Home » News » لیبیا:بن غازی میں تشدد کے واقعات کے بعد کرفیو نافذ

لیبیا:بن غازی میں تشدد کے واقعات کے بعد کرفیو نافذ

  • Publish on January 19, 2013 in News
  • |
  • by admin

 

لیبیا میں حکام نے مشرقی شہر بن غازی میں امن وامان کی صورت حال بگڑنے کے بعد جمعرات کی نصف شب سے جمعہ کی صبح آٹھ بجے تک کرفیو نافذ کردیا ہے۔کرفیو کے نفاذ سے قبل لیبیا کے وزیراعظم علی زیدان نے دارالحکومت طرابلس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم جنرل نیشنل کانگریس کے ساتھ رابطے اور مشورے کے ذریعے کرفیو سمیت مختلف سکیورٹی اقدامات پر غور کررہے ہیں”۔انھوں نے کہا کہ ”بن غازی میں فوج اور پولیس کو تعینات کیا جائے گا اور امن وامان کی صورت حال بحال کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے”۔لیبیا کے مشرقی شہر میں گذشتہ کئی ہفتوں سے کشیدگی پائی جارہی ہے اور منگل کو ایک کار بم دھماکے کے نتیجے میں ایک پولیس افسر ہلاک ہوگیا تھا۔ایک سکیورٹی عہدے دار نے اس واقعے کے بارے میں بتایا ہے کہ ”پولیس سارجنٹ صالح مفتاح وزری کی کار میں بم نصب کیا گیا تھا۔وہ جب ایک ریستوراں سے اپنے گھر کو واپس آرہے تھے تو ان کی کار دھماکے میں تباہ ہوگئی۔سوموار کو بھی سڑک کے کنارے نصب بم سے پولیس کی ایک کار کو نشانہ بنایا گیا تھا۔اس واقعہ میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔بن غازی میں گذشتہ کئی ہفتوں سے فوجیوں اور پولیس افسروں کو بم حملوں میں نشانہ بنایا جارہا ہے۔بن غازی ہی میں گذشتہ سال ستمبر میں امریکا میں بنی اسلام مخالف فلم کے خلاف احتجاج کے دوران مسلح افراد نے امریکی قونصل خانے پر دھاوا بول دیا تھا اور ان کے اس حملے میں لیبیا میں متعین امریکی سفیر سمیت چار اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔اس واقعہ کے بعد بیشترسفارتی مشنوں اور اقوام متحدہ کے تحت اداروں نے اپنی سرگرمیوں کو یا تو معطل کردیا تھا یا پھر محدود کردیا تھا۔منگل کو ایک مسلح شخص نے اٹلی کے قونصل جنرل پر حملہ کردیا تھا۔اس حملے میں قونصل جنرل محفوظ رہے تھے لیکن اس ناکام حملے کے بعد اٹلی نے بن غازی میں عارضی طور پر اپنا قونصل خانہ بند کردیا ہے اورسفارتی عملے کو واپس بلا لیا ہے۔

لیبیا:بن غازی میں تشدد کے واقعات کے بعد کرفیو نافذلیبیا میں حکام نے مشرقی شہر بن غازی میں امن وامان کی صورت حال بگڑنے کے بعد جمعرات کی نصف شب سے جمعہ کی صبح آٹھ بجے تک کرفیو نافذ کردیا ہے۔کرفیو کے نفاذ سے قبل لیبیا کے وزیراعظم علی زیدان نے دارالحکومت طرابلس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم جنرل نیشنل کانگریس کے ساتھ رابطے اور مشورے کے ذریعے کرفیو سمیت مختلف سکیورٹی اقدامات پر غور کررہے ہیں”۔انھوں نے کہا کہ ”بن غازی میں فوج اور پولیس کو تعینات کیا جائے گا اور امن وامان کی صورت حال بحال کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے”۔لیبیا کے مشرقی شہر میں گذشتہ کئی ہفتوں سے کشیدگی پائی جارہی ہے اور منگل کو ایک کار بم دھماکے کے نتیجے میں ایک پولیس افسر ہلاک ہوگیا تھا۔ایک سکیورٹی عہدے دار نے اس واقعے کے بارے میں بتایا ہے کہ ”پولیس سارجنٹ صالح مفتاح وزری کی کار میں بم نصب کیا گیا تھا۔وہ جب ایک ریستوراں سے اپنے گھر کو واپس آرہے تھے تو ان کی کار دھماکے میں تباہ ہوگئی۔سوموار کو بھی سڑک کے کنارے نصب بم سے پولیس کی ایک کار کو نشانہ بنایا گیا تھا۔اس واقعہ میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔بن غازی میں گذشتہ کئی ہفتوں سے فوجیوں اور پولیس افسروں کو بم حملوں میں نشانہ بنایا جارہا ہے۔بن غازی ہی میں گذشتہ سال ستمبر میں امریکا میں بنی اسلام مخالف فلم کے خلاف احتجاج کے دوران مسلح افراد نے امریکی قونصل خانے پر دھاوا بول دیا تھا اور ان کے اس حملے میں لیبیا میں متعین امریکی سفیر سمیت چار اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔اس واقعہ کے بعد بیشترسفارتی مشنوں اور اقوام متحدہ کے تحت اداروں نے اپنی سرگرمیوں کو یا تو معطل کردیا تھا یا پھر محدود کردیا تھا۔منگل کو ایک مسلح شخص نے اٹلی کے قونصل جنرل پر حملہ کردیا تھا۔اس حملے میں قونصل جنرل محفوظ رہے تھے لیکن اس ناکام حملے کے بعد اٹلی نے بن غازی میں عارضی طور پر اپنا قونصل خانہ بند کردیا ہے اورسفارتی عملے کو واپس بلا لیا ہے۔