Home » Breaking » پنجاب میں20گھنٹے کی لوڈشیڈنگ عوام کیساتھ ظلم ہے،وزیر اعلیٰ پنجاب

پنجاب میں20گھنٹے کی لوڈشیڈنگ عوام کیساتھ ظلم ہے،وزیر اعلیٰ پنجاب

حافظ آباد(بیورورپورٹ)خادم پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ لوڈشیڈنگ کے معاملہ میں وفاقی حکومت پنجاب سے سوتیلا سلوک کر رہی ہے اور پنجاب کے10کروڑ عوام کو مسلم لیگ سے محبت کی سزا دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور سے کراچی تک ملکی معشیت تباہی سے دو چار ہے اور علی بابا چالیس چوروں کا ٹولہ انتقامی سازشوں اور ملکی خزانہ بیدردی سے لوٹنے میں لگا ہو اہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں18سے20گھنٹے کی لوڈشیڈنگ عوام کے ساتھ ظلم اور ناانصافی ہے اور وفاقی حکومت کے عوام دشمن اقدام کیخلاف و ہ تب تک “ٹینٹ آفس”لگائیں گے جب تک پنجاب میں بھی دیگر صوبوں کی طرح یکساں لوڈشیڈنگ نہیں کی جاتی۔ انہوں نے یہ بات گوجرانوالہ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ کے اراکین اسمبلی اور سینٹرز، مسلم لیگ ن کے عہداداروں اورورکروںسے خطاب کے دوران کی۔خادم پنجاب نے کہا کہ پنجاب میں تاریخ کی بدترین لوڈشیڈنگ سے لوگوں کا کاروبار تباہ ہو چکا ہے جبکہ علی بابا چالیس چور ملکی خزانہ لوٹ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کی اکائی ہونے کے ناطے پنجاب کے ساتھ یکساں سلوک عوام کا بنیادی حق ہے اور جب تک لوڈشیڈنگ کی ناانصافی ختم نہیں کی جاتی و مینار پاکستان کے سایے میں اپنا آفس ٹینٹ میں چلاتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ کے تمام اراکین اسمبلی بھی احتجاجاً روزانہ ایک، دو گھنٹے ٹینٹ لگا کر عوام کے اِس دکھ میں شریک ہوں تاکہ وفاقی حکومت کو مظلوم عوام کے دکھ درد کا احساس ہو سکے اور وہ سیاسی انتقام کا سلسلہ ختم کرکے یکساں لوڈشیڈنگ کی روش اپنائے۔ انہوں نے کہا کہ لوڈشیڈنگ بھی دہشت گردی کی طرح معاشی عدم استحکام کا سبب ہے اور اس سے عوام میں بے روزگاری، بے چینی اور نفسیاتی مسائل پیدا ہو رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم کے اعلانات اور یقین دہانیوں کے باوجود پنجاب ابھی تک لوڈشیڈنگ کے عذاب سے دوچار ہے جبکہ کراچی ، حیدر آباد میں لائن لاسسز کی شرح پنجاب کی نسبت کہیں زیادہ ہونے کے باوجود لوڈشیڈنگ نہ ہونے کا برابر ہے۔ پنجاب کی بھی تقسیم کار کمپنیوں کی ریکوری 90فیصد سے زائد ہے جبکہ حید ر آباد میں بجلی کی محصولات کی وصولی56فیصد اور کراچی 65فی صد ہے مگراس کے باوجود پنجاب کے عوام ہی سب سے زیادہ لوڈشیڈنگ کی پریشانی کا شکارہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مینار پاکستان کے سایے میں قائم ٹینٹ آفس میں اس لیے کام کر رہے ہیں کہ مینار پاکستان کے لیے جان و مال کی قربانی دینے والے تحریک پاکستان کے شہیدوں کی یاد دلاتا ہے انہوں نے یہ قربانیاں اِس لیے دی تھی کہ اُنہیں پاکستا ن میں انصاف ملے گا اور اُنہیں تمام آئینی حقوق حاصل ہونگے مگر مقام افسوس ہے کہ اہل پاکستان کو قائد اور اقبال کے پاکستان کی بجائے لوڈشیڈنگ کی مصیبت کا شکارپاکستان زندگی گزارنے کو ملا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ اُس وقت تک مینار پاکستان کے سایے میں قائم ٹینٹ آفس میں بیٹھے رہیں گے جب تک عوام کو لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نجات نہیں مل جاتی ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب نے این ایف سی ایوارڈ کی منظوری کے وقت 11ارب کی قربانی اس لیے دی تھی کہ پاکستان کے تمام صوبے مالی وسائل مل کر استعمال کریں مگر حالات اِس کے برعکس ہے ایک صوبے میں ایک منٹ کے لیے بھی لوڈشیڈنگ نہیں ہوتی جبکہ پنجاب کے کارخانوں کی چمنیوں سے کئی دن دھواں نہیں نکلتا جس کی وجہ سے دوکانداوں کا کاروبار ختم ہو گیا ہے مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے مسلم لیگ ن کے عہداداروں اور ورکروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہڑتالی ڈاکٹروں نے مریضوں کے خلاف کھلا اعلان جنگ کیا ہے اور میں اِس جنگ میں مریضوں کے ساتھ ہوں۔انہوں نے کہا کہ 50،60ڈاکٹروںنے دکھی انسانیت کو یرغمال بنا رکھا ہے اور اُنہوں کے ساتھ میری یہ جنگ جاری رہیگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب ڈاکٹروں کی تنخواہوں پر اربوں روپے خرچ کر رہی ہے لیکن وہ غریب مریضوں کے علاج معالجہ اور اِنکی خدمت کی بجائے ہڑتالیں کر رہے ہیں۔