Home » Article » فتوے اور ریلیاں نہیں۔۔بامقصد مذکرات۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:سید احمدعلی رضا

فتوے اور ریلیاں نہیں۔۔بامقصد مذکرات۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:سید احمدعلی رضا

آئن سٹائن نے کہا تھا ،،امن کو طاقت کے بل بوتے پر حاصل نہیں کیا جاسکتا۔اس خواب کو صرف باہمی افہام و تفہیم سے ہی تعبیر مل سکتی ہے،،
قارئین۔۔۔
وطن عزیز کو دہشت گردی کی نہ ختم ہونے والی جس لہر نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اس میں وسعت اور شدت کا عنصر نمایاں ہوتا چلا جارہا ہے ۔یہ تعین کرنا کسی کے لیے بھی آسان نہیں کہ ملک بھرمیں یہ کیاہورہاہے؟ کون کررہاہے؟ اور اسے کیسے روکاجائے؟ جوں جوں امریکی ڈرون حملے بڑھ رہے ہیں اورپاک فوج یکے بعد دیگرے اپنے ہی علاقے فتح کررہی ہے۔ شہروں میں خودکش حملوں اوربم دھماکوں کی رفتاربھی تیزہوتی جارہی ہے۔ ہرحملے میں ہر واردات میں بے گناہ شہری مارے جارہے ہیں جن میں بچے اورعورتیں بھی شامل ہیں۔ وطن عزیز کے3صوبائی دارالحکومتی شہروںلاہور ،پشاور ،کوئٹہ میں ایک ہی روز اور اگلے دن مدینۃالاوٗلیاء میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات سے حکومت کے ان دعوؤں کی قلعی کھل گئی ہے کہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک تباہ کر دیا گیا ہے، ان کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور وہ اب اپنی جان بچاتے پھرتے ہیں۔ جنوبی وزیرستان آپریشن کے بعد توقع یہ کی جا رہی تھی کہ اگر ملک بھر میں ہونے والی دہشت گردی میں صرف اور صرف تحریک طالبان کا ہاتھ ہے تو اس کے مراکز پر قبضے ،کمانڈ کنٹرول سسٹم کے خاتمے اور خطیر تعداد اسلحہ بارود کو ناکارہ بنانے کی بنا پر خودکش اور بم دھماکوں کا سلسلہ رک جائیگا اور ملک بھر کے عوام سکھ کا سانس لے سکیں گے۔مگر ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد جس تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات پیش آرہے ہیں اور ان میں حساس مقامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اسے دیکھ کر کوئی معقول شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ کوئی ایک تنظیم یا گروہ اس میں ملوث ہے خاص طور پر جب پاک فوج اس کا گھیرا تنگ کر چکی ہے۔موجودہ جمہوری حکومت سوچے سمجھے بغیر (کہ جس جنگ میں امریکہ کے ساتھ اسکے شیطانی اتحاد ثلاثہ کے اہم ارکان بھارت اور اسرائیل اپنا لچ تلنے میں مصروف ہیں اسے آگے بڑھا کر ہم کن نقصانات کا سامنا کر سکتے ہیں اور کیا ہماری انتظامی مشینری میں اس جنگ سے عہدہ برا ہونے کی اہلیت و صلاحیت بھی ہے یا نہیں؟ )پرویز مشرف کی امریکہ نواز پالیسی کو جاری رکھے ہوئے ہے جس کا نتیجہ ملک کے مختلف علاقوں میں حساس فوجی اور غیرفوجی تنصیبات عمارتوں اور اہم سول و خاکی شخصیات پر حملوں کی صورت میں نکل رہا ہے۔ دنیا کو طالبانائزیشن کے خطرے سے ڈرانے والوں نے افغانستان کے بعد پاکستان کو بھی دہشت گردی کا مرکز بنادیا ہے۔ افغانستان میں جہاد 1979سے جاری ہی، کسی بھی مجاہد نے آج تک کسی نہتے شہری کے خلاف کوئی کارروائی نہیںکی۔ یہ صورتِ حال امریکا کی جانب سے،، وار آن ٹیرر ،،کے بعد شروع ہوئی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومتوں کے فیصلہ کن معاملات سی آئی اے اور ایف بی آئی جیسی ظالم و سفاک خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھ میں چلے گئے ہیں۔ خفیہ ایجنسیوں کے آپریشن بھی خفیہ ہوتے ہیں، لیکن اب تو امریکیوں کے آپریشن خفیہ بھی نہیں رہے۔ بلیک واٹر جیسی سفاک قاتلوں کی تنظیم کے اقدامات دنیا کے سامنے آچکے ہیں، عراق کے بعد پاکستان اس کا مرکز بن چکا ہے۔ پاکستان میں بھی اس جنگ کے بعد خفیہ ایجنسیوںکی کارروائیوں میں تیزی آچکی ہے اور انہوں نے ہزاروں شہریوں کو ماورائے عدالت حراست میں لے رکھا ہے لیکن اس کے باوجود وہ پاکستان میں دہشت گردی کو روکنے میں ناکام ہیں اور دہشت گردوں کی یہ ہمت ہوگئی ہے کہ وہ اب فوجی حفاظتی حصار کو بھی توڑنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ نیول ہیڈکوارٹر پر حملے میں امریکی اہلکاروں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آچکے ہیں جبکہ سی آئی اے کے اعلانیہ آپریشن ڈرون حملوں کی صورت میں بھی جاری ہیں جس کا نشانہ عام شہری بن رہے ہیں اور جس کا اثر ملک کے اداروں پر عام شہریوں کے عدم اعتماد کی صورت میں ظاہر ہورہا ہے۔ عام آدمی پریشان ہے، سرمایہ کاری کا عمل رک گیا ہے اور قومی معیشت کا پہیہ جام ہو گیا ہے۔تحریک طالبان اور القاعدہ کی طرف سے متعدد بار یہ دعوی کیا گیا ہے کہ وہ سویلین آبادی بالخصوص بچوں اور خواتین کو نشانہ نہیں بناتے لیکن وزیر داخلہ رحمان ملک سمیت وفاقی حکومت کے کم و بیش تمام عہدیداروں کی سوئی قبائلی علاقوں اور طالبان پر اٹکی ہوئی ہے اور وہ ہر چھوٹے بڑے واقعہ کی ذمہ داری تحریک طالبان پر ڈال کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ وہ علماء سے مخاطب ہوکر کہہ رہے ہیں کہ وہ خودکش حملوں کے خلاف فتویٰ دیں۔ فتوے کا اثر اس پر ہوتا ہے جو اللہ کا خوف اور اس کے دربار میں جوابدہی کا احساس رکھتا ہے، غافل سی آئی اے کے ایجنٹوں کو خدا کا کوئی خوف نہیں ہے۔ وزیر داخلہ کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہئے۔ ان کا دامن خود داغدار ہے۔ وہ بے نظیر بھٹو کی حفاظت کے ذمہ دار تھے لیکن انہیں اسی طرح پراسرار دہشت گردی کا نشانہ بنادیا گیا اور اس کے انعام کے طور پر وہ پاکستان کے تمام سیکیورٹی کے اداروں کے سربراہ بنادیے گئے اور اس کے بعد سے پاکستان کی سلامتی اور تحفظ خطرے میں پڑگیا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ یہ انکشاف کررہے ہیں کہ بلیک واٹرکو سی آئی اے نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو قتل کردینے کا ہدف دے دیا ہے ۔اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے عملے اور سیکورٹی اداروں کی مشکوک اور پراسرارسرگرمیاں بڑھتی جارہی ہیں۔ اس لیے کہ سی آئی اے کے دہشت گردوں اورتخریب کاروں کو امریکی اور عالمی طاقتوں کا تحفظ حاصل ہے۔وزیراعظم گیلانی کا یہ کہنا کہ،، ہم کرائے کے فوجی نہیں ہیں کہ جن کی کارکردگی کوئی اورجانچے،، بھی معنی خیزہے اس سے یہ حقیقت ظاہرہوتی ہے کہ امریکہ، برطانیہ اور اس کے اتحادی پاکستان کو کرائے کے فوجی سے زیادہ کوئی حیثیت دینے کو تیار نہیں ہیں۔ یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ پاکستان میں ہرقسم کی دہشت گردی اور تخریب کاری کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے ۔ حالات کا تقاضہ ہے کہ مختلف شہروں میں رونما ہونے والے واقعات کو محض جرم اور واردات نہ سمجھا جائے بلکہ شر پسندوں کے اصل اہداف اور عزائم کو سامنے رکھتے ہوئے وسیع ترحکمت عملی ترتیب دی جائے۔ وزیر داخلہ رحمن ملک صرف طالبان کا پیچھا کرتے رہنے کے بجائے بھارت کی مالی و اسلحی امداد کے علاوہ تربیت یافتہ افراد کے نیٹ ورک کا بھی کھوج لگائیں کہ قرین قیاس یہی نظر آتا ہے کہ وہ حکومت اور مقامی تحریک طالبان کی لڑائی سے بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے اور امریکہ بھی اس کی پشت پر ہے جس کا مقصد کمزور پاکستان سے اپنی شرائط منوانا اپنی ہاری ہوئی جنگ کا ملبہ ہم پر ڈال کر خود محفوظ انخلا ء کی راہ ہموار کرنا اور پاکستان کے نیوکلیئر اثاثوں پر ہاتھ صاف کرنا ہے۔یہ پہلو بھی توجہ طلب ہے کہ طالبان کا دعویٰ ہے کہ وہ عوامی مقامات پر حملے نہیں کرتے۔ اگر اس دعوے کی روشنی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس حوالے سے بھی تحقیق کرنا ہوگی کہ کوئی اور توطالبان اور القاعدہ کے نام پردہشت گردی میں اضافہ نہیں کررہا۔ جن وارداتوں میں خودکش حملہ آور ملوث نہیں ان کے بارے میں خاص طورپر تحقیق ہونی چاہیے۔جو خودکش بمبار پکڑے جائیں یا ان کے دھڑ ملیں ان کے ڈی این اے ٹیسٹ کے علاوہ ختنے بھی چیک کئے جائیں اور مارے جانے یاگرفتار ہونے والے دہشت گردوں سے امریکی و بھارتی ساختہ اسلحہ کو بھی عالمی برادری کے سامنے پیش کرکے اس سازش کو ناکام بنایا جائے جو دہشت گردی کیخلاف جنگ کے نام پر پاکستان کیخلاف جاری ہے۔ حکومت فوری طور پر پاکستان میں موجود تمام امریکی سیکورٹی کمپنیاں بند کرنے کا حکم نامہ جاری کرے۔اس کے ساتھ ساتھ اب قبائلی عمائدین اور مذہبی رہنماؤں کے تعاون سے،،جائز طور،، پر ناراض لوگوں سے بامقصدمذاکرات کا سلسلہ بھی شروع ہونا چاہئے۔اگر امریکہ افغانستان میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کر سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں کرسکتے؟ یہ مسئلہ فتوے لینے، دینے یاریلیاں نکالنے سے حل نہیں ہوگا۔ عوام کو اعتماد میں لینا ہوگا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کارکردگی ظاہرکرنے کے لیے بے گناہوں کی پکڑ دھکڑ بندکرناہوگی ورنہ اوربہت سے لوگ انتقام کی آگ میں جھلسیں اورجھلسائیں گے۔پاک فوج کی قیادت کا بھی فرض ہے کہ وہ بھی محدود آپریشن کے بعد اپنے اصل فرائض کی طرف آئے ۔ بصورت دیگر نہ تو شدت پسندی پر قابو پایا جاسکے گا اور نہ ہی دہشت گردی کیخلاف لڑی جانے والی جنگ اپنے حتمی نتائج حاصل کر سکے گی۔