Home » Gujranwala » گوجرانوالہ فلائی اوور کی نا قص مٹیریل سے تعمیر اور غیر معیاری تعمیراتی کام کی قلعی کھل گئی

گوجرانوالہ فلائی اوور کی نا قص مٹیریل سے تعمیر اور غیر معیاری تعمیراتی کام کی قلعی کھل گئی

گوجرانوالہ(سٹاف رپورٹر) نیسپاک نے گوجرانوالہ فلائی اوور کے ناقص اور غیر معیاری تعمیراتی کام کی قلعی کھول دی اور قرار دیا کہ منصوبہ نقشہ کے خلاف اور ناقص ہے جو کسی بھی وقت زمین بوس ہو سکتا ہے۔چیف جسٹس عوام کی زندگیوں سے کھیلنے والوں کے کڑے احتساب کیلئے ازخود فوری نوٹس لیںاور ایک کمیشن تشکیل دیں تاکہ جلد باز ی میں تعمیر کئے جانے والے اس خطرناک فلائی اوور جو عوام کی زندگیوں سے کھلینے کے مترادف ہے کو معیاری اور محفوظ بنانے کیلئے مناسب اقدامات کئے جا سکیں ۔ان خیالات کا اظہار گوجرانوالہ سٹیزن ویلفیئر فورم کے کنوینئر ایس اے حمید، مولانا زاہد الراشدی چیئر مین شریعت کونسل ، گل نواز گورائیہ سابق صدر،خرم شوکت سابق سیکرٹری ڈسٹرکٹ بار،سابق صدور پی ایم اے ڈاکٹر میاں زاہد محمود،ڈاکٹر سجاد محمود دھاریوال،سابق صدور گوجرانوالہ چیمبر شوکت جاوید ،ضیاء اللہ عرفافی،شیخ محمد اسلم ،ناظم جمیعت اہلحدیث مشتاق چیمہ،حاجی ارشد جمال نائب صدر ،شیخ محمد نعیم سیکرٹری کلاتھ مارکیٹ بورڈ ،سابق ڈپٹی میئرز میاں محمد عارف اور شیخ محمد سلیم نے اپنے مشترکہ بیان میں کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ بڑی حیران کن بات ہے کہ فلائی اوور کی غیر معیاری، ناقص اور خطرناک تعمیر کے بارے میں NLC اور الحبیب کمپنی کے ماہرین نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی ہے . نیسپاک کے مطابق اب تک لگائے گئے پلرز ماہرین کی نگرانی کے بغیر لگائے گئے ہیں اور ان میں استعمال کیا گیا مٹیر یل ناقص اور طریقہ خطرناک ہے۔ شٹرنگ بھی اپنی جگہ سے ہٹ چکی ہے جس سے پلرز کی مضبوطی بھی متاثر ہوئی ہے وہاں پر تعمیر کیا گیا تمام کام مسترد شدہ ہے اس لئے اگر وہاں کوئی حادثہ ہوا تو اس کی ذمہ دار NLCہوگی۔ لہذا نیسپاک نے پلرز کی تعمیر روکنے کا دو ٹوکہہ دیا ہے ۔ فورم کے اراکین نے کہا کہ ان تمام خامیوں کی نشاندہی ہم فورم کے پلیٹ فارم سے ہر قدم پر کرتے رہے ہیںکہ ایسے پراجیکٹ میں عوام کی جان کا تحفظ مقدم ہوتا ہے ۔NLC نے اس منصوبے کیلئے ڈیڑھ سال کی مدت مانگی تھی لیکن ایک سیاستدان کے پمپ پلازہ کو بچانے کی خاطر اس نقشہ میں بار بار تبدیلیاں کر کے ان کی لمبائی نصف اور چورائی 3/4 کر دی گئی ظلم یہ کیا گیا کہ جلدی بنانے کی خاطرNLC( جو عام کنٹریکٹر سے 25% زیادہ اپنے معیار کی وجہ سے چارج کرتا ہے) نے اس پراجیکٹ کو ایک دوسری نجی کمپنی الحبیب کنسٹرکشن کو Sublet کر دیا جو سراسر رولز سے انحراف ہے اور ناقص اور خطرناک تعمیر کا موجب بنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ منصوبہ اصل منصوبہ کا 40% ہے جبکہ لاگت پوری ساڑھے چار ارب کے قریب وصول کی جا رہی ہے اور محکمانہ لوٹ اور کمیشن کی بدولت عوام کے ٹیکسوں کو ہڑپ کیا جا رہاہے ۔ فورم کے اراکین نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اس امر کی اپیل کی ہے کہ براہ کرم وہ اس مفاد عامہ کے منصوبہ کا از خود نوٹس لیں اور غیر معیاری ، خطرناک تعمیر اور لاگت کے بارے میں ایک کمیشن تشکیل دے کر تحقیقات کرائیں تاکہ عوام کے ٹیکسوں کی رقم اور ان کی اچانجانوں کا تحفظ ممکن ہو سکے۔