Home » News » براک اوباما ري پبلکن حريف مٹ رومني سے مباحثے کيلئے بے چين

براک اوباما ري پبلکن حريف مٹ رومني سے مباحثے کيلئے بے چين

  • Publish on July 14, 2012 in News
  • |
  • by admin

واشنگٹن:دوبارہ صدارت کے خواہشمند امريکاکے صدربراک اوباما ري پبلکن حريف مٹ رومني سے مباحثے کے ليے بے چين ہيں اورانہوں نے دعوي ?کياہے کہ مٹ رومني متوسط طبقے کوخوشحال کرنے کيليے سنجيدہ نہيں ہيں.پانسہ پلٹنے کي حيثيت رکھنے والي رياست ورجينيا ميں اوبامامتوسط طبقے کي دکھتي رگ پرہاتھ رکھتے نظرآئے.اوبامانے کہاکہ انکي کوشش ہے کہ يہ طبقہ خوشحال ہومگراورقانون ہرشخص کيلئيبرابرہو.اوبامانے کہاکہ وہ رومني سے مباحثے کي راہ ديکھ رہے ہيں.کوئي اگريہ کہتاہے کہ وہ خسارہ کم کرناچاہتاہے مگرملک کے اميرترين 2فيصدطبقے پرٹيکس لگانانہيں چاہتاتووہ سنجيدہ ہي نہيں.سن دوہزار8ميں ري پبلکن صدارتي اميدوارجان مک کين سے ہوئے مباحثے ميں اوبامانے انہيں باآساني زيرکرلياتھا.مباحثہ جيتنے کامطلب اليکشن جيتنانہيں ہوتاليکن اوبامااليکشن بھي جيتے.اب اوباماکامٹ رومني سے مباحثہ ہوگا.جواوباماکے نزديک اس قدراميرہيں کہ عام آدمي کے مسائل سمجھنے سے بھي قاصرہيں.ٹيکس چھوٹ پررومني کي اپني منطق ہے.ري پبلکن صدارتي اميدواررومني نے کہاکہ آپ اپني جيب سنبھاليں جب اوباماکہيں کہ وہ ٹيکس کم کررہے ہيں کيونکہ جب وہ کہتے ہيں کہ ٹيکس وہي رہے گاجوہے تووہ اسے ٹيکس ميں کمي کہتے ہيں.جب کہ روزگارفراہم کرني والوں پرٹيکس بڑھانے کااعلان کياگياہے.ڈھائي لاکھ ڈالرسے کم سالانہ آمدني والوں کوبش دورميں جو ٹيکس چھوٹ دي گئي تھي ،اوبامانے اسے ايک برس کي توسيع دينے کا اعلان کياہے.مگروہ ان اميروں پرٹيکس کي وکالت کرتے ہيں جوعياشي کے بعدبھي خزانے کامالک ہيں.تجزيہ کاروں کے نزديک مباحثے ميں بھي اوباماعوام کويہي لالي پاپ پيش کريں گے. وہ لالي پاپ جس سے غريب اورمتوسط طبقہ پوري دنياميں بہلتارہاہے.