Home » Article » پاکستانی فوج کے خلاف سازش اور جرنیلی عزم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:محمد اکرم خان

پاکستانی فوج کے خلاف سازش اور جرنیلی عزم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:محمد اکرم خان

پاکستان کے دشمنوںکے عزائم سے ہر پاکستانی بخوبی آگاہ ہے لیکن اِس آگاہی کے باوجود ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستانی افواج کو مغربی محاذ پر پھیلا کر مشرقی بارڈرز پر پیٹھ ننگی کردی گئی ہے اور جذبہ جہاد سے سرشار فوج کو اپنے ہی عوام سے لڑانے کے لئے لمحہ بہ لمحہ منصوبہ بندیاں جاری ہیں۔کیا یہ پاکستانی فوج کو میدانِ جنگ میں کٹوانے کے لئے ایک سوچی سمجھی سازش نہیں ہورہی؟پاک فوج کے حقانی نیٹ ورک،لشکرِ طیبہ اور دیگر جہادی تنظیموں سے روابط کا شوشہ بھی اِسی سازش کا حصہ ہیں۔ہماری کالم نگارہ بہن فوج کے خلاف اِس سازش کا ذمہ دار سیاسی رہنماؤں کے ایک ٹولے کو ٹھہراتی ہیں۔اِس بات کا اندازہ یوں بھی لگایا جا سکتا ہے کہ سیاستدان اپنا فرض اور کردار ادا کرنے کی بجائے سارا بوجھ فوج پر ڈال رہے ہیں۔ہمارے سیاستدان شائد یہی سمجھتے آئے ہیں کہ حکومت کی باگ ڈور سنبھالی ،ملکی خزانہ کو اربوں کا ٹیکہ لگایا اور حالات کی خرابی دیکھ کر بیرونِ ملک چل دئیے۔بیرونِ ملک محل نما گھروں میں بیٹھ کر میڈیا میں فوج کے خلاف بیان بازی شروع کر دی اور بس۔پاکستان کے دفاع کے علاوہ کیری لوگر بل کی صورت میں امریکی دباؤ کا مقابلہ اور پاکستان کے نظریاتی تشخص کا تحفظ حکومتی ایوانوں میں بیٹھے سیاستدانوں کو کرنا چاہئے لیکن افسوس کہ یہ ذمہ داری بھی فوج کے کندھوں پر ہے۔نظریاتی تشخص کا تحفظ کے لئے جب پاکستانی فوج مارشل لاء کی جانب قدم بڑھائے گی تو یہی سیاستدان اوباما کے ناشتہ کے ٹیبل پر بیٹھ کر چیخ و پکار کریں گے کہ پاکستان میں ڈکٹیٹر آ گئے ہیں اُن سے ہماری جان چھڑوائی جائے حالانکہ فوج کبھی بھی خوشی سے اِس اقدام کی طرف نہیں جاتی۔دوسری جانب چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ، پاکستان مادرِ وطن اور اسلام کا قلعہ ہے ،فوج ہر قیمت پر اسکے تحفظ کے لئے پُر عزم ہے ،ہم اسلام اور پاکستان کے لئے جئیں گے اور مریں گے ،دہشت گرد فوج اور قوم کا عزم کمزور نہیں کر سکتے،۔جنرل صاحب کے اس بیان کے بعد پاکستان کے ریاستی اداروں اور عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ اُسکی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف نے یہ بیان عین اُس وقت دیا ہے جب عدلیہ اور عوام اکٹھے کھڑے ہیں اور اس خدشے میں ہیں کہ مستقبل میں اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کے بعد کہیں سیاستدانوں اور پاکستان کی عدالتوں کا ٹکراؤ نہ ہوجائے ۔آرمی چیف کے بیان کے بعد ریاستی اداروں اور عوام کو جو حوصلہ افزائی ملی ہے اُس سے محسوس ہوتا ہے کہ کل کلاں اگر سیاستدان کسی ریاستی ادارے سے ٹکراؤ کرتے ہیں تو فوج اہم کردار ادا کرے گی بلکہ کرنا بھی چاہئے ۔میں کئی مرتبہ تحریر کر چکا ہوں کہ جنرل کیانی ایک محب وطن پاکستانی ہیں اور وہ کبھی بھی برداشت نہیں کریں گے کہ پاکستان کی سالمیت خطرے میں آئے۔دراصل سیاسی ادوار میں آئینی،قانونی روایات و اقدار نہائیت بُری طرح پامال ہوتی رہیں،شخصی سیاسی ٹکراؤ کے نتیجہ میں قومی اداروں کا وقار و اعتبار شرمناک حد تک مجروح ہوا ،ملکی خزانہ انتہائی بے رحمانہ انداز میں لوٹا گیا ،سیاسی وفاداریوں کی سرعام خریدو فروخت کے ذریعے کبھی ایک حکومت کا قیام عمل میں آیا اور کبھی دوسری حکومت کو گرایا گیا۔الغرض ملکی خزانہ کو بڑی بے رحمی سے لوٹتے ہوئے ایسے ایسے ناٹک رچائے گئے کہ جن کے ذکر سے ہی شرم آتی ہے ۔تب فوج ہی تھی جس نے بار بار اپنے کندھے پر بوجھ ڈال کر ملک کو سہارا دیا لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ سیاستدانوں کی طرف سے لگائے جانیوالے اتنے الزامات کے باوجود فوج ہی ہمارے کام آتی ہے ۔آج جب ہم گُڈ گورنس کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں اور اگر یہ بھی چاہتے ہیں کہ فوج حکومتی معاملات میں مداخلت نہ کرے تو ہمیں حقیقی خود احتسابی پر یقین رکھنا ہوگا۔اگر موجودہ حکمران خود احتسابی کے عمل سے گزرتے ہوئے ملک کو لوٹنے والے عناصر کے خلاف واجبی کاروائی عمل میں لے آئیں تو اس سے گڈ گورنس کے تصور کی روبہ عملی ممکن ہو سکتی ہے اور اس طرح حکمرانوں پر عائد ہونے والے بعض الزامات سے خلاصی مل سکتی ہے لیکن افسوس کہ ہمارے سیاستدان ایسا نہیں کریں گے اور شائد عدلیہ کے ساتھ ٹکراؤ بھی ہو۔ہاں اگر ایسا ہوتا ہے تو فوج کو ایک بار پھر مداخلت کرنی چاہئے اور ملک کے ریاستی اداروں کو بچانے کی خاطر ہر اقدام اُٹھانا چاہئے۔یہ تو منحصر ہے ہمارے سیاستدانوں پر کہ کیا وہ فوج کو دعوت دیتے ہیں یا خود احتسابی کا عمل شروع کرتے ہیں۔