Home » Article » طاقت کا سرچشمہ کون۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:مہر محمد امین

طاقت کا سرچشمہ کون۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:مہر محمد امین

مسلم لیگ نے ہمیشہ اپنی سیاسی قوت پر انحصار کرنے کی بجائے سول اور ملٹری بیوروکریسی کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے اقتدار کی مسند حاصل کی۔ محترمہ فاطمہ جناح جو بانی پاکستان کی ہمشیرہ تھیں جنہوں نے پاکستان بنایا مسلم لیگ نے اقتدار کی خاطر اپنی قائد سے بے وفائی کی اور ایوب خان کو طاقت کا سرچشمہ جانتے ہوئے اپنی قائد کے خلاف محاذ آرائی کرتے ہوئے ایوب خان کاساتھ دیا اورملک میں اور خود اپنے اوپر ملٹری ڈکٹیٹر شپ مسلط کی۔ ضیاء الحق نے غیر جماعتی الیکشن کروا کر اراکین اسمبلی کو مسلم لیگ جائن کرائی اور پرویز مشرف نے قائد اعظم مسلم لیگ کی بنیاد رکھی۔ ہمارے ہاں سیاسی استحکام آج تک معرض وجود میں اس لئے نہیں آیا کہ ہمارے سیاستدانوں ہماری لیڈر شپ کوصرف اقتدار کی ہوس ہے۔ انہیں اقتدار چاہئیے اس کے لئے وہ ہرچیزہر اصول ہر ضابطہ داؤ پر لگانے کو تیار ہیں اور مسلم لیگ کے مقبوضہ جموں وکشمیرکے وزیراعلی شیخ عبداللہ کا کردار تو اقتدار کے لئے انتہائی گھناؤنا ہے۔ شیخ عبداللہ سیاست کے کباڑ خانے میں بے پیندے کا لوٹا تھے۔انہوں نے ینگ مینز کے نام سے ینگ مینزمسلم ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے آغاز کیا اس وقت وہ ایک سکول میں ٹیچر تھے چہرے پر بڑی خوشنما داڑھی تھی ان کی قرات اور نعت خوانی ہزاروں لاکھوں کے مجمع کو مسحور کرتی جب مسٹر گوپال سوامی آئنگر کشمیر کا وزیراعظم بن کر آیا تو لاکھوں کے مجمع میں نعتیں پڑھ کر لاکھوں دلوں کو رلانے والے شیخ جی اب نئے اپ ٹو ڈیٹ سوٹ پہن کربندے ماترم کا ترانہ الاپ رہے تھے۔انہوں نے مسلم کانفرنس سے ناطہ توڑ کرنیشنل کانفرنس کی بنیاد ڈالی اور اپنی داڑھی صاف کرادی کیونکہ انہیںمقبوضہ کشمیر کی وزارت اعلی کی کرسی چاہئیے تھی اور جب جموں کے پہاڑ پر ویشنو دیوی کا میلہ منعقد ہوا تو شیخ عبداللہ نے بھی دیوی کی یاترا کیلئے کمر باندھی اور آخری تین سوفٹ کا فاصلہ پیٹ کے بل زمین پررینگتے ہوئے طے کیا۔ دیوی ماتا کے چرن چھوئے اور اس کے پاؤ ںکا دھوون پی کر اپنی وزارت اعلی کو آب حیات کا انجکشن لگایا۔ دنیا میں کوئی اصول کوئی فینا منا کوئی سسٹم بھی ہے وہاں exception موجود ہوتی ہے یعنی بعض چیزیں مستثنی ہوتی ہیں انہیں مستثنات میں یہ واقعہ بھی موجود ہے کہ مسلم لیگ کی حکومت بھی فوجی ڈکٹیٹر شپ نے گرائی ہے تاہم اس کے ڈراپ سین میں جائیں تو میاں نواز شریف کو عدالتوں سے سزا دلوا کر پرویز مشرف نے پورے پروٹوکول کے ساتھ روانہ کیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے کریڈٹ میں یہ بات تھی کہ وہ سول اور ملٹری بیوروکریسی کی بجائے عوامی طاقت پہ یقین رکھتے ہیں اور عوام کے ووٹوں سے برسراقتدار آتے ہیں۔ ان کے منشور میں طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں مگر پرویز مشرف کے ساتھ پیپلز پارٹی کی قیادت نے بھی ڈیل کی اور ہمارے ہاں سیاسی جماعتوں کے نہ پنپنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اگر عوامی حکومت ہوتی ہے توہماری اسٹیبلشمنٹ نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے وہ سمجھتے ہیںکہ سیاستدان نا اہل لو گ ہیں یہ نظام حکومت نہیں چلاسکتے۔ یہ نظام چلانے کے لئے اللہ نے صرف انہیں منتخب کیاہے وہ عقل کل ہیں لہذا وہ اپنی سوچ کے اس زاویے سے اپنی پسند کے افراد کو پارٹی پر مسلط کرکے اسے اپنی طاقت سے چلاتے ہیں ورنہ میاں نواز شریف مسلم لیگ میںبہت جونیئر ہیں کہاں گئے وہ پرانے مسلم لیگی اور کہاں گئی وہ قیادت مسلم لیگ کا وجود قیام پاسکتان سے پہلے موجود تھا پاکستان بعد میں بناہے۔ مسلم لیگ پہلے سے موجود تھی اچانک حادثاتی طور پر ضیاء الحق کے زمانے میں میاں نواز شریف نمودار ہوتے ہیں اوردیکھتے ہی دیکھتے پوری مسلم لیگ پہ قبضہ کرلیتے ہیں اوریہی کچھ پھر چوہدری برادران نے کیا جو محمد خان جونیجو سے میاں برادران نے کیا وہی میاں برادران سے چوہدری برادران نے کیا اب دونوں اصلی مسلم لیگ کا جھنڈا اٹھائے ہوئے دعویدار ہیںکہ میاں برادران کا دعوی ہے کہ ن لیگ ہی اصلی مسلم لیگ ہے جبکہ چوہدری برادران کادعوی ہے کہ وہ تو ن لیگ ہے اصلی مسلم لیگ تو قائد اعظم مسلم لیگ ہے جیسے ہمارے شہر میں سیالکوٹ سویٹ مٹھائی کی سب سے بڑی اور مشہور دوکان ہوا کرتی تھی اب ان کی فیملی نے الگ الگ بزنس کرلیاہے اپنی اپنی د وکانیںبنا لی ہیں سب اپنی اپنی د وکان پہ لکھتے ہیںاصلی سیالکوٹ سویٹ ساتھ لکھتے ہیں ہماری کوئی برانچ نہیں۔ ملتان میں ہر تیسرا آدمی سوہن حلوہ بنارہا اور پیکنگ پہ لکھ رہاہے حفاظ کااصلی ملتانی سوہن حلوہ۔ پیکنگ سب کی ایک جیسی ہے اندر مال سب کا اپنااپنا ہے باہر سے تمام مسلم لیگی ہیں اندر سے مفادات اپنے اپنے ہیں اگر عوامی حکومت ہوتی ہے تو ہماری اسٹیبلشمنٹ اپنی پسند کے افراد سیاسی جماعتوں پر مسلط کرکے حقیقی معنوں میں حکومت چلاتی ہیں اگر فوجی حکومت ہوتی ہے تو فوجی بھائی تمام سویلین کو نالائق اور نا اہل گردانتے ہوئے اپنے اپنے نظام دیتے ہیں ۔ آئین کا حلیہ بگاڑ دیتے ہیں ایوب خان نے بی ڈی ممبر بنائے۔ ضیاء الحق نے صلوۃ کمیٹیاں ، مجلس شوری اور پرویز مشرف نے مصالحتی کمیٹیاں اور سیفٹی کمشن بنائے۔ اس تمام سیاسی اکھاڑ بچھاڑ میں ایک نمایاں فرق یہ رہا ہے کہ جب بھی عوامی حکومت ختم کرکے فوجی حکومت آتی ہے فوجی جرنیل سیاستدانوں کے خلاف مقدمات قائم کرتے ہیں انہیں کرپٹ اور بے ایمان قرار دیتے ہیں انہیں جیلوں میں ڈال دیتے ہیں مگر جب بھی عوامی طاقت کے آگے فوج ہتھیار ڈالتی اور اقتدار سے اسے نہ چاہتے ہوئے بھی ہٹنا پڑتاہے فوجی حکومت کے جانے کے بعد سیاستدان وہ عمل نہیں دہراتے اس فوجی ڈکٹیٹر کے خلاف مقدمات قائم نہیںکرتے اسے پکڑ دھکڑ کے عمل سے دوچار نہیں کرتے اسے کرپٹ، بدعنوان قرار نہیں دیتے اس کی وجہ شائد یہی ہے کہ فوج ایک انسٹی ٹیوشن ہے اس کا سب سے بڑا سب سے مضبوط اور فعال ادارہ ہے اگر کسی جرنیل کااحتساب ہوتاہے اسے کٹہرے میں لایا جاتاہے توفوج اس سے متاثر ہوئے بغیرنہیں رہ سکتی وہ اسے اپنی عزت نفس کامسئلہ سمجھتے ہیں کہ اس سے فوج کی بدنامی ہوگی اور سیاستدان کبھی یہ جرتا نہیں کرتے اور اب بھی پرویز مشرف کے احتساب کا مطالبہ کیا جارہاہے مگر سیاستدانوں میں مسئلہ یہ درپیش ہے کہ بلی کے گلے ممں گھنٹی کون باندھے۔ سیاستدان سوچ رہے ہیں
پریشان ہیں ہم اس سے لڑیں گے کیسے
منظم تو نہ ہوسکے اس کی طرف بڑھیں گے کیسے
مان لیا کہ وہ مجرم ہے پوری قوم کا
مگر کروڑوں ہاتھ ایک گریبان پر پڑیں گے کیسے