Home » Article » قائدِ اعظم محمد علی جناح اور اُن کا پاکستان۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:ثاقب تبسم نگینہ

قائدِ اعظم محمد علی جناح اور اُن کا پاکستان۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:ثاقب تبسم نگینہ

قائدِ اعظم محمد علی جناح ایک اُولُولعزم،محنتی اور دانش مند انسان تھے، انہوں نے زندگی کی ہر مشکل کو اپنی فطری صلاحیتوں اور عزم و ہمت سے شکست دی۔محمد علی جناح نے دو قومی نظریہ کی بنیاد پر اپنی آئینی جدوجہد اور بے مثال و بے نظیر قیادت سے اَن گنت مشکلات ،حوصلہ شکن حالات،جگر خراش واقعات اور بے انتہا مخالفت کے با وجود پاک و ہند کے نو کروڑ مسلمانوں کو مسلم لیگ کے جھنڈے تلے متحد ومنظم کر کے غلامی اور محرومی سے ابدی نجات دلا کر آزادی جیسی نعمت کا تحفہ دیا۔ 
نِگہ بُلند ،سُخن دل نواز، جاں پُر سوز !
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے
قائدِ اعظم محمد علی جناح کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار قائدانہ صلاحیتوں اور اعلیٰ راہنما کی تمام صفات سے نوازا تھا۔وہ بلا کے ذہین و فطین،محبِ وطن،ایمان دار، بااصول ٹھوس اور غیر جذباتی اندازِ فکر کے حامل،قومی مفاد کے خواہاں ،اعلیٰ سیرت و کردار اور مدلل گفتار کے مالک،زیرک اور مشاق قانون دان،مخلص، مستقل مزاج اور پروقار و بے لوث انسان اور سیاست دان تھے۔وہ قانون کی بالا دستی، اقتصادی اور سماجی مساوات کے علمبردار تھے اور انہی اصولوں کی بقاء کے لئے انہوں نے زندگی گزار دی۔اس عظیم راہنما نے اپنے عزم واستقلال،راست گوئی، اصول پرستی اور اپنے مقصد سے بے پناہ لگن کی بنا پر بڑے شاطر سیاستدانوں کو شکست دے کر اپنی سیاسی صلاحیت و لیاقت اور بصیرت کا لوہا منوایا۔ انہوں نے عدیم المثال قیادت و سیاست اور مقناطیسی شخصیت کی بدولت حضرت علامہ اقبال کے جدا گانہ اسلامی مملکت کے خواب کی عملی تعبیر پیش کر دی۔انہوں نے طاغوتی طاقتوں کے نرغے میں رہ کر مسلمان قوم کو فعال،متحرک، زندہ،توانا اور با مقصد قوم بنا دیا۔قارئینِ محترم!ایک عظیم راہنما کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ دلیر،نڈر اور بے باک ہو،وہ حق بات کا پوری بے باکی اور جرات سے اظہار کر سکتا ہو اور کوئی خوف و تحریص اسے اظہارِ حق و صداقت میں مانع نہ ہو۔ اس کے قول و فعل میں تضاد نہ ہو اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کے دل میں اپنے وطن اور اپنی قوم کی ترقی، خوشحالی اور فلاح کا احساس ہو۔یہ تمام خوبیاں قائدِ اعظم میں بدر جہ اُتم موجود تھیں۔آج ہم انہیں اپنا لیڈر، پیارا لیڈر تو کہتے ہیں لیکن اُن کی کسی ایک صفت کو بھی اپنانے پر تیار نہیں۔ ہمارے راہنما ان کی صفات کو انتخابی اشتہارات کی زینت تو بناتے ہیں لیکن ان پر عملی یقین کسی کا بھی نہیں ہے۔قائد نے اس قوم کو بامقصد اور متحرک بنایا جب کہ ہمارے سیاستدانوں نے اسے بے مقصد اور جامد کر دیا۔ چٹکیاں لیتی ہے 
دل میں آج اُس محسن کی یاد
ہو گیا شرمندئہ تعبیر جس سے خوابِ قوم 
قائدِ اعظم محمد علی جناح کی سیاسی بصیرت اور تدبر کا اعتراف اپنے ،بے گانے ،دوست،دشمن ،ہر کسی نے کیا۔یہی اُن کی عظمت اور برتری کا ثبوت ہے۔ مکارگاندھی نے قائد کی صلاحیتوں کے اعتراف میں کہا کہ۔۔ ’’یہ حقیقت ہے کہ قائدِ اعظم بلاشبہ اعلیٰ اوصاف کے مالک تھے،وہ سیرت و کردار کی اُن بلندیوں پر تھے جہاں کوئی لالچ،کوئی خوف اور کوئی طعنہ انہیں اپنے جادہ سے نہیں ہٹا سکا۔وہ عزم و استقامت کے کوہِ گراں تھے۔‘‘مولاناظفر علی خان نے قائد کو یوں خراجِ عقیدت پیش کیا،’’ تاریخ ایسی مثالیں کم پیش کر سکے گی کہ کسی لیڈر نے مجبو رو محکوم ہوتے ہوئے انتہائی بے سروسامانی اور مخالفت کی تُندوتیز آندھیوں کے دوران دس برس کی قلیل مدت میں ایک مملکت بنا دی ہو۔‘‘پنڈت مدن موہن مالویہ نے اقرار کیا کہ ’’وہ جس بات پر ڈٹ جاتے ہیں ڈٹ جاتے ہیں۔بڑے سخت ہیں ،انہیں تو دلائل سے جھکانا بھی ممکن نہیں۔‘‘ لارڈ میکڈانلڈ نے بھی اعتراف کیا کہ ’’ قائدِ اعظم محمد علی جناح کو کسی بھی قیمت پر خریدا نہیں جا سکتا۔‘‘نہرو نے جناح کی عظمت کو یوں تسلیم کیا،’’ قائدِ اعظم کی اعلیٰ سیرت و کردار وہ مؤثر حربہ تھی جس کے ذریعے انہوں نے زندگی بھر کے معرکے سر کئے اور آزادی کی جنگ جیتی۔‘‘مسز جہاں زیب نے تو قائد کو پاکستان کے جارج واشنگٹن کہا۔
تیرا عزم آہنی پربت سے بھی پائندہ تر
وقت کے سینے میں تھی پیوست تیری ہر نظر
قائدِ اعظم محمد علی جناح جیسا عظیم راہنما اور سیاست دان ہی ’’پاکستان‘‘ حاصل کر سکتا تھا کیوں کہ قائد میں وہ معاملہ فہمی اور دور اندیشی میں بے مثال تھے۔ اس قابلیت کی وجہ سے وہ حالات پر کڑی نظر رکھتے تھے اور حریفوں کی شاطرانہ چالوں کو بھانپ کر بروقت اُن کا منہ توڑ جواب دیتے تھے۔ اسی وجہ سے تحریکِ پاکستان کامیابی سے ہم کنار ہوئی ۔قائدِ اعظم محمد علی جناح میں تحریکِ پاکستان کو’’ پاکستان کا مطلب کیا؟۔۔۔لاالہ الاللہ‘‘ کی بنیاد پر آگے بڑھایا۔وہ پاکستان کو ایسی مملکت بنانا چاہتے تھے جہاں کوئی کسی کا استحصال نہ کر سکے۔جہاں مساوی تقسیمِ دولت کا اصول کار فرما ہوجو اقتصادی نظامِ اسلام کے لافانی اصولوں کی بنیاد پر قائم ہو۔انہوں نے 21مارچ 1948کو اپنی ایک تقریر میں فرمایا،ؒ پاکستان میں کسی ایک طبقہ کی لوٹ کھسوٹ اور اجارہ داری کی اجازت نہیں ہو گی۔پاکستان میں بسنے والے ہر شخص کو ترقی کے برابر مواقع میسر ہوں گے۔پاکستان امیروں،سرمایہ داروں ،جاگیرداروں اور نوابوںکی لُوٹ کھسُوٹ کے لئے نہیں بنایا گیا۔پاکستان غریبوں کی قربانیوں سے بنا ہے ،پاکستان غریبوں کا ملک ہے ،اس پر غریبوں کو حکومت کا حق ہے۔پاکستان میں ہر شخص کا معیارِ زندگی اتنا بلند کیا جائے گا کہ غریب اور امیر میں کوئی تفاوت باقی نہیں رہے گا۔پاکستان کا اقتصادی نظام اسلام کے غیر فانی اصولوں پر ترتیب دیا جائے گا اور ان اصولوں پر جنہوں نے غلاموں کو تخت و تاراج کا مالک بنا دیا تھا۔‘‘ قائدِ اعظم کی اس تقریر پر غور کریں تو ہر ذی شعور کے ضمیر سے شرمندگی سر اُٹھائے گی اور یہی کہے گی’’قائد۔۔۔!ہم شرمندہ ہیں‘‘ قائدِ اعظم محمد علی جناح پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلامی ،جمہوری اور فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے جس میں وہ حضرت عُمر ؓ کے سنہری دور کی جھلک دیکھتے تھے۔جہاں انصاف،رواداری،برابری اور مساوات کا دوردورہ ہو۔اُن کی زندگی میں اسلامی طرزِ فکر کو بہت اہمیت حاصل تھی اور وہ اسی تناظر میں پاکستان میں اسلامی نظام رائج کرنے کر آرزو مند تھے۔وہ مسلمانوں کا ضابطہ حیات قرآن و سنت سے تعبیر کرتے تھے۔1943کو مسلم لیگ کے جلسے میں اُن کا یہ بیان اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ ’’وہ کون سی چٹان ہے جس پر اس ملت کی عمارت استوار ہے؟وہ کون سا لنگر ہے جس سے اس اُمت کی کشتی محفوظ کر دی گئی ہے؟وہچٹان،وہ لنگر خدا کی کتاب قرآنِ کریم ہے۔مجھے یقین ہے کہ جوں جوں ہم آگے بڑھتے جائیں گے،ہم میں زیادہ سے زیادہ اتحاد پیدا ہوتا جائے گا۔‘‘اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ پاکستان کو اسلامی نظریہ حیات کے اصولوں سے ممیز اسلامی ریاست بنانا چاہتے تھے۔آج ہم جس مقام پر کھڑے ہیں اور آج بالخصوص ہمارے راہنما اور سیاست دان جو سلوک قائدِ اعظم کے پاکستان سے کر رہے ہیں ،اُس پر قائد کی روح کے ہاتھ یقینی طور پرہم سب کے گریبانوں پر ہیں۔ قائد کی شخصیت،اُن کی محنت اور جدو جہد کو ہم گنوا رہے ہیں۔قائد کی روح ہم سب سے یہ سوال کرتی ہے کہ قائد کے پاکستان میں انصاف،رواداری،قومی مفاد،منصفانہ تقسیمِ دولت،غریبوں کی ترقی کے مواقع اور دو قومی نظریہ کی بنیاد پر اسلامی،جمہوری اور فلاحی ریاست کی فضا کب آئے گی؟اس سوال کا عملی جواب مل گیا تو پاکستان مستحکم،مضبوط،خودکفیل،خوشحال اور پائندہ تر ہو جائے گا۔(انشاء اللہ)