Home » Article » مجبور انسان۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:مہر محمد امین

مجبور انسان۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:مہر محمد امین

محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد میاں نواز شریف سب سے پاپولر لیڈر ہیں۔ سیاست میں سب سے قد آور شخصیت ہیں مگر ایک لیڈر سے جو توقعات لوگوں نے وابستہ کررکھی ہوتی ہیں وہ توقعات ان سے پوری ہوتی نظر نہیں آتیں۔ ہم نے سیاست میں سب سےLucky میاں صاحب کو پایا جن پر اقتدار کی دیوی بہت جلد مہربان ہوئی۔ یہ ان کے سفید و گلابی رنگ کا کمال تھا یاکہ ان کی پشت پناہی کرنے والی شخصیات کا کمال۔ بہرحال انہوں نے اقتدار کی دیوی کو تو رام کرلیا مگر ہم نے انہیں ہمیشہ بے بس لیڈرپایا۔ لیڈر توانقلاب برپا کردیتے ہیں مگرمیاں نواز شریف نے بطور وزیراظم بھی خو د کو بے بس تسلیم کیا اور انہوں نے کہا کہ کارگل کے سلسلے میں انہوں نے بڑے صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا۔ کارگل میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ انہوں نے کہا میرے سینے میں ابھی تک بہت سے راز دفن ہیں وہ باہر نہ ہی نکلیں تو اچھاہوگا مجھے کچھ نہیں پتہ تھا کہ کارگل میں یہ سب کچھ ہو رہاہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں اربوں ڈالر کو منجمند کرنے کو اپنی غلطی تسلیم کرتا ہوں مجھے سٹیٹ بینک کے گورنر نے مجبور کردیاتھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم نے آصف علی زرداری کواندر نہیں کیاتھا یہ فاروق لغاری نے کیامگر وہ کھاتے ہمارے پڑ گئے۔ جب پہلی دفعہ انہوں نے وزارت عظمی سے استعفی دیا اس وقت بھی وہ بہت مجبور تھے انہوں نے قوم سے خطاب میںکہا تھا کہ میرے ہونٹ سلے ہوئے ہیںاوراب بطور اپوزیشن لیڈر بھی وہ مجبور ہیں یہ بھی مجبوری کی انتہاء ہے کہ نہ وہ اقتدار میں ہیں نہ ہی وہ اپوزیشن لیڈر ہیں اور یہ بھی وہ مجبوری کی حالت میں فرمارہے ہیں کہ حکومت سترہویں ترمیم کا خاتمہ کرے اگر میاں صاحب سترہویں ترمیم کاخاتمہ چاہتے ہیں تو پارلیمنٹ میںاپنے اراکین اسمبلی سے بل پیش کیوں نہیںکرواتے۔ (ن) لیگ پارلیمنٹ میں سترہویں ترمیم کے خاتمہ کابل پیش کرے۔ وہ قراردادپاس ہوتی ہے یا نہیں۔ اس بل کو کامیابی ہوتی ہے یا نہیں یہ الگ بات ہے۔ کم از کم قوم کویہ یقین دہانی توہوجائے گی کہ مسلم لیگ (ن) اور میاں نواز شریف سترہویں ترمیم کا خاتمہ چاہتے ہیں اوروہ لوگ بھی بے نقاب ہو جائیں گے جو نعرہ جمہوریت کا لگاتے ہیں اور سترہویں ترمیم کے خاتمہ کے حق میں ووٹ دیتے ہیں یا اس کی مخالفت میں ووٹ ڈالتے ہیں۔ میاں صاحب نے جہاں یہ فرمایاہے کہ سترہویں ترمیم کا فی الفور خاتمہ ہونا چاہئیے وہاں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ حکومت کوغیر مستحکم کرنے والے کسی جزو کاحصہ نہیں بنیں گے۔ شائد وہ سترہویں ترمیم کے خاتمہ کے بل کو حکومت کے غیر مستحکم ہونے سے مشروط کرتے ہیں۔ میاں نواز شریف کی شخصیت اس وقت دوہری شخصیت کی حامل ہے لوگوں کو میرے سمیت یہ سمجھ نہیں آرہی کہ وہ موجودہ وفاقی حکومت کا حصہ ہیں یا اپوزیشن کا حصہ ہیں۔ان کے حکمرانوں سے روابط کچھ اور کہانی بیان کرتے ہیں اوران کے پریس میڈیا میںبیانات کچھ اور عکاسی کرتے ہیں۔ اوپر سے امریکی سفیر اور امریکی وزراء سے ملاقاتیں انہیں اور امتحان میں ڈال دیتی ہیں۔ آج کل ان کی شخصیت اسی دور کی عکاسی کرتی ہے جب محترمہ بینظیر بھٹو کادور تھا محترمہ بینظیر وزیراعظم تھیں مولانا فضل الرحمان وفاقی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف بیانات داغتے اور جب وزیراعظم سے ملاقات کرتے ان کے بیانات میں تبدیلی آ جاتی چند دنوں تک ملاقات کا اثررہا اور جب اثر زائل ہو جاتا پھر سے مخالفانہ بیانات کاسلسلہ شروع ہوجاتا۔ محترمہ پھر ملاقات کے لئے بلا لیتی تھیںوہی کچھ آصف علی زرداری کررہے ہیں۔ فرق صرف اتناہے کہ محترمہ مولانا کو بلواتی تھیں آصف علی زرداری کبھی خود ملنے آ جاتے ہیں کبھی میاں صاحب کو بلوا لیتے ہیں اور میاں صاحب بیانات میں تبدیلی لے آتے ہیں اور جب ملاقات کاوقفہ بڑھ جاتاہے تو حکومت مخالف بیانات داغنے شروع کردیتے ہیں۔ اور نورا کشتی کا یہ عمل جاری وساری ہے۔د لچسپ بات یہ ہے کہ میاں نواز شریف آصف علی زرداری سے مطالبہ کرتے ہیںکہ وہ سترہویں ترمیم کے خاتمہ کا اعلان کریں دوسری طرف آصف علی زرداری بذات خود مطالبہ کررہے ہیںکہ سترہویں ترمیم کا خاتمہ ہونا چاہئیے ۔ آصف علی زرداری نے سترہویں ترمیم کے لئے ڈیڈ لائن دے دی ہے۔ انہوں نے ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا ہے کہ مارچ تک 58ٹو بی سمیت متنازعہ آئینی شقیں ختم کی جائیں اور میں یہ آئینی شقیں ختم ہونے کے بعد ہی پارلیمنٹ سے خطاب کروں گا۔ یوں سمجھ لیجئے کہ اب صدر صاحب پارلیمنٹ سے خطاب کا کوئی ا رادہ نہیں رکھتے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ آصف علی زرداری بھی سترہویں ترمیم کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ میاں نواز شریف بھی اس کاخاتمہ چاہتے ہیںمگر نہ آصف علی زرداری کی پارٹی پارلیمنٹ میں بل پیش کرتی ہے نہ ہی میاں نواز شریف کی پارٹی پارلیمنٹ میں کوئی عملی قدم اٹھاتی ہے تو یہ کیسے ممکن ہوگا۔ دونوں بڑی پارٹیاں17ویں ترمیم کے خاتمہ کااعلان کرتی ہیںمطالبہ کرتی ہیں مگر صرف زبانی جمع خرچ ہوتاہے۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ ایک لڑکا اپنی محبوبہ سے کہتا ہے ڈارلنگ آج ہم سینما ہال میں فلم دیکھنے چلیں گے اور سینماہال کی سب سے آخری سیٹ میں بیٹھیں گے۔ لڑکی نے حیرانگی سے کہا اگر سب سے آخری لائن میں سیٹ نہ ملی تو؟ لڑکے نے کہا ،،پھر فلم دیکھیں گے،،۔ دونوں پارٹیاں آخری لائن میں سیٹ ڈھونڈنے پہ لگی ہوئی ہیں۔ انہیں فلم سے کوئی دلچسپی نہیں اور ویسے بھی اس ملک کی فلم بڑی بھیانک ہے اور بھیانک فلم میں ہر کوئی اپنا چہرہ دیکھنے سے کتراتا ہے اس فلم کا ڈائریکٹر ایک ہی ہے فلم بھی ایک ہی چل رہی ہے کردار بدلتے رہتے ہیںاور کرداروں کے صرف چہرے بدلتے ہیں عملی طور پر سب کردار ایک ہی کردار ادا کررہے ہیں۔ لوٹ مار، کرپشن، بددیانتی، اقرباء پروری اور اس فلم کے کرداروں میں ولن کا کردار فلمی ولن سے زیادہ بھیانک ہے۔ اب اس فلم کے ڈائریکٹر نے مین کردار ایکٹر کریکٹر کا رول ہماری فوج کو دے دیاہے اور اپنی فلم کو کامیاب کرانے کے لئے ڈالروں کی کھیپ میں اضافہ کردیاہے اور فلم کی کامیابی کے لئے اس کی نمائش الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ تمام دنیا کے ٹی وی چینلز پر دکھائی جارہی ہے۔ اس فلم میں انسانیت دم توڑ رہی ہے مساجد میں معصوم نمازیوں کو بارود سے اڑا دیاجاتاہے ،انسانیت کی تخلیق کا سازو سامان جلا کر بھسم کردیاگیاہے، ہر طرف آہ وپکار ہے، سرد لاشوں کے انبارہیں، کٹے ہوئے سر، کٹے ہوئے ہاتھ اور پاؤں ،انسانی لوتھڑوںکے ڈھیر ہیں اور ہر طرف موت کی وحشت ناچ رہی ہے، انسانیت کی تذلیل پہ ہر آنکھ اشکبار ہے اورچوراہے میں پڑی بے گورو کفن لاش کہہ رہی ہے۔
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرارہوں
جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشت غبار ہوں