Home » Gujranwala » بین الصوبائی رابطوں کو فروغ دے کر پاکستان کو درپیش مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے،خالد محمود

بین الصوبائی رابطوں کو فروغ دے کر پاکستان کو درپیش مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے،خالد محمود

گوجرانوالہ(جنرل رپورٹر) صوبائی محتسب پنجاب خالد محمود نے کہا ہے کہ غربت اور جہالت کے خاتمے‘ معاشی انصاف کی فراہمی‘ امن وامان کے قیام اور بین الصوبائی رابطوں کو فروغ دے کر پاکستان کو درپیش مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔ملک کو بیرونی اور اندرونی خطرات سے نجات دلانے کے لئے ہمیں انفرادی مسائل کی بجائے قومی مسائل پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گوجرانوالہ تھنکر زفورم کے اجلاس سے صدارتی خطاب کے دوران کیا۔ اجلاس سے آر پی او شیخوپورہ رینج ذوالفقار احمد چیمہ‘ آر پی او گوجرانوالہ رینج کیپٹن (ر) محمد امین وینس‘ زاہد ممتاز اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی خطاب کیا۔ صوبائی محتسب نے کہا کہ گوجرانوالہ تھنکرز فورم کے عہدیداران مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے قومی مسائل کو زیر بحث لا کر دانشوروں کو سیاسی حالات کا بے لاگ تجزیہ کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ملکی مسائل کے موضوع پر مکالمہ وقت کی ضرورت ہے اس سے سلسلہ میں تھنکرز فورم کی خدمات قابل ستائش ہیں انہوں نے کہا کہ ہمیں موجودہ حالات کا تجزیہ پاکستان کی ماضی قریب کی تاریخ کے پس منظر میںکرنا چاہئیے تاکہ سیاسی حالات کا حقیقی بنیادوں پر جائزہ لے کر لائحہ عمل ترتیب دیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ملکی استحکام کے لئے ضروری ہے کہ چاروں صوبوں میں مقبول سیاسی جماعتیں ملکی وحدت اور یکجہتی کو فروغ دینے کے لئے فعال کردار ادا کریں کیونکہ علاقائی جماعتوں کے سبب پاکستان کو بڑے نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کے بارے میں مخالفانہ جذبات غلط فہمی کا نتیجہ ہیں اگر تمام صوبوں کی سیاسی قیادت ‘ اہل فکر اور دانشور باہمی مکالمہ کو فروغ دیں تو ملکی یکجہتی کو مستحکم کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی یکجہتی کا فروغ ملک کی بقاء کیلئے لازمی ہے اور پنجاب نے نیشنل فنانس کمشن میں اپنے حصے کی قربانی دے کر بڑے بھائی کا کردار ادا کیاہے جو قابل تحسین ہے۔ انہوں نے کہا جہالت ملک کا بہت بڑا مسئلہ ہے ‘ ناقص نظام تعلیم کی وجہ سے پڑے لکھے بے ہنر پیدا ہو رہے ہیں جو ملکی ترقی میں کوئی کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ہمیں صنعتی ترقی کو یقینی بنانے کے لئے فنی تعلیم کی سرپرستی کرنی ہوگی اور عمومی تعلیم کی بجائے فنی تعلیم کے اداروں کی تعداد میںبھی مارکیٹ اور صنعتی اداروں کی ضروریات کے مطابق اضافہ کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ دینی مدارس میں بھی فنی تعلیم کی ضرورت ہے تاکہ با ہنر عالم دین بھی باعزت روزگار حاصل کرسکیں اور مالی پریشانیوں سے آزاد ہو کر مذہبی خدمات انجام دیسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ناخواندگی کو ختم کرنے کے لئے ہمیں مشنری جذبے کے ساتھ کام کرنا ہوگا اور نئی نسل کی ذہنی تربیت کرنی ہوگی تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہو کر ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کرسکیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آرپی او شیخوپورہ رینج ذوالفقار چیمہ نے کہا کہ پاکستان میں نوجوانوں کی صورت ایک توانا افرادی قوت موجود ہے جن کو بہتر تعلیم و تربیت دے کر ملک کا ذمہ دار شہری بنایا جاسکتا ہے اور یہ باعزم نوجوان وطن عزیز کو مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر ترقی وخوشحالی کی شاہراہ پر گامزن کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جاپان اور جرمنی نے عالمی جنگ کی تباہ حالی کے باوجود جدوجہد سے ترقی یافتہ ممالک کا درجہ حاصل کیا انہی اصولوں پر عمل پیرا ہو کر پاکستان بھی خوشحال ملک بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں دانشور طبقہ کی قومی ذمہ داری ہے کہ وہ قوم کو مایوسیوں کا شکار کرنے کی بجائے مسائل کا حقیقی بنیادوں پر جائزہ لے کر قابل عمل حل پیش کرکے امید کی کرنوں کی روشنی بکھیریں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے تعاون سے سیکیورٹی ادارے دہشتگردی کے خاتمہ میں اسی طرح کامیاب رہیں گے جس طرح سری لنکا کی حکومت نے دہشت گردی سے نجات حاصل کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں میں جوہر قابل کی کمی نہیں ہے ‘ اٹھارہ کروڑ کی آبادی سے بہت سے مہاتیر محمد نکلیں گے جو قوم کی پسماندگی کو خوشحالی میں بدل دیںگے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات وہ وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ جمہوریت کے تسلسل کی بدولت عوامی امنگوںکی ترجمان قیادت سامنے آئے گی اس کیلئے ضروری ہے کہ عوامی نمائندوں کا انتخاب برادری ازم‘ علاقائی تعصبات سے بالاتر ہو کر حب الوطنی کو معیار بنا کر کیا جائے۔ آر پی او گوجرانوالہ رینج کیپٹن (ر ) محمد امین وینس نے کہا کہ ملک کے معاشی اور سماجی مسائل کے حل کیلئے امن وامان کا قیام اور جان و مال کا تحفظ بڑا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلحہ کی بھرمار کی بدولت بھی امن وامان کی صورتحال پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اسلحہ سے پاک معاشرہ کی بدولت عوام کی جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ تھنکرز فورم کی وساطت سے سامنے آنے والی سفارشات کی روشنی میں پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے گا تاکہ عوام اور پولیس کے درمیان حائل فاصلوں کو کم کرکے عوامی تعاون کے ذریعہ سماج دشمن عناصر کے خلاف سخت کاروائی کی جاسکے۔