Home » Gujranwala » حضور غوثِ اعظم اور خواجہ محکم الدین سیرانی رحمۃ اللہ علیہ نے انسانیت کو معرفتِ خدا سے آشنا کیا

حضور غوثِ اعظم اور خواجہ محکم الدین سیرانی رحمۃ اللہ علیہ نے انسانیت کو معرفتِ خدا سے آشنا کیا

سیالکوٹ(بیورورپورٹ)حضور غوثِ اعظم اور خواجہ محکم الدین سیرانی رحمۃ اللہ علیہ نے انسانیت کو معرفتِ خدا سے آشنا کیا ۔ اپنے علم و عرفان اور زہد و تقویٰ سے اصلاحِ معاشرہ کا فریضہ سر انجام دیا ۔ قومِ مسلم کو راہبانہ اور جاہلانہ رسومات کر ترک کر کے سنتِ نبوی ﷺ کے دلدادہ بنایا ۔ عشقِ مصطفوی ﷺ کے ایسے جام پلائے کہ امتِ مصطفےٰ ﷺ کا ہر فرد تا قیامت محافظ ناموسِ رسالت بن گیا ۔ محافل میلاد النبی ﷺ میں مسلمانوں کا ذوق و جذبہ اولیاء اللہ کی تربیت کا اثرہے ۔ غوث اعظم رضی اللہ عنہ و سیرانی بادشاہ رحمۃ اللہ علیہ حامیانِ اسلام کے ہیروز اور محبوب ترین ہستیاں ہیں ۔صوفیاء امت سیاست سے دور، کرسی و حکمرانی کے لالچ سے دور مگر ہر دور میں حکمرانوں اور بادشاہوں کی اصلاح کے لئے خوب خوب کوشاں رہے ۔ حکمرانوں کے اچھے کاموں کو سراہنا بھی اولیاء امت کا کام رہا ہے ۔ آج بعض مذہبی راہنما ملک میں نفاذِ نظام مصطفےٰ ﷺ کی بجائے ریاست بچاؤ کے نام نہاد نعرے لے کر عوامی جذبات سے کھیل رہے ہیں۔ قوم کو مذہبی راہنماؤں سے اسلاف جیسے کردار کی امیدیں ہیں ۔ان خیالات کا اظہار قائد تحریک اویسیہ پاکستان ،معروف مذہبی سکالر علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی نے بھنگرانوالہ ، ترگہ رومال اور دیگر مقامات پر منعقدہ جشن میلاد النبی ؐ و غوث اعظم کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔کانفرنس کی صدارت پیر سید انتصار الحسن شاہ سروری سجادہ نشین دربار عالیہ غوث یگانہ چھالے شریف نے فرمائی جبکہ پیر سید محمد عمر علی شاہ آستانہ عالیہ سریالی شریف ،شیخ مشتاق علی گوگا راہنما جماعت اہلسنت ،علامہ قاری محمد نعیم اختر رضوی ،محمد یعقوب اویسی ایڈووکیٹ اور حافظ محمد قمر مہمانانِ خصوصی تھے ۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ محمد سرور سلہریاامیر مرکزی جماعت اہلسنت صوبہ پنجاب نے کہا غوث اعظم رضی اللہ عنہ نے اپنے آستانہ پر ہمیشہ محفل میلاد کا انعقاد کیا ۔ آستانہ کو علمی و روحانی مرکز بنایا ۔ قرآن و سنت اور وعظ و نصیحت کو ذریعہ تبلیغ بنایا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ فروغِ عشق رسول ﷺ کے لئے اولیاء اللہ کی سیرت و کردار کو اپنایاجائے ۔کانفرنس سے قاری محمد اویس، صاحبزادہ محمد عاصم بشیر اویسی اور دیگر نے بھی نذرانہ عقیدت پیش کیا۔