Home » Article » موجودہ نظام حکومت جمہوریت یا پھر فریب؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر: احسان اللہ منہاس

موجودہ نظام حکومت جمہوریت یا پھر فریب؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر: احسان اللہ منہاس

جناب یہ نظام حکومت ہماری قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح اور مصور پاکستان علامہ محمد اقبال کی انتھک پر خلوص مساعیوں سے دنیا کے نقشے پر ایک بڑی اسلامی ریاست کاوجود تو آگیا مگر افسوس کے آج تک بڑی ریاست سے چھوٹی ریاست میں تبدیل تو ہو گئی مگر پھر بھی اسلامی ریاست نہ بناسکے اور نہ ہی اسلامی اقدار کو اپنے خطہ ارض پر اپنا سکے۔ لاالہ الاللہ کی صدائیں تو گونجتی ہیں مگر لاالہ الا اللہ کی روح اصل میں ہم سے ناراض نظر آتی ہے۔چونکہ سلطنت اور حکمرانی صرف اور صرف طاقتور لوگوں کی طرف سے کمزور لوگوں کا استحصال کرتی رہے گی یہ عمل تو ایک ایسے سامری کے جادو کی طرح ہے کہ اگر کوئی کمزور یا فرد اپنی آزادی کیلئے جدو جہد کرتا ہے اور استحصالی قوتوں کے خلاف نبرآزما ہوتا ہے تو طاقتور حکمران اپنے سحر انگیز حربوں سے انکی قوت مدافعت کو ختم کردیتا ہے تو جناب جان لیجئے گا کہ پاکستان میں بھی اسی طرح پچھلے کئی برسوں سے حکمران اپنے جابرانہ غیر منصفانہ طلسم کو بکھیرنے میں مگن رہے ہیں لیکن موجودہ صدر مملکت آصف علی زرداری اور ان کی ٹیم نے صرف اپنی یورپی شکتیوں بلکہ جابرانہ طلسم اور غیر منصفانہ حربوں کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے ساتھ مزید انکو تقویت بھی بخشی۔ جب ایسے حکمران عوام پرچالاکی اور مکاری کا جابر طلسم بکھیرتے ہیں تو وہ طوق غلامی پر فخر کرنے لگ جاتے ہیں یہ صورت حال کسی حد تک قائم رہتی ہے مگر جب مظلوم اور غلام قوموں پر حقیقت حال واضھ ہوتی ہے تو انکی غیرت اور ہمت جاگ اٹھتی ہے۔اس طرح کوئی بھی غلام یافرد اُٹھ کر استحصالی قوتوں کو ختم کردیتا ہے۔ بے شک حقیقی حکمرانی تو واحد قہارکی ذات تک محدود ہے باقی تمام بادشاہت، حکمرانی،صدارت وغیرہ مصنوعی حیثیت کے حامل ہے۔ لہذا جناب موجودہ نظام حکومت کا جائزہ لیا جائے تو ایسا لگتا ہے جیسے فریب کے سوا کچھ بھی نہیں۔ایسا نظام حکومت تو ایک دیو کی طرح ہے جو ظلم ستم جسکا شعار ہے ویسے تو بدقسمتی سے موجودہ نظام حکومت کو ہی انفرادی آزادی کا پیغام لانا ہی سمجھا جاتا ہے۔سچ تو یہ ہے!یہ وہی پرانہ نظام جوبادشاہت اور قیصریت سے ہم آہنگ ہے۔ مغرب کا نیا نظام جیسے دنیا بھر کے سیاست دان اور دانشور جمہوریت سے تعبیر کرتے ہے۔نہ زرگروں کے خدا کی خدائی چلنے دو،انہیں بتا دو! بھلا کیاہے طاقت جمہور، جہاں میں عام کرو اپنے عدل کا مشنور! دراصل جمہوری نظام میں عوام کی زندگی کو منظم کرنا رعاتیں دینا،سہولتیں میسر کرنا اور عوامی حقوق کی ترجمانی کرنا ہے یہ مغرب کی استعاریت کا ایسا نسخہ ہے جس کے اثرات بظاہر شریں ہیں مگر افسوس موجودہ نظام حکومت جمہوریت کی بھیس میںعوامی حقوق کی ترجمانی کی بجائے غافل کر دینا ہے۔یہ اعضائے مجالس یعنی اسمبلیاں اور ان کے ارکان کی گرما گرم اور پرجوش تقریروں سے اس امر کا اظہار کرتی ہیں کہ عوامی مسائل کو جیسے چٹکی بھر میں حل کر دیا جائے گا لیکن اس ملک کے آئینے میں موجودہ حالات کی تصویر آپ کے سامنے ہے جس میں انرجی سیکڑ،صنعت و پیداوار، قومی سلامتی اور ماضی کے ڈکٹیٹرو کو تحفظ فراہم کرنا اور ان کے بنائے ہوئے کالے قانون این آر او کا سہارا لیناہے یا پھر روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ محض ایک نعرہ اور بلیک واٹر جیسے گہنونے عزائم شامل ہیں کیا یہ نظام حکومت اصل جمہوریت ہے۔ ۔ ۔ ؟یا پھر امریکی آقاؤں کی طرز حکومت کو جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر رسوا اور بدنام کیا جارہا ہے۔