائل کے حل کے لئے بھی معاون اور خاصے مددگار رہے یہ انہیں بھول چکاہے ۔اور اس کے ساتھ ہی ہائے رے! افسوس کہ اقوام متحد ہ کا یہ اہم ادارہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خودہی اپنی اہمیت میں بھی بتدریج کمی کرتا جارہا ہے وہ اس لئے بھی کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے اس ادارے نے باالخصوص مسلم دنیا کے مسائل حل کرنے میں دانستہ طور یاتو سردمہری اختیار کررکھی یاچشم پوشی کا مظاہر کئے رکھا اوراب تواس حوالے سے بھی یہ ادارہ چند طاقت ور ممالک کی لونڈی بن کر رہ گیا ہے اور اگر ان ہی کے اشاروں پر مسلم امہ کے لئے کبھی لب کشائی کی زحمت گوارہ ۔۔۔کی تو کی۔۔۔ یا۔۔۔۔کبھی کچھ عملی طورپر بھی کیا تو وہ بھی آٹے میں نمک جتنا ہی رہا ۔۔۔ورنہ وہ بھی نہیں ۔۔۔ جس متاثرہ مسلم ممالک کوکوئی فائدہ نہیں پہنچابلکہ مشاہدات میں یہ بات آئی ہے کہ اس نے اسلامی دنیا کے حوالے سے اکثروبیشتر خاموشی ہی اختیار کرتے ہوئے اپنے کان، زبان اور آنکھ بند ہی رکھی جیسے کچھ سنا۔۔۔ہی نہیں ۔۔۔اور دیکھا ہی نہیں۔۔۔ تو اس پر کیا؟ زبان کھول کر بھلاکیا ۔۔۔؟تبصرہ کیاجائے یعنی یہ ادارہ امت مسلمہ کی نظر میں کسی بے جان مجسمے کے مانند ہوکررہ گیا ہے اورا س کے ان ہی رویوں کی وجہ سے مسلم دنیا اب یہ سمجھنے لگی ہے کہ یہ ادارہ جو دنیا کے باالخصوص غریب اورمسائل کے شکار ممالک کی مدد کے لئے بنایاگیاتھا اب اس ادارے کاوجود برقرار رہنا فضول ہے کیوں کہ یہ ادارہ دنیاکے مسائل حل کرنے میں بری طرح سے ناکام ہوگیا ہے اور اس ہی وجہ سے یہ اپنی افادیت بھی کھوچکا ہے اور اب ا س ادارے کی ذمہ داریاں بھی وہ نہیں رہی ہیں کہ جوہونی چاہیں تھیں اور اب تو اس کا کام سمٹ کر صرف اتنا رہ گیا ہے کہ اب یہ ادارہ سال کے 365ایام سے کسی نہ کسی دن کوکسی بھی حوالے سے منصوب کرکے پوری دنیا میں اس دن کو منانے کا ڈھنڈورا پیٹتا رہتاہے۔ اس صورت حال میں کہ جب یہ ادارہ مسلم دنیا کے مسائل سے اغماض برت رہاہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیاکے تقریباً57مسلم ممالک اپنے اندر باہمی اتحاد و یگانگت سے ایک ایسا ہی ادارہ قائم کریں جس مغرب کی بالادستی نہ رہے اور جو بالاتفریق مذہب ،رنگ ونسل اور زبان کے خالصتاً انسانیت کی فلاح وبہبود اور انصاف کے لئے سرگرمی سے کام کرے۔اور عالم انسانیت کو امن و بھائی چارے کا درس دے۔ اوریہ ادارہ اقوام متحدہ کی طرح صرف مختلف ایام منانے والا ناکام ہوکرنہ ہو۔