Home » Article » گوجرانوالہ تھنکرز فورم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر: عمران اعظم رضا

گوجرانوالہ تھنکرز فورم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر: عمران اعظم رضا

سماج سُدھار، معاشی ناہمواری اورمعاشرتی محرومیوں کو دُور کرنے میں این جی اوز کا کردار ہمیشہ قابلِ ذکر رہا ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ بہت سی این جی اوز کے مقاصد خالصتاً اُن کے منشور کے مطابق نہیں ہوتے۔اور ہر دور میں عوام نے مخلص اور قابلِ عمل قیادت اورراہنمائی کی ضرورت کو محسوس کیا ہے۔میں نے اپنی بیس سالہ پریکٹیکل زندگی میں بہت سی این جی اوز کو دیکھا ان کے ساتھ کام کیا مگر کسی نہ کسی جگہ ایسا جھول دکھائی دیا کہ دل اُچاٹ ہو گیا۔ گزشتہ ماہ مجھے گوجرانوالہ تھنکرز فورم کے ایک اجلاس میں شمولیت کا موقع ملا جو ذوالفقار احمد چیمہ ڈی آئی جی گوجرانوالہ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ پہلے اجلاس میںنامور اہلِ دانش و فکرکی کثیر تعداد دیکھ کر مجھے انتہائی خوشگوار حیرت ہوئی کہ شہر بھر کے بہترین اہلِ قلم اور دانشور پہلی بار کسی ایک پلیٹ فارم پر جمع تھے۔اور اُن میں ایک خاص قسم کا جذبہ بھی دکھائی دے رہا تھاجو اُس وقت نمودار ہوتا ہے جب کسی بھٹکے ہوئے قافلے کو راہنما میسر آ جاتا ہے یا جب کسی مایوس دل کو اُمیدوں بھری سانسیں نصیب ہو جایا کرتی ہیں۔ شرکاء نے ذوالفقار احمد چیمہ ڈی آئی جی گوجرانوالہ کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا اور ان کے اس اقدام کو گوجرانوالہ کی تاریخ میں ایک سنگِ میل کا نام دیتے ہوئے نہ صرف انہیں مبارکباد دی بلکہ اہلِ شہر کے لیے اس کو نیک شگون قرار دیا کہ جس طرح ذوالفقار احمد چیمہ ڈی آئی جی گوجرانوالہ نے جرائم کی دنیا کا خاتمہ کر کے گوجرانوالہ ڈویژن میں عوام کو امن ، سکون اور تحفظ کا احساس دلایا ہے اسی طرح گوجرانوالہ تھنکرز فورم کے پلیٹ فارم سے ان کی قیادت کے زیرِسایہ گوجرانوالہ کے شہریوں کو یادگار وں سے نوازا جائے گا۔اس اجلاس میں قاضی محمودنے گوجرانوالہ کی تاریخی عمارتوں ، ثقافتی ورثے اور نامور شخصیات کا تذکرہ کیا۔جس کو تمام حاضرین نے نہایت انہماک سے نہ صرف سُنا بلکہ اسے قابلِ ستائش اور معلومات افزا قرار دیا۔مزید برآں گوجرانوالہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کا فیصلہ بھی کیا گیا۔اس اجلاس میں اسلم سراجدین، فاروق عالم انصاری، میاں زاہد ممتاز، ملک ظہیر الحق، ڈاکٹرعبدالرحمن علوی، عبدالرؤف مغل، پروفیسر محمد شریف، ڈاکٹر میاں محمد زاہد، مستنصر محمود ساہی، فرحانہ عزیز ڈاکٹرفرحانہ نعیم اور عرفانہ امر کے علاوہ دیگر کئی اہلِ قلم شامل تھے۔ابھی میں اس خوبصورت اور قابلِ قدر اجلاس کے سحر سے باہر نہیں نکلا تھا کہ گوجرانوالہ تھنکر ز فورم کا دوسرا اجلاس 8دسمبر کو ذوالفقار احمد چیمہ ڈی آئی جی گوجرانوالہ کی صدارت میں ریجنل پولیس آفس کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا۔مجھے جب سے اس اجلاس کے انعقاد کے بارے میں اطلاع ملی تھی میں بہت زیادہ پرجوش تھا کیونکہ میں جانتا تھا کہ یہ فورم روایتی قسم کا ہر گز نہیں اور مستقبل قریب میں اس کے مثبت اثرات عام شہریوں تک پہنچیں گے اور وہ اس سے مستفید ہوں گے۔اس اجلاس میں بھی سول سوسائٹی کے قربیاً تمام مکاتبِ فکر کے نمائندہ افراد نے شرکت کی۔اس دفعہ اس اجلاس کا موضوع بہت اہم تھا۔ ذوالفقار احمد چیمہ ڈی آئی جی گوجرانوالہ ، کی اجازت سے سلمان رفیق جنرل سیکرٹری گوجرانوالہ تھنکرز فورم نے گزشتہ اجلاس کی کاروائی کا اجمالی جائزہ پیش کیا۔ بعد ازاں ذوالفقار احمد چیمہ ڈی آئی جی گوجرانوالہ نے اجلاس کے موضوع کا تعارف کرایا۔کہ آج کی نوجوان نسل اپنی روایات اور اقدار کو کیوں صرفِ نظر یابیزاری کا اظہار کر رہی ہے؟ اس کے اسباب و علل کیا ہیں ؟ کیا یہ سب کمزور کلچر کا نتیجہ ہے؟ ہمارے رسوم و رواج میں بیرونی رسوم و رواج سرایت کر رہی ہیں کیا انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے یا ان کا عملی حل کے لیے موثر اقدامات کیے جانے چاہیں؟اور گوجرانوالہ تھنکر ز فورم اس تناظر میں کس طرح موثر کردار ادا کر سکتا ہے؟ حاضرین نے موضوع کی نوعیت اور اہمیت کو بے حد سراہا۔بعد ازاں میاں زاہد ممتاز نے اس حوالے سے ایک آؤٹ لائن پیش کی اور جنرل ڈسکشن کا آغاز کرتے ہوئے کلچر کی تعریف، انقلاباتِ زمانہ کے کلچر پر اثرات،باہمی رشتوں کی اہمیت اور برداشت بارے خوبصورت گفتگو کی۔بعدازاں اقبال طاہر ، ریکٹر گفٹ یونیورسٹی نے اس فکر انگیز اجلاس کے انعقاد پر ذوالفقار احمد چیمہ ڈی آئی جی گوجرانوالہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گوجرانوالہ میں ایک اچھی روایت قائم کی ہے اور ان کے کردار بے لاگ اور قابلِ صد ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے پاکستانی کی حیثیت سے سوچنا بند کر دیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو دو قومی نظریے سے آگا ہ کرتے ہوئے اپنے آباء کی قربانیوں سے روشناس کرائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر معاشرے میں کہیں اقدار کی پاسداری دکھائی دیتی ہے تو وہ صرف ذوالفقار احمد چیمہ جیسے لوگوں کی بدولت ہے۔مس ثمینہ زریںایڈووکیٹ نے اُردو زبان کی اہمیت پر زور دیااور کہا کہ دوسری نسل نے پاکستان کو ترتیب نہیں دیا۔ پروفیسر عابد شریف نے اس بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ہمیں تین سطحوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے جن میں انفرادی، اجتماعی اور معاشرتی سطحیں شامل ہیں۔انہوں نے مذہبی واخلاقی اقدار کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے میڈیا کا منفی اثرات کو ختم کرنے کی کوشش کی اہمیت پر زور دیا۔عرفانہ امر نے اس حوالے سے بہت خوبصورت اور قابلِ عمل تجاویز پیش کیں جنہیں تمام حاضرین نے بہت سراہا۔ انہوںنے ثقافت کے فروغ کا آغاز سرکاری و غیر سرکاری سکولوں سے کرنا چاہیے۔ آٹھ سال سے بڑی بچیوں کو جینز نہیں پہننی چاہیے، سکولوں میں کلاسز کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہونا چاہیے۔ سکولوں میں قرآنی آیات کا ترجمہ و تشریح بچوں کو سکھانا چاہیے، مولانا حالیؔ، مولانا ظفر علی خان اور علامہ اقبال کے کلام کی روح سے طالبعلموں کو روشناس کرانا چاہیے۔ ہر سکول میں قرآن خوانی کا اہتمام ہونا چاہیے اور اساتذہ کو بھی اس میں شامل ہونا چاہیے ، سکولوں کی ٹک شاپس پر برگر کی بجائے گرم چنے، لوبیا یا مکئی موسم اور ضرورت کے مطابق میسر ہونی چاہیے۔ ہر ہفتہ بزمِ ادب کا اہتمام ہونا چاہیے، مضمون نویسی ، بیت بازی اور تقریری مقابلے ہونے چاہیں اور انعامات میں بھی طالبعلموں کو کُتب ہی دینی چاہیں۔عرفانہ امر کی تجاویز چونکہ قابلِ عمل اور موثر تھیں لہذا حاضرین نے ان کو بہت پسند کیااور صاحبِ صدر نے بھی ان کی تعریف کی۔ ملک ظہیر الحق نے کہا کہ اپنی بقا میں الجھے ہوئے ہیں۔جس طرح ذوالفقار احمد چیمہ ڈی آئی جی گوجرانوالہ نے نہ صرف پولیس کا مورال بلند کیا ہے بلکہ گوجرانوالہ کو محفوظ شہر بنایا ہے امید ہے کہ ان کی قیادت میں ہمارے ثقافتی ورثے کو بھی تحفظ ملے گا۔ ذوالفقار احمد چیمہ ڈی آئی جی گوجرانوالہ نے اسی دوران اجلاس کی کاروائی روک کر گزشتہ دنوں بم دھماکوں میں شہید ہونے والے معصوم شہریوں کے حق میں فاتحہ خوانی کروائی۔اور بعد ازاں حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ حالات مشکل ہیں مگر ہمیں ہر گز نہیں گھبرانا چاہیے اور تحمل، حوصلے اورجرات کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرنا چاہیے کیونکہ عظیم قومیں وہی ہوتی ہیں جو قربانیوں کی سیٹرھی چڑھتی ہیں۔انہوں نے سری لنکن قوم کی مثال دیتے ہوئے کہا اس قوم نے بڑے حوصلے سے ایک عرصہ تک جنگ لڑی ہے اور اسے جیتا ہے تو ہم کیوں نہیں جیت سکتے؟گوجرانوالہ تھنکرز فورم کے ممبران آج عہد کریں کہ ان بھائیوں اور بہنوں کی قربانیوں کی یاد میں ہم نمود و نمائش اور ریا کاری سے پرہیز کریں گے اور سادہ طرزِ زندگی اپنائیں گے۔حاضرین نے پرجوش انداز میں ان کی تائید کی اور اس پر عمل پیرا ہونے کا عہد کیا۔ بعد ازاں اسد ملک موضوع کے مطابق اپنا نکتہ نظر پیش کیا۔ڈاکٹر عبدالرحمن علوی نے اسلام اور مقامی رویوں کے امتزاج سے قومی رحجان کے ذریعے کلچر پیدا کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے لباس اور کردار کی پہچان سے قومی شناخت ابھارنے پر زور دیا۔اس اجلاس میں سعید مغل ایم پی اے نے بھی خصوصی شرکت کی اور انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں ذوالفقار احمد چیمہ ڈی آئی جی گوجرانوالہ کا شکر گزار ہوں جن کی بدولت میں بہت سی نئی باتوں کو سیکھنے کا موقع ملا ہے۔ مس فرحانہ عزیز، ہیڈ آف لاء ڈیپارٹمنٹ یونیورسٹی آف پنجاب، نے کہا کہ مسائل کا حل بولنے میں مضمر ہے۔اور اسلام ایک ماڈرن مذہب ہے ہمیں صرف اسے Exploreکرنے کی ضرورت ہے ۔پروفیسر ڈاکٹر شیخ ایزد مسعود ایڈووکیٹ نے کہا کہ اس اجلاس میں بہت فکر انگیز باتیں ہوئیں ہیں۔اور اب ضرورت ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو پاکستان کی فکری اساس و نظریہ سے آگاہ کریں۔اور قائد کے فرمان کے مطابق سماجی اور معاشی انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔خاور راجہ نے میڈیا کے کردار کا قبلہ درست کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔پروفیسر لالہ رُخ بخاری نے عورت کی آزادی اور مخلوط نظامِ تعلیم سے مسابقت کے در آنے پر بحث کی۔آمنہ ناصرنے نظام تعلیم کی نوک پلک درست کرنے اور اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کے پیریڈزبڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔سلیم منصور خالد نے خاندان کے کردار، مسلم ورلڈ کی تشکیل، پاکستان اور انڈیا کے نظامِ تعلیم، ٹیچرز ٹریننگ کی اہمیت،لباس و زبان کا مسئلہ،طالبعلموں میں تنقیدی حس کی بیداری اور نصابِ تعلیم کی تبدیلی کی اہمیت پر مدلل گفتگو کی جسے سب نے یکساں طور پر سراہا۔ ریاض احمد چیمہ ڈائریکڑ کالجز گوجرانوالہ نے والدین اور گورنمنٹ سکولوں اور کالجوں کے کرداراور قومی ہیروزکے کارناموں سے نوجوان نسل کو روشناس کرانے کی ضرورت پر زور دیا۔ محمد اکرم پرنسپل پنجاب کالج گوجرانوالہ نے نوجوان نسل کا روایات سے انحراف، قومی شناخت سے تعلق کی استواری اردو ادب اور ٹیچرز ٹریننگ کی اہمیت پر زور دیا۔اسلم اعوان ڈیرہ اسماعیل خان سے خصوصی طور پر اس اجلاس میں شرکت کے لیے تشریف لائے تھے جو وہاں گومل تھنکرز فورم کی نگہبانی کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار احمد چیمہ ڈی آئی جی گوجرانوالہ نے ڈیرہ اسماعیل خان میں تھنکرز فورم کو جو پودا لگایا تھا وہ آج تناآور درخت بن چکا ہے۔انہوں نے تہذیب و تمدن پر بہت مدلل گفتگو کی۔ بعد ازاں طارق نواز ملک ایس ایس پی آپریشنز نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں خود میں پاکستانیت پیدا کرنی چاہیے۔ہماری اقدار اگرچہ ٹیکنالوجی سے متاثر ہو رہی ہیں مگر ہمیں انہیں مثبت انداز میں اپنانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ذوالفقار احمد چیمہ ڈی آئی جی گوجرانوالہ کو جس طرح اُردو زبان پر عبور حاصل ہے میری خواہش ہے کہ ہم سب کو بھی یہی ذوقِ سلیم میسر آئے۔آخر میں ذوالفقار احمد چیمہ ڈی آئی جی گوجرانوالہ نے سب شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے آئندہ اجلاس کے بارے میں مختصراً بتایا کہ محرم الحرام کے بعد گوجرانوالہ تھنکرز فورم کے پلیٹ فارم سے شہریوں کو صفائی کے بارے میں تحریک دی جائے گی اور فورم کے تمام ممبران خود اس صفائی کی مہم میں حصہ لیں گے اور شجرکاری کے موسم میں شجر کاری کا بھی اہتمام کریں گے۔اس اجلاس میں متذکرہ بالا اہلِ دانش کے علاوہ دیگر ممتاز ادبی ، سماجی، سیاسی، تعلیمی اور تاجر برادری کے علاوہ ہر مکتبہ فکر کے نمائندہ افراد نے شرکت کی۔اجلاس کے تمام شرکاکو کامل یقین تھا کہ گوجرانولہ تھنکرز فورم ، ذوالفقار احمد چیمہ ڈی آئی گوجرانوالہ کی فکری راہنمائی میںموثر کردار ادا کرے گا۔ تمام دانشوروں نے اس پلیٹ فارم اور ذوالفقار احمد چیمہ کی قیادت کو بے حد سراہا اور ان کے اس اقدام کو دلی گہرائیوں سے ویلکم کہا۔شرکا نے یکساں طور پر اس رائے کا اظہار بھی کیا کہ گوجرانوالہ تھنکرز فورم متنوع خصوصیات کا حامل ہے اور اس میں ہر طبقہ فکر کی نمائندگی ہو گی ۔کیونکہ اس سے قبل جو تنظمیں یا فورمز چل رہے ہیں وہ کسی خاص مکتبہ فکر کے مقاصد کے حصول کے لیے کام کرتے ہیں، ادبی تنظیمیںصرف مشاعروں تک محدود رہتی ہیں، فلاحی تنظمیں صرف چند منتخب کردہ مقاصد پر کام کرتی ہیںجبکہ گوجرانوالہ تھنکرز فورم ملکی مسائل کے مختلف النوع موضوعات، فکری راہنمائی، راہِ عمل کو متعین کرنے اور شہریوں کی کردار سازی کے ذریعے قومی تشخص کی بقا اور ملکی سالمیت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ دیگر اہم امور اور مسائل کے حل کے لیے موثر اقدامات کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔شہریوں نے اس فورم کے قیام پر انتہائی مسرت اور امید افزائی کا اظہار کیا ہے۔کیونکہ شہریوں کو پہلے ہی اس بات کا قوی یقین ہے کہ ذوالفقار احمد چیمہ ڈی آئی جی گوجرانوالہ جس کام کا بیٹرہ اٹھاتے ہیں وہ لازماً پورا ہو جاتا ہے۔شہریوں کو ذوالفقار احمد چیمہ کی انتظامی اور فکری قیادت پر بھرپور اعتماد ہے۔اور وہ اس بات پر بے حد نازاں ہیں کہ ذوالفقار احمد چیمہ نے ان کے اعتماد کو کبھی بھی آنچ نہیں آنے دی۔ذوالفقار احمد چیمہ ڈی آئی جی گوجرانوالہ اس مثبت اقدام پر مبارکباد اور ستائش کے حقدار ہیں جنہوں نے اس فورم کے ذریعے معاشرتی تبدیلی کا آغاز کیا ہے۔ فورم نے عندیہ دیا ہے کہ محرم الحرام کے بعدشہر میں صفائی کی مہم کا آغاز کیا جائے گا۔ لگتا ہے کہ لوگوں کی امیدیں ضرور بار آور ثابت ہوں گی۔کیونکہ انہیںاب سماجی سطح پر بھی ایک مکمل اور باعمل قیادت میسر آ گئی ہے۔ اللہ کرے کہ یہ قیادت تا قیامت سلامت رہے۔آمین۔