Home » News » بلوچستان حکومت کا فوجی ڈاکٹروں کی مدد لینے کا فیصلہ

بلوچستان حکومت کا فوجی ڈاکٹروں کی مدد لینے کا فیصلہ

  • Publish on November 20, 2012 in News
  • |
  • by admin

کوئٹہ میں سینئر ڈاکٹر کی بازیابی کیلئےاحتجاج کرنے والے ڈاکٹرز پرپولیس نے لاٹھی چارج کیااورشیل پھینکے ۔جس کےبعد ڈاکٹروں نےسرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی اورنجی اسپتال بندکرنےکااعلان کردیا ہے۔انتظامیہ نے متعددنجی کلینک سیل کردیئے۔بلوچستان حکومت نے فوجی ڈاکٹروں کی خدمات لینے کی ہدایت کردی۔سولہ اکتوبر کو اغواء ہونے والے ماہر امراض چشم ڈاکٹر سعید خان کی بازیابی کے لئے شروع کی گئی احتجاجی تحریک سنگین رخ اختیار کرگئی ہے۔ گزشتہ روز پولیس ڈاکٹرز کو ریڈ زون میں داخل ہونے سے روکتی رہی لیکن ڈاکٹر احتجاج کے لئے گورنر ہاؤس کے سامنے پہنچ گئے ریڈ زون میں داخلے کے بعد ڈاکٹرز نے نہ صرف رضاکارانہ گرفتاریاں پیش کیں بلکہ پی ایم اے بلوچستان نے صوبہ بھر میں او پی ڈیز سمیت سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں ایمرجنسی سروسز بند کرنے کا بھی اعلان کردیا۔دوسری جانب انتظامیہ نے اکہتر ہڑتالی ڈاکٹرز کے خلاف کار سرکار میں مداخلت پر مقدمہ درج کرلیا جبکہ ڈھائی سو ڈاکٹر ز کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کے لئے سیکرٹری صحت نے سمری اعلی حکام کو بھجوادی ہے اور متعدد نجی کلینکس بھی سیل کردیئے گئے۔ محکمہ صحت بلوچستان کے ذرائع کے مطابق صورتحال سے نمٹنے کے لئے پاک فوج سے چالیس ڈاکٹرز طلب کرلئے گئے جن میں سے بیس سول ہسپتال اور بیس بی ایم سی میں خدمات سرانجام دیں گے۔ذرائع کے مطابق حکومت اس بات پر بھی غور کررہی ہے کہ نجی پریکٹس کرنے والے سرکاری ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کی جائے اس سلسلے میں ایسے ڈاکٹرز کی فہرست سیکریٹری صحت نے ماتحت حکام سے طلب کرلی ہے ۔