Home » News » امریکی انتخابات کا دنگل سج گیا،آج مقابلہ ہوگا

امریکی انتخابات کا دنگل سج گیا،آج مقابلہ ہوگا

  • Publish on November 6, 2012 in News
  • |
  • by admin

امریکی انتخابات کا دنگل سج گیا ہے اور دونوں امیدوار ایک دوسرے کے سامنے سینہ سپر ہیں۔ ماہرین کے مطابق نئے صدر کے انتخاب میں چار ریاستیں انتہائی اہم کردار اداکریں گی۔ آج امریکی عوام اپنے نئے صدر کا انتخاب کریں گے ۔ سپر پاور امریکہ میں صدراتی انتخابات کی گہماگہمی اپنے عروج پر ، وقت کم مقابلہ سخت ہے ۔مٹ رومنی نے کرلیاہے رام سفید فام معمر اور مذہبی لوگوں کو۔ صدر اوباما بھی خواتین ،سیاہ فام اور نوجوانوں میں ہیں زیادہ مقبول۔ رائے عامہ کے جائزوں نے صاف صاف دونوں صدارتی امیدواروں کردیا ہے خبردار کہ ذرا سا فرق کسی کو کو بھی دلوا سکتا ہے فتح۔ سابق صدر کلنٹن بھی آ گئے صدر اوباما کی حمایت میں۔ میدان میں۔ صدر اوباما نے امریکی عوام کو کیا خبردار رومنی کو ملا اقتدار تو وال اسٹریٹ جیسے اسیکنڈل آ سکتے ہیں بار بار ۔مٹ رومنی نے اوباما کے وار کادیا جواب کر دیا دعویٰ ۔ حقیقی تبدیلی صرف وہ لے کر آئیں گے۔ باقی سب باتیں۔اس جنگ میں کون جیتے گا اور کون ہارے گا اس کا فیصلہ تو ہو گا چھ نومبر کو۔ اوباما تبدیل ہوں گے۔ اور رومنی کی تبدیلی آئے گی۔۔۔ یا اوباما حقیقی تبدیلی کیلئے مزید چار سال پائیں گے۔امریکا کے صدارتی انتخابات میں چار ریاستیں انتہائی اہمیت کی حامل سمجھی جارہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق دراصل یہی وہ ریاستیں ہیں جو نئے صدر کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔ ان ریاستوں میں اوہایو، ورجینیا، فلوریڈا اور کولو راڈو شامل ہیں۔ اوہایو میں موجودہ صدر براک اوباما کو اپنے حریف مٹ رومنی پر تین پوائنٹ سے برتری حاصل ہے ۔ ورجینیا میں بھی صدر اوباما مٹ رومنی پر دو پوائنٹ کی برتری لئے ہوئے ہیں جبکہ فلوریڈا میں دونوں امیدوار برابری پر ہیں۔ تاہم کولوراڈو میں ڈیموکریٹس امیدوار رومنی کو ایک پوائنٹ کی برتری حاصل ہے۔صدارتی مہم پر نظر رکھنے والے امریکی ادارے اپسوس فانڈیشن کے سروے کے مطابق براک اوباما نے اوہایو سے اڑتالیس پوائنٹس حاصل کئے ہیں جبکہ رومنی کے پاس پینتالیس پوائنٹس ہیں۔ یوں یہ تین پوائنٹس کا فرق اگرچہ معمولی ہے لیکن یہ برقرار رہا تو رومنی کے لیے اس ریاست سے انتخابات میں فتح حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔امریکہ میں صدراتی الیکشن ہر چار سال بعد نومبرکے پہلےمنگل کو ہوتے ہیں،الیکشن میں حصہ لینے کے لئے تمام جماعتیں اپنے امیدواروں کی نامزدگی ایک سال پہلے کردیتی ہیں،صدارتی امیدوار کو مقابلہ جیتنے کے لئے پانچ سو اڑتیس الیکٹروول ووٹ میں سے دو سو ستر ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ صدارتی امیدوارکےلئے لازمی ہے کہ وہ پیدائشی طور پر امریکی شہری ہو اور کم ازکم چودہ سالہ امریکی سکونت رکھتا ہو،امریکہ میں صدر کو منتخب کرنے کا طریقہ کار دو بنیادی حصوں پر مشتمل ہوتا ہے، جن میں پہلے مرحلے میں تمام ریاستوں میں پرائمری الیکشن اور کاکس کا انعقاد کیا جاتا ہے، دوسرے مرحلے میں صدرارتی امیدوار منتخب کرنے کے لئے سیاسی جماعتیں کنونشن کا اہتمام کرتی ہے۔پرائمری الیکشن کا اہتمام ریاست اورمقامی حکومتوں کے تحت کیاجاتا ہے جبکہ کاکس کا انتظام براہ راست سیاسی جماعتوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے،پرائمریز اور کاکس کا انعقاد جنوری سے جون کے درمیان صدراتی انتخابات سے پہلے کیا جاتا ہے،کاکس میں جماعتیں نائب صدارتی امیدوار کو بھی نامزد کرلیتی ہیں،امیدواروں کی حتمی نامزدگی کے بعدباقاعدہ انتخابی مہم کا آغاز ہوتا ہے،جس میں منتخب نامزدنمائندے سیاسی مکالمے اور اپنے منشور سے عوام کو آگاہ کرتے ہیں جس میں عوام کو براہ راست سولات کی اجازت بھی ہوتی ہے ۔امریکی صدراتی انتخابات کی جنگ کا طبل بجایا جاچکا ہے طاقتور صدراتی کرسی کے لئے بھر پور مقابلہ ہوگا آج ۔