Home » News » ادویات کو بطور نشہ استعمال کرنے کے رجحان میں اضافہ

ادویات کو بطور نشہ استعمال کرنے کے رجحان میں اضافہ

  • Publish on November 28, 2012 in News
  • |
  • by admin

ملک بھر میں ادویات کو بطور نشہ استعمال کرنے کے رجحان میں تشویشناک اضافہ ہوگیا ہے۔ پاکستان میں نشے کے عادی پینتیس فیصد افراد ادویات کا نشہ کرتے ہیں ۔ ملک بھر میں ادویات کوبطور نشے اور ذہنی سکون کے لئے استعمال کیا جارہا ہے،جن میں کھانسی کے شربت،سلوشن، جوتاپالش اور اسپرٹ کےاستعمال میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔صرف لاہور میں ادویات کے نشے میں ملوث افراد کی تعداد پینتیس ہزار کے لگ بھگ ہے،نشے کے عادی افراد کی یومیہ ملنے والی پندرہ لاشوں میں سے چھ لاشیں ادویات کے نشے میں ملوث لوگوں کی ہوتی ہیں، پاکستان میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے چھ جبکہ مقامی طور پر تیار کئے جانے والے سات سیرپ بطور نشہ استعمال کئے جاتےہیں، اس کے علاوہ کئی خواب آورگولیوں کی فروخت بھی ڈاکٹری نسخے کے بغیر کھلے عام جاری ہیں، نو عمرکم سن بچوں میں سونگھنے والا نشہ بہت تیزی سے سرایت کررہا ہے جس میں مختلف سلوشن، اسپرٹ اور پالش خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔حکومت کی جانب سے ڈاکٹری نسخے کے بغیر ادویات کی فروخت اور دیگر سونگھنے والے نشوں کی روک تھام کے لئے بنائی گئی پالیسیوں پر کسی قسم عملدرآمد نہیں ہورہا ہے۔