Home » Gujranwala » دنیا کا کوئی کونہ نہیں جہاں قرآن پاک نہیں پڑھا جاتا ہے،شہزاد احمد

دنیا کا کوئی کونہ نہیں جہاں قرآن پاک نہیں پڑھا جاتا ہے،شہزاد احمد

گوجرانوالہ (سٹاف رپورٹر)جتنی بھی کتابیں انبیاء کرام پر نازل ہوئیں ان میں سے قرآن پاک وہ واحد کتاب ہے جو اپنی اصل حالت میں موجود اس وقت بھی ہماری راہنمائی کررہی ہے۔ دنیا کا کوئی کونہ نہیں جہاں قرآن پاک نہیں پڑھا جاتا ہے۔ ہمیں اپنے مسائل اور معاملات درست کرنے کیلئے کتاب مقدس سے دوستی رکھنا ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار معروف ادیب، نقاد اور ڈائریکٹر جنرل مجلس ترقی ادب لاہور شہزاد احمد نے مدینہ کتاب گھر کے 64 ویں یوم تاسیس، سیٹلائٹ ٹاؤن شاپ کی افتتاحی تقریب کے موقع پر منعقدہ خصوصی سیمینار ’’کتابیں ہیں چمن اپنا‘‘ سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب کی صدارت ڈائریکٹر آئی بی اے و ڈائریکٹر گوجرانوالہ کیمپس پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر احسان ملک نے کی۔ چیئرمین اردو ڈیپارٹمنٹ اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی فخر الحق نوری، سابق ڈائریکٹر تعلقات عامہ چودھری مشتاق احمد گمٹالوی، انصاف پسند تنظیم کے چیئرمین فاروق بھائی، سفینہ ادب پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر سعید اقبال سعدی، قلم نو ویلفیئر اکیڈمی کی چیئر پرسن ثمینہ زریں صدیقی ایڈووکیٹ، نامور قانون دان محمد اکرم چوہان ایڈووکیٹ، میزاب رحمت ویلفیئر سوسائٹی کے چیئرمین ڈاکٹر عادل حسین ناصر، میڈیا کوآڑڈینیٹر و سینئر صحافی آصف صدیقی، مدینہ کتاب گھر کے سی ای او اور تقریب کے میزبان عبدالوکیل ملک نے خطاب کیا۔ معروف شاعر و ادیب جان کاشمیری نے کتاب کے حوالے سے اپنا کلام پیش کیا۔ نقابت کے فرائض انجمن ترقی پسند مصنفین کے سیکرٹری عمران ہاشمی نے سر انجام دئیے۔ قاری عادل عرفان، قاریہ حمیدہ خاتون، مریم ہاشمی اور پروفیسر منیر احمد نے تلاوت قرآن پاک اور ہدیہ نعت کی سعادت حاصل کی۔ مہمان خصوصی شہزاد احمد نے کہا کہ کتاب انسان کو الائشوں سے دور رکھتی ہے۔ جب رسول کریمؐ پر وحی نازل ہوئی تو آپ نے اسے یاد کرنے کوشش شروع کردی جبرائیل نے فرمایا کہ یارسول اللہؐ اس کتاب کی حفاظت خدا خود کرے گا۔ ڈاکٹر احسان ملک نے کہا کہ کتاب کے بغیر علم حاصل نہیں ہوسکتا۔ موجودہ دور ٹیکنالوجی کا دور ہے ہمیں علم کے حصول کیلئے کتاب اور کمپیوٹر کا سہارا لینا ہوگا۔ کیونکہ جوقومیں دنیا میں تغیر و تبدل کرتی ہیں وہی زندہ رہتی ہیں۔ آپ کی بادشاہت میں سپین میں 70ہزار کتب لائبریری میں موجود تھیں جبکہ یورپ میں بھی کتابیں موجود ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ماحول کسی کو تبدیل نہیں کرتا بلکہ مطالعہ اور عمل ماحول پر اثر انداز ہوتا ہے۔انہوں نے سیمینار کے عنوان کے حوالے سے کہا کہ کتابیں اگر چمن ہیں تو ہم اس کے مالی ہیں۔ چمن کے ثمر سے ہی آنے والی نسلیں سنوریں گی۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ترقی یافتہ قومیں اپنے وقت کا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرتیں۔ ان قوموں کے افراد کا مشغلہ کتاب بینی ہے۔ تاتاریوں نے مسلمانوں پر نہ صرف یلغار کی بلکہ ہماری کتابیں اور کتب خانے تلف کردئیے اور ڈھیروں کتابیں لوٹ کر یورپ لے گئے۔ میکالے نے یہ بات کہی کہ دنیا کی بادشاہت کے عوض مجھ سے میرا کتب خانہ لینے کی خواہش کی جائے تو میں اس پر ہرگز رضا مند نہیں ہوںگا۔ میں تو اپنی موت کا بھی کتب خانے میں متمنی ہوں۔ لیکن ہمارے معاشرے میں کتاب کی اہمیت کم ہوتی جارہی ہے۔ ہم کتاب کے رشتے سے دور ہوتے جارہے ہیں اور کتاب کے بارے میں ہمارے رویوں میں سوتیلا پن آرہا ہے۔ ایسی بامقصد تقریبات کا انعقاد کتاب سے جڑے ہمارے رشتوں میں مضبوط امید ثابت ہوسکتی ہیں۔بعد ازاں مہمان خصوصی شہزاد احمد اور صدر مجلس ڈاکٹر احسان ملک نے مدینہ کتاب گھر کا فیتہ کاٹ کر افتتاح کیا۔