Home » Gujranwala » تراجم کا تیز رفتار عمل ہی قوم کو جدید علوم و فنون سے ہمرکاب کر سکتا ہے، نظام الدین

تراجم کا تیز رفتار عمل ہی قوم کو جدید علوم و فنون سے ہمرکاب کر سکتا ہے، نظام الدین

گجرات ( بیورورپورٹ) تراجم کا تیز رفتار عمل ہی قوم کو جدید علوم و فنون سے ہمرکاب کر سکتا ہے ۔ قومی زبان اردو اور دیگر قومی و مقامی زبانوں کو سماجی زندگی میں جاری و ساری کرنے اور جدید علوم و فنون کو عام افراد تک منتقل کرنے کا مرحلہ مہمیز کا طلب گار ہے ۔ قومی دانشگاہ کا کردار ادا کرتے ہوئے یونیورسٹی آف گجرات میں ’’زبانوں اور علوم ترجمہ کا مرکز‘‘ قائم کیا گیاہے۔ پاکستان بھر سے قومی زبانوں کے ماہرین اور ادیبوںو دانشوروںپر مشتمل مجلس شوریٰ تشکیل دی جائے گی جو علوم ترجمہ اور قومی زبانوں کے فروغ کے اس مرکز کو ثمر آور حقیقت بنائے گی ۔آج کے قومی سیمینار میں ملک بھر سے آئے ہوئے ماہرین لسانیات و قلمکاروں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اپنے قیمتی خیالات ، تجاویز اور سفارشات سے اس مرکز کے قیام میں فعال کردار ادا کیا ۔ یونیورسٹی آف گجرات جدید زبانوں کے ساتھ ساتھ اردو ، پنجابی اور دیگر قومی زبانوں کے تعلیم و تحقیق کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی اور اسی مرکز کے زیر انتظام ایک سہ ماہی تحقیقی مجلہ بھی جاری کیا جائے گا ۔ ان خیالات کا اظہار یونیورسٹی آف گجرا ت میں مرکز برائے ’علوم ترجمہ و زبانیں ‘کے زیر اہتمام منعقدہ قومی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ گجرات کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد نظام الدین نے کیا ۔ سیمینار کے افتتاحی سیشن کی صدارت ممتاز ماہر لسانیات اور وائس چانسلر فاطمہ جناح یونیورسٹی راولپنڈی ڈاکٹر ثمینہ امین قادر نے کی جبکہ مقتدرہ قومی زبان کے چیئر مین ڈاکٹر انوار احمد کا کلیدی خطاب تھا۔ لمز کے پروفیسر ڈاکٹر نعمان الحق اور کوارڈینیٹر استاد شعبہ انگریزی غلام علی نے خطاب کیا ۔ دوسرے سیشن کی صدارت انگریزی زبان کے سینئر استاد رضی عابدی نے کی جبکہ UET سے ڈاکٹر سرمد حسین نے مشین ٹرانسلیشن جبکہ ممتاز ادیب ، ڈاکٹر مرزا حامد بیگ نے علوم ترجمہ کے مسائل پر مقالہ پیش کیا ۔ امریکہ سے آئے ممتاز دانشوروں ڈاکٹر Chad Haines اور ڈاکٹرYasmin Saikia نے جدید زبانوں میں قومی ادب کے تراجم کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ تیسرے سیشن کی صدارت ڈاکٹر انوار احمد نے کی معروف ادیب و قلمکار جی سی یونیورسٹی لاہور کے ڈاکٹر سعادت سعید، انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈاکٹر نجیب جمال ، ڈاکٹر سفیر احمد اعوان اور ڈاکٹر نگہت شکور نے مقالات پیش کیے۔ سیمینار میں اکادمی ادبیات لاہور کے ڈائریکٹر الطاف احمد قریشی، محترم توحید احمد، ڈاکٹر تبسم کاشمیری، ڈاکٹر منزیٰ، مسعود اشعر، ڈاکٹر شاہین مفتی، ڈاکٹر امجد علی بھٹی، سید شبیر حسین شاہ ڈاکٹر اظہر چوہدری، احمد ندیم ، ڈاکٹر فہیم ملک، ڈاکٹر فریش اﷲ ،جاوید سجاد احمد، ڈاکٹر محمد اقبال ، پروفیسر ظفر اقبال ہاشمی، پروفیسر غلام عباس ، ڈاکٹر وسیم گردیزی، رانا احمد شہید، نازیہ انور، ابوبکر، مسرت یاسمین علوی، ڈاکٹر کلثوم اختر نے مقالات پر بحث میں حصہ لیا اور تجاویز و سفارشات پیش کیں ۔ ملک بھر سے آئے ہوئے دانشوروں نے جامعہ گجرات میں مرکز برائے علوم ترجمہ و زبانیں کے قیام کو اہم عصری تقاضا اور قومی ضرورت قرار دیا۔