Home » Article » مداری کا ہیٹ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:مہرمحمد امین

مداری کا ہیٹ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:مہرمحمد امین

پاکستان کی یہ بدقسمتی رہی ہے اور پاکستانیوں کی بھی کہ ہمارے ملک میں آئین کی حکمرانی نہیں ہوسکی۔ یہ درست ہے کہ فوجی جرنیلوں نے حکومت سیاستدانوں کے ذریعہ ہی چلائی ہے ہر فوجی جرنیل نے جب اقتدار پہ قبضہ جمایا توسیاستدانوں نے آئین کی پاسداری اور حفاظت کی بجائے اپنے اپنے مفادات کے لئے خود کو اس فوجی حکومت کاحصہ بنا لیااورحکمرانی فوج کی رہی حتی کہ قائد اعظم سے بھی فوج کے معاملات قابو میں نہیں آئے تھے جنرل اکبر نے قائداعظم سے سوالات شروع کردئیے تھے اور پوچھا کہ آپ نے فلاں کو کیوں لگایا اور فلاں کو کیوں لگایا ۔قائد اعظم نے انہیں ڈانٹ کرکہا تھا اس کام سے آپ کا کیا تعلق تم کون ہوتے ہو ،یہ سول گورنمنٹ کا کام ہے۔ جنرل اکبر نے لیاقت علی خان کے خلاف بغاوت کی کوشش کی۔ فوجی جرنیلوں نے صحیح معنوں میں سیاستدانوں کو اقتدار منتقل ہی نہیں کیا۔سیاستدانوں کے پاس حکومت تو آتی رہی مگر اقتدار نہیں ۔ آرمی جرنیلوں کی خواہش یہی رہی کہ گملوں میں سیاستدان اگائے جائیں اس کی ذمہ داری کافی حد تک سیاستدانوں پہ عائد ہوتی ہے کہ انہوں نے فوجی حکومتوں کے خلاف اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کی اور فوجی حکمرانوںکے خلاف آئین کی بقاء کی جنگ نہیںلڑی بلکہ فوجی حکمرانوں کی خوشامد کی اور انہیں یقین دلایا کہ یہ ملک آپ کے بغیرنہیں چل سکتا اورجنرل ضیاء الحق نے کہا تھا میں اگر ایک اشارہ کروں تویہ سیاستدان اقتدارکے لئے میرے پیچھے دم ہلاتے ہوئے آئیں گے اورسیاستدانوں نے ایسا ہی کرکے دکھایا اور جنرل پرویز مشرف کو خوش کرنے کے لئے ان کی حکومت کے وفاقی وزیراطلاعات محمد علی درانی نے کہاتھا آئین کے تحت پارلیمنٹ ایک مدت میںپانچ بار صدر منتخب کرسکتی ہے۔ آئین کی یہ شق آج تک ہماری نظر سے نہیںگزری میرے خیال میں زرداری صاحب کی نظر سے بھی نہیںگزری ورنہ وہ بھی اس آئینی شق کا فائدہ اٹھانے کی کوشش ضرور کرتے اسی پارلیمنٹ سے پانچ مرتبہ صدارت کاووٹ لے لیتے بظاہریہ ناممکن نظر آتا ہے مگر اس ملک میں ہر چیز ممکن ہے اس ملک میں یہ ہوتا رہا ہے پرویز مشرف خود ہی آرڈر ٹائپ کراتے اور خود ہی اس پراپنے احکامات صادر کرتے ہوئے منظوری دیتے کہ میں صدر پاکستان پرویز مشرف چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف کو دو سال کی توسیع دیتا ہوں۔ ہمارے ہاں آئین موم کی ناک ہے جس میںجتنی طاقت ہوتی ہے اسے اپنی طرف موڑ لیتا ہے اور ا س ملک میں ظلم، نا انصافی، بے امنی اورانارکی، بے سکونی کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے آئین کو پامال کیا۔ جہاں آئین پامال ہوگا وہاں ملک میں قانون کا احترام نہیں ہوگا۔ جب ملک میں قانون کااحترام نہیں ہوگا توامن درہم برہم ہوگا جب امن درہم برہم ہوگا تو ملکی معیشت تباہ ہوجائے گی اور افلاس مقدر بن جاتی ہے۔ انارکی پھیل جاتی ہے اور ہم بحثیت قوم چاہتے ہیں کہ ہم سب کی یہ خواہش ہے کہ آئین کی حکمرانی ہو مگر ہم خود ماورائے آئین ہوں۔ میں بھی چاہوں گا آئین جو قدغن لگاتاہے میری ذات اس میںشامل نہ ہو آپ چاہتے ہیںکہ آپ پر آئین کوئی پابندی عائد نہ کرے مگر ملک میں آئین کی حکمران ہو۔ جب تک ہر کوئی اپنے آپ کو بری الذمہ اور آئین سے ماورا سمجھتا ہے اس وقت تک آئین کی حکمرانی نہیں ہوسکتی جب تک ہر کوئی اس کی پابندی نہیںکرتا۔ یہی پرویز مشرف کرتا تھا وہ بھی بات آئین اور قانون کی کرتے لیکن خود کو ماورائے آئین تصور کرتے۔ آئین میں یہ بات بڑی واضح ہے کہ پاکستان کا کوئی سرکاری ملازم دوران ملازمت پاکستان کی صدارت کا امیدوار نہیں ہوسکتا مگر وہ سرکاری ملازم بھی رہے اورصدر پاکستان بھی رہے مگر ساتھ وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ یہ دغن باقی سارے شہریوں پر بے شک عائد رہے مگر ان پہ عائد نہ ہو۔ ان کے عہد میں بھی کوئی سرکاری ملازم الیکشن نہیں لڑسکتاتھا مگر وہ خود صدر پاکستان بنے رہے ۔ مشرقی پاکستان کا المیہ بھی اسی لئے پیدا ہوا۔یہ بھی آئینی بحران کانتیجہ تھا ان کے تحفظات ہمیشہ یہ رہے کہ آئین سازی میںان کے معاشی اور معاشرتی حقوق کو محفوط بنانے پر خاطر خواہ توجہ نہیںدی جارہی۔ آئین کو سب سے زیادہ نقصان آئینی ترامیم نے پہنچایا سب سے پہلے آئین کے خالق ذوالفقار علی بھٹو نے پے در پے آئینی ترامیم کیں اور بعد ازاں ضیاء الحق نے 8ویں ترمیم سے آئین کوسخت دھچکا لگایا۔ اور رہی سہی کسر پرویزمشرف نے سترہویں ترمیم سے نکال دی اور آئین کا حلیہ بگاڑدیا۔ اس ملک کے آئین کی حالت اب انتہائی تشویشناک ہوچکی ہے۔آئین کی حالت قابل رحم ہے پاکستان کے جرنیلوں اور پاکستان کے سیاستدانوں نے اسے کھلونا بنائے رکھا۔ جوکچھ ہم نے اپنے آئین سے کیا اس پر چند سال پہلے پرویز مشرف کے دورحکومت میں بی بی سی نے دلچسپ اور حقائق پہ مبنی تبصرہ کرتے ہوئے کہا ،، اللہ جانے پاکستان کاموجودہ آئین صدارتی ہے یا پارلیمانی، مگر 1973 میں مرتب ہونے والی اس متفقہ دستاویز میںکچھ خوبیاں ایسی ہیںکہ شائد ہی کسی اور ملک کے آئین کو نصیب ہوں۔ مثلاً آپ اس دستاویز کو ٹھوس سے مائع اور مائع سے گیس میں تبدیل کرکے پھر ٹھوس شکل میںلا سکتے ہیں ۔ آپ اسے مداری کا وہ ہیٹ بنا سکتے ہیں جس میں سے خرگوش بھی نکل سکتاہے اور نوٹو ںکا ہار بھی برآمد ہوسکتا ہے۔ شعبدہ باز اس کی راکھ کو مٹھی میں بند کرکے پھونک مارے تویہ پھر کتابی شکل میں واپس آ جاتاہے اس میں سے فال بھی نکل سکتی ہے کہ اگلاوزیراعظم کون ہوگا اور کب تک ہوگا۔ اس آئین کے تحت اس کو پامال کرنے والابھی موت کی سزا کا مستحق ہے اور اس آئین کے تحت اس کے خالق کو بھی سزائے موت دینا ممکن ہے اس میں یہ بھی مکن ہے کہ عدلیہ سے انتظامیہ کے طور پر کام لیا جائے اور یہ بھی گنجائش موجود ہے کہ انتظامیہ عدلیہ کے طور پر کام دکھائے۔ یہ آئین کلی یا جزوی طور پرنافذ ہوسکتاہے اورکلی یا جزوی طور پرمعطل اوربحال بھی ہوسکتا ہے۔ اس میںیہ گنجائش موجود ہے کہ چارمحکمے چھوڑ کرباقی محکمے صوبوں کے حوالے کردئیے جائیں یہ بھی گنجائش موجود ہے کہ ہنگامی حالات کے تحت صوبوں کے پاس صرف پانچ محکمے چھوڑ دئیے جائیں باقی مرکز کے تابع آ جائیں،، اب توآئین ہر فوجی جرنیل سے کہہ رہا ہے
کبھی مجھ کو ساتھ لے کر کبھی میرے ساتھ چل کر
وہ بدل گئے اچانک میری زندگی بدل کر