Home » Article » کبھی عوام بھی وی۔آئی۔پی بنائے جائیں !۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:ثاقب تبسم

کبھی عوام بھی وی۔آئی۔پی بنائے جائیں !۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:ثاقب تبسم

پاکستان نے جب سے ہوش سنبھالا ہے بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے ہی دبا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہاں کے اندرونی معاملات میں بھی بیرونی مداخلت برداشت کرنا پڑتی ہے۔یہ قرضہ مختلف منصوبوں اور امدادی کاموں کی غرض سے لیا جاتا ہے یہ اور بات ہے کہ اس کا استعمال اور ہی ’’منصوبوں،، میں ہوتا ہے۔ تاہم اتنا ضرور ہے کہ مختلف منصوبے ہمیں نظر ضرور آتے ہیں تا کہ قرضہ دینے والی قوتوں کو یہ سہارا رہے کہ اُن کی دی ہوئی رقم بتائے گئے کام پر استعمال ہو رہی ہے۔ اس ملک میں یہ قرضے بالعموم تعلیم،صحت،روزگار کی فراہمی، یتیم اور بے سہارا بچوں کی کفالت، سنگین حادثات اور قدرتی آفات کے نتیجہ میں پیش آنے والی مشکلات پر قابو پانے،اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لئے حاصل کئے جاتے ہیں۔درپردہ تو ایسی تمام رقوم اللے تللوں میں کہیں گُم ہو جاتی ہیں،ورنہ یہاں کوئی بھی بھوکا، پیاسا نہ سوئے۔یہاں تعلیم یافتہ بے روز گار ڈگریاں ہاتھوں میں تھامے سڑکیں نہ ناپیں،یہاں سفارش، رشوت اور ’’کوٹے،،کے بغیر صحیح معنوں میں میرٹ پر سب کو بلا تفریق نوکریاں ملیں۔یہاں بیماری کی وجہ سے بے شمار اموات نہ ہوں اور نہ ہی غریب مریض علاج کو ترسیں۔یہاں یتیم اور بے سہارا بچے بے راہوروی کا شکار نہ ہوں اور نہ ہی وہ منفی ہاتھوں کا آلہ کار بنیں۔یہاں غربت کی وجہ سے لوگ اپنی اور اپنے ہم وطنوں کی زندگیوں کا سودا نہ کریں۔ اگر یہ تمام رقوم صحیح مقاصد کے تحت خرچ ہوں تو یہاں ایسے شاندار منصوبوں کی تکمیل ہو جن سے ملک دن دُوگنی رات چوگنی ترقی کرے۔اگر ان قرضوں کا پچاس فیصد بھی ایمانداری سے خرچ ہو تو پانچ سال قبل آنے والے زلزلہ کی تباہی کے ظاہری اثرات کا خاتمہ ہو جائے۔غیر ملکی تنظیموں اور اداروں کے اشتراک سے ملک بھر میں محکمہ تعلیم اور صحت میں مختلف پیمانوں پر پیشہ ورانہ تربیتی ورکشاپس کا انعقاد جاری ہے جن کا مقصد یہ ہے کہ جونیئر اور کم تعلیم یافتہ اساتذہ اور ڈسپنسرز وغیرہ کو عہدِ جدید کی پیشہ وارانہ تکنیک سے آگاہی دلائی جائے۔کچھ پروگرام تو ان دونوں محکموں کے اشتراک سے بھی چل رہے ہیں جن میں پرائمری لیول کے طلبہ و طالبات کا میڈیکل چیک اپ اور اس کے نتیجہ میں متا ثرہ بچوں کے مفت علاج کی تربیت بھی شامل ہے۔ لیکن بد قسمتی سے ایسے تمام پروگرامز اور ورکشاپس صرف اور صرف حاضری تک ہی محدود ہیں۔باقی سب ٹوپی ڈرامہ ہے۔شائد کہیں کسی کے اند فرض شناسی جاگی ہو اور اس نے ان پروگرامز میں صدقِ دل سے حصہ اور دل چسپی لی ہو،ورنہ بحیثیتِ مجموعی تو یہ وقت اور پیسے کا ضیاع ہی ہے۔ایسے ہی حالات ملک بھر میں ہر محکمہ میں ہیں۔اوپر کا پیسہ اوپر ہی رہ جاتا ہے۔کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں۔ کوئی کسی کو جواب دہ نہیں۔اگر کوئی جواب دہ ہے تو وہ بس اتنا کہ کس کو کیا بچا؟بیرونی ممالک سے جاری ہونے والا قرضہ ہماری حکومت کو وصول ہوتا ہے اور پھر ہماری حکومت ہی اس قرضے کو ’’حکومت،، پر لگا دیتی ہے۔صدر سے نچلے درجے کے وزیر اور ان کے مشیر اس پیسے کو اپنی ’’ٹپ ٹاپ،، اور ’’بلے بلے،، پر اُڑاتے ہیں۔ پرویز مشرف کے دور میں سب لوگ بہت اعتراض کرتے تھے کہ یہ حکومت وی۔آئی۔پی کلچر کو زیادہ فروغ دے رہی ہے، لیکن موجودہ حکومت تو ہر ریکارڈ توڑ کر اُسے نئے سرے سے بنانے پر تُلی ہوئی ہے۔پرویز مشرف نے غیر ملکی دوروں کا ریکارڈ قائم کیا اور دوروں کے دوران لباس بدلنے کی بھی نئی روایت ڈالی۔صدر جناب آصف علی زرداری اور اُن کی کابینہ بھی اس دوڑ میں کافی تیز چل رہی ہے۔ صدر صاحب کے ساتھ بیسیوں وزیر،مشیر اور ذاتی خدمت گزار حکومت کے خرچے پر عیاشی کرتے ہیں۔غیر ملکی دورے تو ’’پاور شو،، نہیں ہوتے۔۔۔ ایسے مہنگے دورے کثرت سے پاکستان کی عادت ہو رہے ہیں۔آصف زرداری تو خود بھی امیر کبیر ہیں،وہ ذاتی طور پر بھی پاکستان کے یہ اخراجات کافی حد تک بچا سکتے ہیں۔سرکاری ظہرانوں اور عشائیوں کا قصہ الگ ہے۔محترم وزیرِ اعظم لاہور میں اکثر تشریف لاتے ہیں اور جگہ جگہ دورے مارتے ہیں،جہاں سے اُن کا گزر ہوتا ہے اُس علاقہ کے لوگ اذیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ٹریفک روک دی جاتی ہے،لمبی لمبی لائنیں لگ جاتی ہیں،لوگوں کو انتظار کی سُولی پہ لٹکنا پڑتا ہے،شاہی سواری گزرنے کے بعد لاہور کے کسی بھی علاقہ میں پھنسی ٹریفک کو بحال ہونے میں کم و بیش ایک گھنٹہ ضرور لگ جاتا ہے۔۔گیلانی صاحب کے قافلے کو ساتھ 60 سے70 گاڑیاں ہوتی ہیں جن میں استعمال ہونے والا ایندھن سرکاری خزانے پر بوجھ کے سوا کچھ نہیں۔یہ مانا کہ یہ پٹرول آپ کی اپنی جیب سے نہیں جاتا لیکن ذرا یہ بھی تو سوچئے کہ اس کا بوجھ تو ہم جیسے غریبوں پر ہی پڑتا ہے۔۔کچھ تو ،کہیں سے تو ہمیں آپ بھی ریلیف دیں۔۔۔کیا ساری بچتیں ہم خود ہی کریں؟ اور آپ ہماری بچتوں سے عیاشی کریں؟؟ کیا گیلانی صاحب کا ہر بار لاہور میں اپنے تمام اگلے پچھلے عزیزواقارب سے ملنا بہت ضروری ہوتا ہے؟اگر اتنا ہی ضروری ہے تو اُن کے رشتہ دار اُن کے دولت خانے پر بھی آسکتے ہیں ،اس پر عوام کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ کیوں کہ اس سے کہیں بھی ٹریفک جام نہیں ہو گی۔اسی طرح ’’خادمِ اعلیٰ ،،میاں شہباز شریف رائے ونڈ سے آنے اور وہاں جانے کے دوران عوام کو مصیبت میں ڈالے رکھتے ہیں۔کیا عوامی خدمت وزیرِ اعلیٰ ہاؤس میں رہ کے نہیں کی جا سکتی؟ آخر اس وزیرِ اعلیٰ ہاؤس کا اور مصرف کیا ہے؟میاں نواز شریف ہی اس بارے میں کوئی دانش مندانہ مشورہ دیں ،کیوں کہ یہ مسئلہ اُن کے وطن کے عوام کا ہے اور وہ اپنے عوام سے بہت مخلص ہیں۔وہ حکمرانوں کو بتایئں کہ یوں عوام کو پریشان کرنا اچھی بات نہیں ہے۔ وہ دردمندی کے ساتھ عوام کے اس درد کی دوا کریں۔ جناب میاں شہباز شریف بہت زبردست منتظم ہیں،مِیں ذاتی طور پر اُن کی انتظامی صلاحیتوں کا معترف ہوں لیکن حیران ہوں کہ اس حوالے سے وہ کچھ اچھا کیوں نہیں کرتے؟ ممکن ہے کہ بہت مصروفیت کی وجہ سے انہیں ہر جگہ پہنچنے کی جلدی ہو۔لیکن ایسی ہی جلدی اور کسی کو بھی تو ہو سکتی ہے۔۔۔ کسی مریض،کسی طالب علم یا کسی مجبور اور غریب تعلیم یافتہ نوجوان کو۔۔۔اگر میاں صاحب اس بارے میں کچھ سوچ کر کوئی ایسا حکم نامہ جاری کر دیں کہ جس کے تحت کسی بھی وی۔آئی۔پی(جس میں وہ خود بھی شامل ہوں) کی آمد پر کہیں بھی ٹریفک نہ روکی جائے تو اس وطن کی تاریخ میں ایک شاندار باب کا اضافہ ہو جائے گا۔اسی طرح کئی اور بھی وزیر شذیر لاہور میں گھومنا پسند کرتے ہیں۔وہ اپنا یہ فرض شوق سے پورا کیا کریں لیکن اس ’’فرض،، کی ادایئگی کے دوران عوام کو تو ذلیل کرنا چھوڑ دیں۔ہمارے وی۔آئی۔پی حکمران اگر کسی سگنل پہ ایک آدھ منٹ کے لئے رُک جائیں تو اُن کی شان میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔انہیں بھی معلوم ہونا چاہئے کہ سرخ سگنل پر ٹریفک کچھ دیر کے لئے رُک جاتی ہے۔انہیں بھی معلوم ہو کہ اس ملک کے سولہ کروڑ عوام کی زندگی اس ٹریفک کی طرح رُک رُک کے چلتی ہے،ان وزیروں کی طرح بھاگتی نہیں۔لیکن ہمارے حکمران عوام سے بھی بھاگتے ہیں اور خود سے بھی ۔۔ورنہ اُن کے لئے ٹریفک خصوصی طور پر نہ روکی جائے۔ویسے تو یہ سب نعرہ لگاتے ہیں کہ وہ عوام کے خیر خواہ ہیں،عوام کی سہولت کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں،لیکن خود ہی عوام کو اس قدر پریشان کر رہے ہیں کہ عوام ان کو میٹھی گالیوں کے سوا کیا دے سکتی ہے؟انہیں کیا معلوم کہ اِن کی شان و شوکت ظاہر کرنے اور اِن کی آسانی کے لئے رُکنے والی اس ٹریفک سے عوام کا بہت نقصان ہو تا ہے۔کئی مریض اس بند ٹریفک کی وجہ سے وقت پر ہسپتال نہیں پہنچ پاتے اور اپنی زندگی کی بازہی ہار جاتے ہیں۔ جاری ہے کئی بے روزگار وقت پر انٹرویو دینے سے رہ جاتے ہیں ۔اور بھی لوگوں کے ڈھیروں مسائل ہیں جو اس وی۔آئی۔ پی کلچر کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ایسے حالات میں عوام سے کس سلوک کی توقع کی جا سکتی ہے،یہ اہلِ دانش خوب سمجھتے ہیں۔اس آنے جانے کے دوران سینکڑوں پولیس والے سیکیورٹی کے نام پہ سارا دن ایک جگہ پہ بندھے رہتے ہیں۔جتنی سیکیورٹی اِن وزیروں کے لئے خوامخواہ مقرر کی جاتی ہے اگر وہ ہی مختلف علاقوں میں عوام کی حفاظت کے پیشِ نظر استعمال کی جائے تو شائد اتنے دھماکے نہ ہوں۔جرائم کی شرح بھی کم ہو جائے۔اب تو یوں لگتا ہے جیسے پولیس صرف ان وی۔آئی۔پیز کی حفاظت اور ان کے گزرنے کے لئے راہیں صاف کرنے پر ہی مامور ہے۔ پولیس کو پولیس کے اور کام بھی کرنے دیئے جائیں تا کہ پولیس ،پولیس ہی لگے،صرف مخصوص لوگوں کی چوکیداری کرنا پولیس کا کام نہیں۔اگر یہ حکمران اللہ پہ یقین رکھتے ہیں تو انہیں اس قدر سیکیورٹی کی ضرورت کیا ہے؟ مانا کی ان کی جانیں بہت قیمتی اثاثہ ہیں لیکن کبھی یہ حکمران عوام کو بھی قیمتی سمجھیں۔۔۔ کبھی ایسا بھی کچھ ہو جائے کہ پاکستان میں جو سہولتیں وی۔آئی۔پی وزیروں کو ملتی ہیں،اُن کا کچھ حصہ عوام کو بھی مل جائے۔۔۔کبھی عوام کو بھی وی۔آئی۔پی بنایا جائے تا کہ کسی جگہ پر کسی کے لئے بھی ٹریفک جام نہ ہو۔ غریب ترین مریض بھی وقت پر ہسپتال پہنچ سکے اور اُسے کسی بھی سفارش کے بغیر معیاری علاج دیا جائے۔ کبھی تو اس وطن میں یہ نعرہ سچ ثابت ہو کہ ’’ ہم انصاف اور میرٹ پر مبنی حکومت کریں گے۔،، کوئی ایسا لمحہ بھی اس ملک کی تاریخ کا حصہ بن جائے جس میں یہ دیکھا جائے کہ کسی وزیر نے کسی جگہ کا دورہ کیا ہو اور اس کے لئے ٹریفک نہ روکی جائے ،وہ بھی عام غاڑیوں کی طرح سگنلز کے مطابق سفر کرے۔ کاش! کبھی وہ وقت بھی آ جائے جب کوئی حکومت سچ میں عوام کی حکومت بنے۔۔ایسا تو اُسی صورت ممکن ہے جب عوام کی آسانی اور سہولت کا عملی طور پر خیال رکھا جائے۔معلوم نہیں اس کی ابتدا کون اور کب کرے گا؟لیکن وطن کی ترقی اور مضبوطی کے لئے ایسی کچھ تبدیلی بہت ضروری ہے۔ آپ کراچی کی ہی تازہ مثال لے لیں۔ اہم ترین حکومتی شخصیت کی بیٹی کی شادی پر جس طرح کراچی کے لوگ ذلیل ہوئے،جس طرح وہاں سرکاری سیکیورٹی کو پابند کیا گیا اور اردگرد کے لوگوں کو جس پریشانی سے گزرنا پڑا،اس کا حساب کون دے گا؟ آپ قانونی اور اخلاقی طور پر کسی راستے پر قبضہ نہیں کر سکتے اور نہ ہی اُسے بند کر سکتے ہیں۔۔لیکن وہاں سب ہوا کیوں کہ وہ حکومتی اور اعلیٰ عہدہ دار شخصیت تھی۔ ایسا ہر جگہ ہوتا ہے۔ لیکن یہ حق صرف وزیروں شذیروں کا ہی کیوں ہے؟ کیا انہیں اپنی اولاد اور اُن کی خوشیاں زیادہ عزیز ہیں؟ غریب اور متوسط طبقہ کے لوگ اس دکھاوے اور ٹپ ٹاپ کا مظاہرہ نہ کر سکیں تو کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ انہیں اپنی اولاد سے پیار نہیں؟ یہاں اگر کوئی غریب ایک پٹاخہ چلا دے، دو ،تین ڈشز بنا لے تو اُسے گرفتار کر لیا جاتا ہے اور وہاں بیسیوں کھانے تیار ہوں اور وہ بھی پولیس کے اعلیٰ افسران کی نگرانی میں اور اُن کی واہ واہ ہو۔۔۔یہ تضاد کیوں اور کب تک رہے گا؟ ہر وزیر ،خواہ وہ حکومت کا ہے یا اپوزیشن کا، عوام سے ہمدردی کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہے۔سارے قوانین صرف عوام کے لئے ہی کیوں ہیں؟ پٹاخہ تو پٹاخہ ہے، اُسے امیر چلائے یا وزیر،غریب چلائے یا شذیر۔۔۔اگر جُرم ہے تو سب کے لئے ہے، زیادہ ڈشز بنانا غلط ہے تو جو بھی ایسا کرے گا، غلط ہی کرے گا۔پھر یہ تضاد کیوں؟ کیوں ہمارے حکمران اپنے اس کردار کی وجہ سے عوام کے دلوں سے اُترنا چاہتے ہیں؟ کبھی حکمران یہ بھی سوچ لیں کہ جو لوگ انہیں دل میں بٹھا سکتے ہیں وہ دل سے اتار بھی سکتے ہیں اور یہ بات تو سبھی وزیر سمجھتے اور جانتے ہیں کہ کسی کو دل میں بسانا مشکل ہوتا ہے لیکن اُسے نظروں سے گرانا یا دل سے نکالنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔پاکستان میں اس امیرانہ کلچر کی وجہ سے ہی مسائل اور نا انصافی ہے۔ مِیں امیرانہ کلچر کے خلاف نہیں ،مِیں اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے مسائل کے خلاف ہوں۔جب ہمارے بے شمار مسائل اسی کلچر کی وجہ سے ہیں تو ہم کیوں اس کے حصار سے نہیں نکل رہے؟شائد یہ ہمارے بس میں ہے بھی نہیں۔۔۔لیکن اس طرح تو مسائل بڑھتے ہی جایئں گے۔۔کوئی راہ نہیں نکلے گی۔۔آخر ہم کب تک اسی کلچر کی وجہ سے اپنے ہی وطن میں ، اپنے ہی لوگوں کے درمیان اجنبیوں اور دشمنوں کی طرح رہیں گے؟اس طرح تو ہرکوئی ،امیر ہو یا غریب،عدمِ تحفظ کا شکار رہے گا، جیسا کہ آج ہے۔آج اس کلچر نے ہی ہمارے اور ہمارے حکمرانوں کے درمیان ایسے فاصلے پیدا کر دئیے ہیں کہ ہم لاکھ کوشش کے بعد بھی انہیں مٹا نہیں سکتے۔ورنہ ایک اسلامی اور جمہوری ملک میں حکمران اور عوام میں دُوری کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا۔ یہ وطن بھی قائدِ اعظم نے اسی لئے بنایا تھا کہ یہاں ہم آزادی ،رواداری اور برابری کی بنیاد پر رہ سکیں۔اُونچ نیچ،امیری غریبی اور ایساوی۔آئی۔پی کلچر تو آزادی سے پہلے بھی بہت تھا،پھر ہم نے یہ وطن کس لئے بنایا؟ اس لئے کہ پورے ملک میں ایک جیسا نظام چلے،کسی کے ساتھ نا انصافی نہ ہو۔اس وقت بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ یہاں اس کلچر کا خاتمہ ہو جس سے غریب کو انسان بھی نہیں سمجھا جاتا۔اسے شاہی سواری گزارنے کے لئے گھنٹوں ذلیل کیا جاتا ہے۔یہاں حکمرانوں اور اُن کے وزیروں کے لئے آسانیاں ہیں تو ایسی کچھ آسانیاں تو عوام کے لئے بھی ہوں،تا کہ عوام کسی حد تک یہ سمجھ لیں کہ اُن کے اس وطن میں اُنہیں بھی وی۔آئی ۔پی سمجھا جاتا ہے۔۔۔اگر یہ کہا جائے کہ ایسا ممکن نہیں تو یہ غلط ہو گا کیوں کہ اس ملک میں سب کچھ ممکن ہے۔