Home » Article » ہم کدھر جا رہے ہیں؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:ڈاکٹر سید سجاد علی ہاشمی

ہم کدھر جا رہے ہیں؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:ڈاکٹر سید سجاد علی ہاشمی

گلوں میںرنگ بھرے بادنو بہار چلے 
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے 
جناب کاروبارتو ہوتا ہے اب انٹرنیٹ پر موبائل پر، نسیم صحر بادصباء،گلوں کے رنگ دیکھنے کون گلشن میںآتا ہے۔ختم ہو گئی ہے باغوں کی رونق،چہل پہل،ہمیں یاد ہے ،ہاں! ہم نے بھی مچلنا،ضد کرنی اور ساتھ چلے جانا،عمر کے ماہ و سال گزرنے کے ساتھ ساتھ صبح کی سیر بھی جاری رہی۔سارادن طبعیت ہشاش بشاش، خوب سبق یاد ہونا،سکول وقت پر پہنچنا اور وہ بھی سکون سے ناشتہ کر کے آجکل سٹوڈنٹس آنکھیں ملتے اٹھتے ہیں۔انگڑائیاں لیتے ہیں۔منہ پر پانی کے چار چھینٹے مارتے ہیں نہانا تو دور کی بات، کبھی منہ دھونے کا تکلف بھی نہیںکرتے،بستہ اٹھایا بھاگم بھاگ سکول پہنچے۔ پیریڈ شروع ہو چکا وہاںبھی غیر حاضر دماغی،سبق کیسے یاد ہو؟دماغ میں دل میںموبائل کی لیٹ نائٹ گھنٹہ آفری،کیبل،ڈی وی ڈی کے پروگرامز،سریلی آوازیں کانوں میں رس گول رہی ہوں تو کون اساتذہ کے لیکچر سنے، بالکل خشک موضوع ان میں سکون چین تو ملتانہیں، نہ ہی دل لگی والی کوئی بات،ہوم ورک بھی نہ کرنا، نتیجہ ،،پیو فیل ہو گیا،،والدین ٹیچرز ک کوستے ہوئے ذرہ بھیخیال نہیںرکھتے کہ ان کے چاند کاہی قصور ہے، سب اسی کا کیا دھرا ہے،گندم بیچ کر چاول تو نہیں اگائے جاسکتے ،ہم کدھر جا رہے ہیں؟صبح اٹھنا نہ نماز پڑھنی،صبح کی سیر نہ تلاوت کلام پاک جوکہ دل و دماغ اور صحت کیلئے انتہائی ضروری ہے چہرے کیسے چمکیں و دمکیں،دماغ ترو تازہ کیونکر ہو، نظر کی عینک کیوں نہ لگے۔معالجین کے پاس یا ہسپتالوں میں رش کیوں نہ ہو،پالیویشن، رکشاؤں گاڑیوں کا دھواں شور گردو غبار، حفظان صحت کے اصولوں کا فقدان،آرام طلبی،مرغن غذائیں صحت کو ہم سے دور رکھی ہیں۔نتیجہ بیماری اس کے بعد علاج میںغفلت،،آپے ای ٹھیک ہو جاں گے،، یہ خام خیالی!بیماری سے شفاء تو تبھی ممکن ہے جیسا ہمارا اندرونی نظام ٹھیک ہو گا ہماری قوت مدافعت(بیماریوں کے خلاف لڑنے والی قوت) یا وائٹل فورس مضبوط ہو گی۔ بصورت دیگر دوا تو کھانا پڑے گی۔شفاء منجانب اللہ ہے یہ عقیدہ پختہ ہونا چاہیے،ڈاکٹر حکیم یا ہومیو پیتھ صرف دوا دے سکتے ہیں، شفاء نہیں،شفاء کے کچھ اصول اور قواعد و ضوابط بھی ہوتے ہیں یقیناً ان پر عمل کرنے سے ہی ہم فائدہ حاصل کر سکیںگے بصورت دیگر صحت دن بدن خراب،جسم کمزور،چہرہ پر بے رونقی، پیلی رنگت،چڑ چڑاپن، شوگر بے زردی بے خوابی، ٹینشن، ڈپریشن،بلڈ پریشر،ہارٹ اٹیک یہ سب بلکہ اور بھی بہت کچھ ہمارا استقبال کرنے کیلئے باہیں پھیلائے ملیںگے جیسے کہ آجامورے بالما تیرا انتظار ہے!خدارا! اپنے اہل و عیال اورخاندان کو پریشانیوں میں مبتلا نہ ہونے دیں۔بروقت علاج معالجہ کی طرف توجہ دیں تاکہ صحت مند معاشرہ کے صحت مند شہری بن کر ملک کی تعمیر وترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں خداوند کریم ہمیں عقل و بصیرت عطا فرمائے ہمارا حامی و ناصر ہو اور ملک پاکستان کو نظر بدف سے بچائے اسے ہمیشہ قائم رکھے آمین! قوم ملک سلطنت۔ پائندہ تا بندہ باد