Home » News » جانوروں کے بیوپاری اور خریدار دونوں ہی پریشان

جانوروں کے بیوپاری اور خریدار دونوں ہی پریشان

  • Publish on October 23, 2012 in News
  • |
  • by admin

عید الالضحیٰ میں چند روز رہ گئے ہیں لیکن ہر سال کی طرح اس سال بھی جانوروں کے بیوپار اور خریدار دونوں ہی پریشان نظر آ رہے ہیں ۔ ملک میں بڑھتی ہوئی کمر توڑ مہنگائی نے سنت ابراہیمی کی ادائیگی کا فریضہ مشکل بنادیا ہے ۔ ملک بھر کی مویشی منڈیوں میں تگڑے تگڑے خوبصورت جانور تو موجود ہیں لیکن ان کے بیوپار اور خریدار دونوں ہی پریشان نظر آتے ہیں۔شہر قائد کی موشی منڈی میں بیوپار کہتا ہے کہ ٹیکس اور مہنگائی نے ان کو قیمتیں بڑھانے پر مجبور کردیا ہے تو دوسری جانب خریدار کہتا ہے اتنا مہنگا جانور ان کی قوت خرید سے باہر ہوگیا ہے۔ بیوپاری کہتے ہیں مہنگائی تو مہنگائی ٹیکسوں نے بھی ان کا جینا مشکل کردیا ہے ۔ ٹنڈو محمد جام کی مویشی منڈی میں سجے سجائے خوبصورت ہزاروں جانور اپنے خریدار کا انتظار کررہے ہیں جبکہ خریدار بھی تگڑا جانور دیکھ کر خوشی کا اظہار تو کرتے نظر آتے ہیں ۔ لیکن بھاری قیمتیں سن کر خریدے بغیر ہی واپس جانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ سکھر ،حیدرآباد کی مویشی منڈیوں کا بھی حال مختلف نہیں ہیں ۔ دور دراز سے آنے والے لوگ جس جانور کو پسند کرتے ہیں ان کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی نظر آتی ہیں ساٹ اب رخ کرلیں لاہور ،ملتان کی مختلف مویشی منڈیوں کا جہاں بیوپار کہتا ہے کہ گھی مکھن کھانے والا جانور کوڑیوں کے دام نہیں بیچے جاسکتے یہی وجہ ہے کہ بے انتہا رش ہونے کے باوجود بھی خریدار کم اور شوقین افراد زیادہ نظر آتے ہیں۔ مہنگائی کی دہائی کرنے والے بیوپار اور خریدار دونوں ہی پریشان نظر آتے ہیں لیکن عید میں چند روز رہے ہیں اس لئے منڈیوں جوش و خروش بھی بڑھ رہا ہے۔بکروں کے بیوپاریوں نے جانور بیچنے کے لئے جہاں ٹھاکر، نسیم وکی، اور ٹیڈی جیسے منفرد نام رکھے ہیں وہیں ان کے پاس انہیں وزنی کرنے کی ڈھیروں دلچسپ کہانیاں بھی دستیا ب ہیں۔ ساٹ موٹی موٹی نشیلی آنکھیں ، لمبے لمبے ریشمی کان اور دھاری دار جسم، عوام کا کہنا ہے کہ جانوروں کی یہ ادائیں اور بیوپاریوں کی دلچسپ کہانیاں انہیں لبھاتی تو ہیں تاہم بیوپاری بیچتے تو بکرے ہیں مگر قیمتیں مرسیڈیز کی وصول کرتے ہیں ۔ شوق کا اگرچہ کوئی مول نہیں تاہم مہنگائی نے مقابلہ بہت سخت کردیا ہے۔