Home » Article » شاہد ہ نسرین SPٹریفک ریجن گوجرانوالہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:عبدالطیف اُپل

شاہد ہ نسرین SPٹریفک ریجن گوجرانوالہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:عبدالطیف اُپل

قبل از اسلام عورت کا معاشرہ میں کوئی مقام نہ تھا حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا جہالت کی انتہا تھی۔ بیٹی پیدا ہوتے ہی اسے زندہ در گور کر دیا جاتا تھا طلوع اسلام کے بعد عورت کو مرد کے برابر حقوق دیئے گئے اور معاشرہ میں عورت کا مقام عزت احترام کو ملحوظ خاطر رکھا گیا یہاں تک ہر شعبہ زندگی میں برابر کا شریک سمجھا گیا اس میں حکومت، سیاست،جنگ،امن، عدالت، تجارت، فوج، مدارس، بینک، پولیس دیگر شعبہ جات میں عورت مرد کے برابر اپنے فرائض منصبی بڑے احسن طریقے سے سرانجام دے رہی ہے جس کی چند مثالیں ام حفصہؓ،ملکہ نور جہاں سابق متحدہ ہندوستان کی شہنشاہ محترمہ فاطمہ جناحؒ اور محترمہ بے نظیر بھٹو ہیں جہاں میں نے دیگر محکموں کے ساتھ محکمہ پولیس کا ذکر کیا ہے تو محکمہ پولیس میں ایک فرض شناش، ایماندار، انصاف پسند،لائق، تجربہ کار،اعلیٰ تعلیم یافتہ،نڈر، جرات مند اور اعلیٰ صلاحیتوں کی مالک محترمہ شاہدہ نسرین صاحبہ SPٹریفک ریجن گوجرانوالہ کا ذکر کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔اور قارئین کی نظر پیش کرتا ہوں شاہدہ نسرین کے والد گرامی ایک ریٹائرڈ پولیس آفیسر ہیں اور والد گرامی ملک رفاقت علی ضلع جہلم کے گاؤں کویٹالہ قلعہ روتاس میں رہائش پذیر ہیں انکے دو برادر حقیقی ہیں جو بیرون ملک میں ہیں۔ موصوفہ کا خاندان غیر سیاسی ہے۔محترمہ شاہد نسرین نے ابتدائی تعلیم آبائی گاؤں کویٹالہ قلعہ روتاس کے پرائمری سکول سے حاصل کی۔ بعد ازاں باغبانپورہ کالج لاہور سے گریجو یشن کرنے کے بعد ایم اے اردو میں کیا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد محترمہ شاہدہ نسرین محکمہ پولیس میں بطور 1978 SIکو بھرتی ہوئیں اور بعد ازاں 1996ء میں بہتر کارکردگی اور ہائی کورٹ میں اپیل کر کے دس سال بعد انسپکٹر لیڈی پولیس کے عہدہ پر ترقی حاصل کی۔ موصوفہ نے کمپیوٹر کورسز تمام کئے اور محترمہ 2005ء میں DSPکے عہدہ پر ترقی پا گئیں اور سپیشل برانچ میں تعیناتی ہوئی۔آپ نے چوہنگ ٹریننگ سنٹر میں تدریس کے فرائض بھی سرانجام دیئے۔ بعد ازاں حکومت کی جانب سے مشن سوڈان اور یو این او مشن پر 2007ء سے 2008ء تک گئیں۔اور موصوفہ قلعہ گوجرسنگھ لائن میں بھی لیڈی ڈی ایس پی تعینات ہوئیں۔نومبر 2008ء میں ترقی پا کر SPبن گئیں۔SPبطور ترقی پانے کے بعد محترمہ شاہد نسرین بغیر کوئی پوسٹنگ سنبھالے فریضہ حج ادا کرنے چلی گئیں۔دسمبر میں واپس آکر موصوفہ نے 19جنوری 2009ء کو بطورایس پی لیڈی ٹریفک پولیس گوجرانوالہ ریجن فرائض سنبھالے اور آج موصوفہ خوش اسلوبی سے اپنے فرائض منصبی ادا کر رہی ہیں۔انہوں نے بتایا میں اپنے والد گرامی کی خواہش پر پولیس میں بھرتی ہوئی ہوں کیونکہ میرے باپ کی خواہش تھی کہ میرا کوئی بیٹا پولیس محکمہ جائن کرے۔ تاہم میرا بھائی کوئی بھی محکمہ پولیس نہ جائن کر سکا۔البتہ میں نے بیٹا بن کر باپ کے روکنے کے باوجود میرٹ پر بغیر سفارش کے محکمہ پولیس میں بطور ایس آئی بھرتی ہوئی۔ محترمہ نے بتایا اگر میں محکمہ پولیس اختیار نہ کرتی تو میں کسی بھی محکمہ میں سروس نہ کرتی۔انہوں نے بتایا میں جب سے محکمہ پولیس میں بھرتی ہوئی ہوں اور اس وقت تک مردوں کے ماحول میں کام کرتے ہوئے عورت کی بجائے مرد ہی بن کر دکھایا ہے۔ مجھے مردوں میں ڈیوٹی سرانجام دیتے کوئی جھجھک محسوس نہ ہوتی ہے میں ایک مرد آہن لیڈی پولیس آفیسربن کر اپنے فرائض بڑے خوش اسلوبی، مہارت، بااخلاق، دیانتداری ، جرات مندانہ طریقہ بغیر دباؤ کے یہ بانگ دھل ادا کر رہی ہوں۔اس ماحول کو اجنبی محسوس نہ کرتی ہوں۔ البتہ جب میں گھر پر ہوتی ہوں تو اپنی اولاد کی شفیق ماں ہوتی ہوں۔میں صرف ماں اور صرف ماں ہوتی ہوں اور اپنی اولاد کی طرف تعلیم،تربیت، بہتری کا خیال رکھتی ہوں۔میں گھر میں پولیس آفیسر نہ ہوتی ہوں۔انہوں نے بتایا میں اپنے عملہ سے اخلاق، پیار اور شفیق رویہ رکھتی ہوں عملہ کے دکھ سکھ میں برابر کی شریک ہوں اور اپنے عملہ سے جانفشانی اور ایمانداری سے ڈیوٹی لینا اپنا جائز فرض گردانتی ہوں۔انکے جائز مطالبات اور حقوق کو بلا تعمل پورا کیا جاتا ہے۔انہوں نے بتایا ٹریفک پولیس کے چار شعبے ہیں جن میں پیٹرولنگ،موٹروے پولیس ویژن پولیس سٹی پولیس اور ٹریفک پولیس انہوں نے بتایا ٹریفک پولیس کی ذمہ داری میری ہے ٹریفک پولیس گوجرانوالہ لیڈی ایس پی ٹریفک ہوں۔ انہوں نے بتایا ٹریفک کے نظام کو بہتر کنٹرول کرنے اور اسے چلانے کے متعدد اقدامات کئے ہیں تاکہ ٹریفک کا نظام بہتر طریقے پر چل سکے۔ سکول، کالج لاری اڈوں روڈ کے چوکوں جو ہماری ٹریفک پولیس کے انڈر کنٹرول ہیں ٹریفک کنٹرول کرنے کے بارے ٹریننگ دی جاتی ہے ایجوکیشن ٹیم بھی تشکیل دی جاتی ہے ۔ٹریفک سائن بورڈ اشاروں والے بنوائے اور آویزاں کئے گئے ہیں ٹریفک کے قواعد اور اصولوں کے متعلق عوام الناس کو آگاہی دی جاتی ہے۔ڈسٹرکٹ میں DSPٹریفک اور ریجن میں میں خود ٹریفک اصولوں کے بارے دربار،کھلی کچہریاں لگاتی ہوں۔ عوام کی سہولت کیلئے پمفلٹ، سکولوں کے باہر گاڑیوں والوں اور چوکوں میں چسپاں کئے جاتے ہیں اؤنانسیمنٹ کے ذریعہ بھی انفارم کیا جاتا ہے۔زبیرا کراسنگ کے بارے عوام کو آگاہی کی جاتی ہے۔ایک سوال کے جواب میں بتایا ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ڈرائیورز حضرات کو جرمانہ اور سزا بھی دی جاتی ہے۔ اشارہ کاٹنے والا ٹریفک قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے حادثات کا موجب بنتا ہے۔ اگر کوئی ناخوشگوار واقع رو پذیر ہوتو دوسری تھانوں والی پولیس جو جدید اسلحہ سے لیس ہوتی ہے فوری مجرموں کے خلاف کارروائی کرتی ہے۔اس لئے ٹریفک پولیس جدید اسلحہ دوران ٹریفک ڈیوٹی نہ رکھتے ہیں۔ البتہ اپنے ٹریفک کے پولیس کے دفاترز میں ہمارے اہلکار ڈیوٹی کے دوران جدیداسلحہ سے لیس ہوتے ہیں کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نپٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔انہوں نے بتایا ٹریفک پولیس کے عملہ کو بااخلاق فرض شناش، ایماندار کمزوروں بوڑھوں راستہ بھٹکے والوں کی دست گیری کریں سڑک عبور کرانا معذوروں بے سہارا کو کروانا بھی ڈیوٹی میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ پیٹر رکشا والے ہمارے ٹریفک کنٹرول کے ذمرہ میں نہ آتے ہیں انکے خلاف کارروائی موٹر وے، پٹرولنگ پولیس اور آرٹی سیکرٹری کرتے ہیں۔ البتہ پیٹر رکشہ والوں کا کیس ہائی کورٹ میں چل رہا ہے انہوں نے بتایا اگر کوئی میرا ٹریفک پولیس آفیسر یا ملازم رشوت لیتا پکڑا جائے تو اس کے خلاف محکمانہ سخت کارروائی کی جاتی ہے۔انہوں نے بتایا سروس میں دو ملازمین کو ایسا کرنے پر انکی دو دو سال سروس کاٹی اور غیر حاجری پر بھی اور ڈیوٹی سے غفلت پر سخت ایکشن لیا جاتا ہے۔انہوں نے بتایا میرے آفس کے دروازے دوران ڈیوٹی ملازمین اور شکایت کنند گان اور سائلین کیلئے کھلے رہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا میں ڈرائیونگ لائسنس ہولڈر کو ہر ڈسٹرکٹ میں جا کر لائسنس بنوانے والوں کے ٹیسٹ فرداً فرداً لیتی ہوں۔ ایک سوال کے جواب میںمحترمہ شاہدہ نسرین لیڈی SPٹریفک گوجرانوالہ نے بتایا ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب طارق کھوکھر نے متعدد بار وزٹ کیلئے ٹیمیں ارسال کیں اور خود بھی چیک کیا ہمارے گوجرانوالہ ریجن کی کارکردگی،پنجاب پورے میں نمایاں اور بہتر رہی ہے۔ ہمارے ایڈیشنل آئی جی ٹریفک پنجاب محمد زاہد محمود ہیں اورریجن گوجرانوالہ میں RPOذوالفقار علی چیمہ ہیں۔انہوں نے کہا مذکورہ بالا شفیق افسران کی راہنمائی سرپرستی اور احکامات کی روشنی میں عمل کر کے ٹریفک کے نظام کو پورے ریجن گوجرانوالہ میں بہتر سے بہتر بنا رہے ہیں۔محترمہ شاہدہ نسرین نے بتایا دہشت گردی اور انتہا پسندی کے ذریعہ ناحق خون کرنے کی کوئی بھی مذہب اجازت نہ دیتاہے ان لوگوں کا انسانیت سے کوئی واسطہ نہ ہے۔ انہوں نے بتایاموجودہ نازک دور میں عورت کیلئے تعلیم ازحد ضروری ہے۔ملک وقوم اپنے اور اپنے اہل خانہ کیلئے بھی انہوں نے بتایا میڈیا، اخبارات ٹی وی ملک میں قیام امن اور ٹریفک قوانین کی عوام کو آگاہی کیلئے بہتر کردار ادا کر سکتے ہیں۔مثبت اور تعمیری اصلاحی تنقید مفید ثابت ہو سکتی ہے اور معاشرہ میں بہتری آئے گی۔انہوں نے کہا قیام امن ٹریفک قوانین کی آگاہی کیلئے حکومتی سطح پر تعلیم کو عام کرنا بیروز گاری کا خاتمہ اور نوجوانوں کو ملازمتیں فراہم کرنے سے جرائم میں کمی ہوگی۔لوگ خوشحالی زندگی بسر کرینگے۔ انہوں نے بتایا میرے پاس عملہ کافقدان ہے پھر بھی اپنے ٹریفک کنٹرول کے فرائض بہتر سرانجام دیئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا ایک اچھا پولیس ٹریفک آفیسر دیانتدار،فرض شناس،بے لوث خدمت کا جذبہ سے موجزن ہو جرات مند نڈر انصاف پسند ہو، لالچی اور حق تلفی کرنے والا نہ ہو۔انہوں نے بتایا عوام ٹریفک پولیس سے تعاون کریں قوانین کی پابندی کریں ڈرائیور طبقہ کاغذات مکمل اور غلط ذریعہ سے پولیس سے مفاد حاصل نہ کریں اور غلط ڈرائیونگ سے اجتناب کریں۔انہوں نے بتایا وقت کا تقاضا ہے حکومت سیاستدان محب وطن عوام ملک میں قیام امن اور سنگین نازک حالات کا ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر جوانمردی سے مقابلہ کریں۔دشمن کے مذموم عزائم ناکام ہونگے۔ اگر آفیسر محترمہ شاہدہ نسرین ایس پی ٹریفک جیسے دیانتدار،جرات مند، فرض شناس،انصاف پسند، شفیق بالا اخلاق بن جائیں تو کوئی وجہ نہ ہے جرائم سے معاشرہ پاک نہ ہو اور قانون کی پاسداری نہ ہو قوم ایسے لائق فرض شناس ٹریفک پولیس آفیسر پر کیوںنہ ناز فخر کرے جو دوسروں کیلئے مشعل راہ ثابت ہوں۔