Home » Article » مشتاق احمد گمٹالوی کی نثری کتاب” گمٹالی” پر ایک تبصرہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر: سیدانوارغالب مزدکی

مشتاق احمد گمٹالوی کی نثری کتاب” گمٹالی” پر ایک تبصرہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر: سیدانوارغالب مزدکی

ایک سچا لطیفہ جو کہ سیدسبط حسن نے مطلوب الحسن، سید عبداللہ، ملک الطاف گوہر اور پروفیسر خواجہ میاںمنہاج الدین کی موجودگی میںمحمدحنیف رامے کے اصرار پرسنایاتھا، اس کی تصدیق مشہوروکیل اعجازاحمد بٹالوی نے بھی ہوٹل شیزان مال روڈپربات چیت کے دوران فرمائی تھی، یہ ہے کہ،، اعجاز احمد بٹالوی کے بڑے بھائی عاشق حسین بٹالوی نے جب پہلی مرتبہ قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ سے سیٹھ حبیب کی کوٹھی میں ملاقات کی تو انہوںنے عاشق حسین بٹالوی سے پوچھا تھا کہDo You Belong to the Bata Boot Factory(کیا آپ کاتعلق باٹا بوٹ فیکٹری سے ہے) تو عاشق حسین بٹالوی نے چونک کر قدرے حیرانی اور پشیمانی سے فوراً تردیدکی، نہیںجناب ایسا ہرگزنہیں۔ اس پر قائد اعظمؒ نے کہا تھا، معاف کیجےئے گا چونکہ آپ کانام باٹا لاوی ہے اس لئے مجھے باورآیاکہ آپ کاتعلق یہودی جوتے ساز مسٹر تھامس باٹا جوکہ ٹاٹاکے بھائی ہوتے ہیں،کی باٹافیکٹری سے ہی ہے،، ۔پنجابی میں غلام کو گاما اور گام بھی کہاجاتاہے۔ اس حوالے سے ،، گام ٹالوی،، کادھوکہ گمٹالوی کے نطق وبیان سے ہوسکتاہے۔ یعنی ٹال مٹول کرنے والا گاما، گامی یا گام۔ مگرایسا ہرگزنہیںہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ گمٹالہ ضلع سیالکوٹ اوراب نارووال کا ایک معروف قصبہ ہے جس کے قریب ایک چھوٹاساگاؤ ںگمٹالی ہے جہاںمشتاق احمد گمٹالوی پیدا ہوئے۔ پنجابی میں،، غم،، کو دیہاتی یا ان پڑھ لوگ ،،گم،، بھی کہتے ہیں۔ یوں گمٹالوی یعنی غم ٹالوی یا غم کو ٹالنے اور سدا خوش اور مطمئن رہنے والابھی وہ کہلا سکتے تھے۔ مگر ایسا بھی ہرگز اور قطعاً نہیںہے۔ وہ شکرگڑھ کے ایک گاؤں گمٹالی کے رہنے والے ہیں، اکل کھرے سیالکوٹی اور راجہ سیالوی خطے کے مزاح نگار دانشور بھی ہیں۔ وہ روتے کو ہنسانے کا فن بخوبی جانتے ہیں ۔ سدابہار مزاج کے حامل باغ وبہار آدمی ہیں اور شریف بھی۔،، تجارت،، اور،، جرات،، اخبارات میںاکثر مزاحیہ کالم نگاری کرتے رہے ہیں۔ روزنامہ،، امروز،، کے کالم نگار محمد احمد شاہ ندیم( یہ ان کا نام تھاوہ سیدنہ تھے انگہ کے رہنے والے تھے، احمد ندیم قاسمی ان کاادبی نام تھا) بجاطور پر حرف وحکایت میںفکاہ نگارتھے، ان کا مزاحیہ کالم ان کی شاعری پر بھاری اور منفرد تاثر کے حامل جدیدصحافتی فنکاری کاکما حقہ نمونہ تھا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کے بعدصرف مشتاق احمد گمٹالوی ہی ہیںجو انگہ کے احمد ندیم قاسمی کی طرح بلا کے مزاح نگار ہیں، حاجی لقلق ،،زمیندار،، والے اور ،،نمک دان،، جریدے والے مجیدلاہوری،امرتسری دانشور نفیس خلیلی اگر زندہ ہوتے توان کاقلم چوم لیتے۔ مشتاق احمد گمٹالوی نے مزاحیہ کالم نگاری کوجدید ڈکشن کا حوالہ اورعلامتی شناخت کانشان منزل بناڈالا ہے۔،،گمٹالی،، ان کی تیسری کتاب ہے پہلی دو کتابیں راقم الحروف نے نہیںپڑھیں، مگر ان کی تیسری کتاب جو آپ بیتی(خودنوشت) ہے، پڑھنے کاشرف ملاہے۔ ،، گمٹالی،،320 صفحات پر محیط ومشتمل ہے، اس کے 25 موضوعات ہیںاور اصلاً یہ کتاب کے ابواب بھی ہیں۔ گجرات کے ایک گاؤں کنجاہ کے چودھری محمد شریف ،پنجابی شاعراور مدرس، شریف کنجاہی نے اس کتاب کو 6جولائی2004 میںخام مال کی صورت میںدیکھااوراپنی وقیع رائے تحریر کی جو کتاب کاحرف آغاز ہے۔ کتاب میں ملک کی معروف نعت خواں شاعرہ ایڈیشنل سیکرٹری ہائر ایجوکیشن فرخ زہرہ گیلانی، ملک کے مقبول ادبی جریدہ ،،قرطاس،، کے مدیر نامور شاعر و ادیب جان کاشمیری اور سابق ضلع ناظم نارووال کرنل (ر) محمد جاوید کاہلوں کی آراء بھی شامل ہیں۔ زیرنظرکتاب پہلی بار نومبر2009 میںچھپی ہے ،یوں اب یہ چھپی ہوئی نہیںرہی۔ منظور الکتابت لاہورنے اسے طبع کیاہے اور ایشیئن ٹریڈرز اردوبازار لاہور اس کے ناشر ہیں۔جالندھروالے خودکوجالندھری، لدھیانے والے لدھیانوی، گورداس پور والے گورداسپوری، امرتسروالے امرتسری کہتے یاکہلواتے ہیں۔فیروز پورے والے فیروزپوری یا سیالکوٹ والے سیالکوٹی اور پسرور والے پسروری کی طرح گمٹالی کے مشتاق احمد خودکوگمٹالوی لکھتے ہیں۔ شاعرنقش، خود کونقش لائل پوری کہتے تھے، کمالیہ والے کمالوی کہلاتے ہیں۔دراصل یہ ترکیب بائبل کی ڈکشن سے مستعار ،خالصتاً عبرانی اوراسرائیلی یا یہودی ترکیب ہے۔ انجیل اربعہ اور متوافقعہ میںحضرت یسوع مسیح ناصری روح اللہ کلمۃ اللہ عیسی علیہ السلام کے حوالے سے درج ہے کہ وہ نظارت کے گاؤں گلیل کے رہنے والے تھے ،اس لئے ان کو ناصری گلیلی کہاگیا۔لہذا علم الانسان کے ماہرین نے ہندوستان کے بھارت ورش آریائی سماج میںاس ترکیب کوعلاقے اورپیشے سے جوڑ کرشناختی حوالہ کاسماجی اورتمدنی ریکارڈبنایاہے۔ مشتاق احمد گمٹالوی کی کتاب بعنوان،، گمٹالی،،ان کی آپ بیتی(خودنوشت) ہے جو صوبہ پنجاب کی سماجی، سیاسی اور معاشی زندگی کے حوالے سے جدید و قدیم ڈکشن کاامتزاج اور دلچسپ مرقع ہے۔ اس میںیادوں کی کسک ہے، جذبوں کی مزاج فہمی اور دروں بینی بھی۔ ژرف نگاہی(Vision) ہے، فکرونظر کی دھنک(یعنی قوس قزح۔۔۔۔۔۔۔Rainbow) اورفنی دھنک بھی۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے پہلے مندوب سرکار پطرس بخاری نے لکھاریوں کو یہ تاکید یا تہدید فرمائی تھی کہ وہ کیمرے کی زبان میں لکھنے کی کاوش و کوشش کوشعار بنائیں۔ مشتاق احمد گمٹالوی نے اپنی کتھا اور جیون کی رام کہانی (خودنوشت آپ بیتی) میں پطرس بخاری کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے کیمرے کی آنکھ والی تحریر سے اپنے فکر ونظر کاابلاغ اور وسیلہ اظہار وبیان بنایاہے۔ یوںیہ جدیداور قدیم پاکستانی ادب میںمنفرد اور قابل قدراضافہ ہے۔ کیمرہ جو کچھ دیکھتاہے بلاکم وکاست تصویربنا کر دکھا دیتاہے مگر مصور کا موئے قلم، محمد حنیف رامے کے بقول وہ کچھ دکھاتا اور پیش کرتاہے جو وہ دکھاناچاہتا ہے۔ یوںمشتاق احمد گمٹالوی نے الفاظ میںبیک وقت کیمرہ مینی اور مصوری کی ہے۔ یہAnimation یعنی چراغ حسن حسرت کے بقول روحیت مظاہر ہے۔راقم الحروف خودبھی 54 کتابوں کامصنف اور مولف ہے، مگر ایک بھی کتاب ،،گمٹالی،، کی طرح نہیںلکھ سکا۔ اب تک 787 کتابوں پر ریڈیواوراخبارات کے لئے تباصر تحریرکرچکاہے جو کتابی صورت میںبعنوان،، جہان ادب،، شائع ہونے والی ہے۔ زیرنظر کتاب پر تبصرہ بھی اس میںشامل ہوگا۔ گمٹالوی نے اپنی آپ بیتی میں چرچل، لینن، ماؤزے تنگ، لارڈ برٹینئررسل، مہاتما موہن داس کرم چند گاندھی، آغازشورش کاشمیری، ابوالکلام آزاد، پنڈت جواہرلال نہرو، مسٹر جارج بل کلنٹن اور ہیلری بل کلنٹن کی طرح صاف گوئی کاسپاٹ،بے لاگ اور غیر مبہم انداز بیان اورمنفرد لب ولہجہ اختیارکرکے خود نوشت کوجدیدفنی اورعلامتی روپ دھارن کرایاہے۔ بجاطور پرکما حقہ بحدامکان گمٹالوی کی کتاب ،، گمٹالی،، میںدل اور دماغ کی گفتگواور نظریاتی منقار طرازی عرج بیان کاخاصاہے ۔یہ حدیث دل بھی ہے اور حدیث یار بھی۔انڈین نیشنل کانگریس کے شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی کی خود نوشت،، یادوں کی بارات،، کے بعد یہ منفرد کتاب ہے جوجدید ڈکشن میں قدیم لب ولہجے کی فہم نگاری سے مملو اور متصف ہے۔ یوں یہ کتاب پاکستانیت اور پاکستانی جدیدادب میںاضافہ اور بجائے خود پاکستانی لٹریچر کانشان امتیاز بھی ہے۔مشہور فطرت نگار روسی دانشور میکسم گورکی نے اپنی آپ بیتی ،، میرا بچپن،، اور،، ماں،، ناولوں کی صورت میںتحریرو تصنیف کرکے آفاقیت شعاری، حق گوئی اورصداقت شعاری کی مثال قائم کی۔سچ گوئی میں گاندھی، نہرو، ابوالکلام آزاد، مسز اندرا گاندھی میری حق گوئیMy Truthکی مصنفہ سابق وزیر اعظم بھارت،،،ناقابل فراموش،، کے مصنف دیوان سنگھ مفتون اور بھارتی جریدے ویکلی انڈین السٹرینڈ کے مدیر خشونت سنگھ سیٹھی نے جوصاف گوئی لکھاریوںکی ریت اوررواج بنائی، وہ مشتاق احمد گمٹالوی کی کتاب،، گمٹالی،، میں جھلک رکھتی ہے۔ ساحرلدھیانوی اور بابا وارث شاہ اگر شاعری نہ کرتے تو یقیناً نثر میں ایسی ہی آپ بیتی(خود نوشت) لکھتے۔ شاعر فطرت اورآفاقیت نگار مرزا اسد اللہ خان غالب نے اپنے خطوط میںجوانسانی مزاج فہمی اورجذبوں کی دروں بینی ابھاری ہے، وہ مشتاق گمٹالوی کی زیرنظرکتاب ،، گمٹالی، میںنمایاں اظہار وبیان کی افزودگی رکھتی ہے۔ پاکستان میں آغاعبدالکریم شورش کاشمیری ناشراور مدیر اعلی ہفت روزہ ،، چٹان،، لاہور نے اپنی خود نوشت میں صاف گوئی کی جو ادبی نہج استوار اورقائم کی ہے ،گمٹالی میںکم وبیش وہی انداز بیان مستعاراورباور محسوس ہوتاہے۔ آپ بیتی، خود نوشت یا جیون کتھا میں پریتم پیار اور جگت پیڑ دونوں ہی شامل ہوتے ہیں۔ یہ مشکل فن ہے کہ خود کواکائی مان اورجان کراصلاً خالص خودبینی ، خود کلامی، خود نگری اورعلامہ اقبال کی زبان میں خود شکنی یا بت شکنی کی بجائے یہ داخلیت سے خارجیت اور خارجیت سے داخلیت نکالنے والی فنکاری ہے اس کو ولیم شیکسپئر کی زبان میں IntrovertiveاورExtrovertive نطق اوربیان واظہارکی خو دکلامی یعنی Sololiky بھی کہہ سکتے ہیں۔ اقبال کا پیرجلال الدین رومی تھا مگر گمٹالوی نے ویلیم شیکسپئر کاروحانی شاگرد رشیدہونے کاوطیرہ اورطور طریقہ اختیار کیاہے۔ مہاتما گاندھی نے اپنی خودنوشت(تلاش حق یعنی My Experiments with Truths)میںگائے اور بکرے کاگوشت کھانے کااعتراف حقیقت کرکے بجا طور برہمن زاد پروہتوںاورہندو مہا سبھائی جن سنگھی پنڈتوں کو ورطہ حیرت میںڈال دیاتھا۔حق گوئی کسی برہمن زادے کے مردہ گائے کاگوشت کھانے جیسا مشکل اعتراف اوربیان حقیقت ہے۔ پنڈت جواہرلال نہرو نے اپنی سیاسی الجھنوںکوبیان کرکے جہادنفس کیاتھا۔ مشتاق احمد گمٹالوی نے اپنی کتاب،، گمٹالی،، میںسب کاقرض چکاڈالا ہے۔ محترمہVRON WARE نے اپنی کتاب بعنوان british ness Who cares about میں جس پاکستانیت کے فقدان کاطعنہ درازکیاہے،2007 کے بعداس کاجواب مشتاق احمد گمٹالوی نے اپنی آپ بیتی،، گمٹالی،، میں دے دیاہے۔ یہ کتاب پاکستانیت، پاکستان اورسماجی زندگی یا پاکستانی تمدن کے حوالے سے ایک اچھی کاوش ہے۔ یہ حدیث دلبرانہ اورنعرہ مستانہ ہے جس کے سارے سمپورن سر پاکستان کے قومی ترانے کی دھن والے ہیں۔ چودھری محمد علی سابق وزیراعظم پاکستان، صدر فیلڈمارشل محمد ایوب خان اور سابق صدرسکندر مرزا کی کتابوںمیں یہ انداز بیان مفقود ہے جو مشتاق احمد گمٹالوی نے اختیار کیاہے ۔ حبیب جالب اور ساغر صدیقی کی شاعری والی ساری بالیدگی او رچبھن گمٹالوی کی کتاب ،،گمٹالی،، میں مستور ہے اور وجود مستوجبی بھی قرار واقعی رکھتی ہے۔ کہاجاسکتاہے کہ پاکستانی لٹریچر بانجھ پن کاشکار نہیںرہا۔ ،،گمٹالی،، احیاء امیدکی کرم گستری ہے۔ یہ کتاب دوسری ملکی اور غیر ملکی زبانوں،خصوصاً عربی اور بنگالی میں ترجمہ ہوجائے تو رابندر ناتھ ٹیگور اور نذر الاسلام والا نیز علامہ عنایت اللہ خان مشرقی والا سوانحی مواد سارک ملکوںکے قارعین کومل سکتاہے۔ مگر بلی کے گلے میںآخرکون اور کیونکر گھنٹی باندھے، یہ دس کروڑ ڈالرمالیت کاسوال ہے۔سابقہ ہزاروی کی آخر ی صدی (بیسویں صدی) میںابو الکلام آزاد کی کتاب،، تذکرہ،، اور،، انڈیا ونز فریڈم ،،اورعلامہ المشرقی عنایت اللہ خان، خاکسار تحریک کے بانی کی کتاب،، تذکرہ،، نے آپ بیتی کوحق گوئی کا جو ہوش مندانہ اور انقلابی اندازبیان دیا، اس کی صدائے بازگشت،، گمٹالی،، میںموجو دہے۔ اس میں بقول غالب بوئے گل بھی ہے نالہ دل بھی اور دود چراغ محفل بھی ۔ یہ عہد ستم کی داستان ہے، آیئنہ سازی بھی اورشیشہ دکھانے کی فن کاری بھی ۔ اس کتاب کامطالعہ نئے لکھاریوںکی ہمت بڑھانے میں راہوار حکمت، دانش، دانائی اور ذہانت کاکام سرانجام دے سکتاہے۔ اس پر اچھی فلم سازی ہوسکتی ہے۔ میں اسی پر اکتفا کرتا ہو، بقول مرزا محمد رفیع سودا
سودا خدا کے واسطے کر قصہ مختصر
اپنی تو نیند اڑ گئی تیرے فسانے میں