Home » Article » سیاستدانوں نے اپنی عوام کو ہمیشہ قربانی کا بکرا بنایا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر: علامہ پیر محمد اشرف شاکر

سیاستدانوں نے اپنی عوام کو ہمیشہ قربانی کا بکرا بنایا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر: علامہ پیر محمد اشرف شاکر

مشرف کے بعد جب سے حکومت منتخب ہوئی ہے روز بروز تمام اشیاء کے نرخوں میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو تا جا رہا ہے جس سے مہنگائی آسمان کی بلندیوں کیطرف سفر کر رہی ہے گیس و بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ ہونے کے باوجود نیا سال شروع ہوتے ہی ملک کے پالیسی میکروں نے گیس و بجلی کی مہنگائی کاتحفہ پیش کیا۔برسر اقتدار حکومت نے بارہ فیصد بجلی کے نرخوں میں اضافہ کر کے غریب و مزدور عوام کو پریشانی و مصیبت کی چکی میں پیس کر رکھ دیا ہے۔حکومت کے اس فیصلے سے عام آدمی کیلئے بھی مشکلات کا طوفان بڑھنے لگا ہے۔اب ہر گھر کی الیکٹرونکس چیزیں ضرورت بن چکی ہیں۔جو بجلی کے بغیر نکارہ ہیں حکومت کو چاہیے تھا کہ لوڈشیڈنگ اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کافیصلہ کرتے وقت اس بات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ الیکٹرونکس چیزیں اب ہر گھر کی ضرورت نہ ہیں۔ لہذا پولیس کے ذریعے الیکٹرونکس اشیاء ہر گھر سے برآمد کر کے قبضے میں لے لی جائیں تاکہ حکومتی خزانے میں مزید اضافہ ہو جائے قارئین یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے حکومت نے عوام کو کنگال کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے اور اب ملکی معیشت کا بھی بہت برا حال ہو گا۔تمام اشیاء کی پیداواری لاگت کی قیمتیں خود بخود بڑھ جائیںگی۔غریب عوام کو عدالتیں بھی بے بس دیکھائی دے رہی ہیں جس کی مثال آپ کے سامنے ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا چینی کی قیمت چالیس روپے مقرر کرنے کے باوجود مارکیٹوں میں 70روپے فروخت ہو رہی ہے، میاں منظور وٹو کی تبدیلی وزارت بھی چینی کی قیمت تبدیل نہ کر سکی۔صدر پاکستان کے دست راست منسٹر کائرہ نے کہا کہ ہم نے دل پر پتھر رکھ کر بجلی کے نرخوں میں اضافے کرنے کا بامشکل فیصلہ کیا ہے۔سیاسی لوگوں نے دل پر پتھر کیا رکھناہے یہ تو خود کائرہ سے قہر بن کر عوامی دولت کو دونوںہاتھوں سے سمیٹ رہے ہیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ حکومت نے گیس، بجلی کے صارفین کے دلوں پر مہنگائی کے بڑے بڑے پتھر ضرور رکھ دیئے ہیں۔بلکہ مزدور کیلئے پتھر نہیں ان پر چٹان رکھ کر سارا بوج غرباء کے کندھوں پر ڈال دیاہے۔تاریخ گواہ ہے کہ سیاستدانوں نے اپنی عوام کو ہمیشہ قربانی کا بکرا بنایا ہے۔چنانچہ کبھی بھی سیاسی شطرنج کھیلنے والے غریب عوام کی اُمیدوں پر پورا نہیں اُترتے۔شہرگوجرانوالہ کے ہوشیار باش سیاستدان صرف اس لیے الیکشن مہم پر رقم صرف کرتے ہیں کہ منتخب ہونے کے بعد سرکاری اراضی پر پٹرول پمپ، پلازے بنانے کے علاوہ لوٹ مار کی انتہا کر کے سرمایہ داری و جاگیر داری میں نام روشن ہو جائے۔وفاقی وزیر برائے بجلی کی حالت یہ ہے۔انہوں نے بر ملا اعلان کیا تھا کہ 2009ء کے آخر تک بجلی کی پیدوارمیں اس قدر اضافہ کر دیا جائے گا کہ لوڈشیڈنگ کا تصور بھی ختم ہو جائیگا۔چنانچہ منسٹر بجلی کے بیان کے برعکس ہوا ہے۔ابھی تو 2010ء کی ابتداء ہے کہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ اتنا بڑھا دیا کہ عوام کا جینا حرام ہو گیا ہے۔لوڈشیڈنگ کی وجہ سے لوگوں کی اکثر نمازیں قضاء ہو جاتی ہیں۔سالانہ امتحان قریب ہیں طلباء کی پڑھائی اندھیرے کی نظر ہو رہی ہے۔اب ہر گھر سے حکومت وقت اور بجلی والوں کے خلاف نفرت و بغاوت کا الم بلند ہو رہا ہے۔گیس کی شدید قلت کے باعث پردے دارخواتین سڑکوں پر احتجاج کرتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔گذشتہ دنوںگوجرانوالہ کے مشہور چوک گوندلانوالہ میں خواتین کے جلوس کی وجہ سے چار گھنٹے ٹریفک جام رہی گیس،بجلی نہ ہونے کی وجہ سے عوام سڑکوں پر نہ آئے تو کدھر جائے۔کس کو اپنا حال سنائے کتنے زرداریوں کا ماتم کریں۔حکومت کو چاہیے تھا کہ گیس و بجلی کی لوڈشیڈنگ بدستور ہونے کی وجہ سے بجلی کے بلوں میں کمی کردیتے۔مگر انہوں نے قیمتوں میں اضافہ کر کے غریبوں کی کمر توڑ دی ہے جمہوری حکومت کایہ مقصد ہوتا ہے کہ عوام کے مسائل حل کیے جائیں مگر موجودہ حکومت نے اب تک عوام کے لئے کیا کیا ہے۔صرف حکومتی نمائند گان نے اپنی تجوریاں بھریں ہیں۔اس وطن کے باسیوں کو اتنی بڑھتی ہوئی مشکلات سے کون نکالے گا۔عوام کے اندر مہنگائی کی بے چینی بڑھنے کے علاوہ جرائم کی شرح میں بھی اضافہ ہوگا۔اگر عدلیہ اورحکومت محبت وطن اور عوام سے مخلص ہے تو یہ دونوں اداروں کے سربراہان مل بیٹھ کر بجلی کے نرخوں میں کمی اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا مثبت حل تلاش کر کے عوام کو ان مسائل سے نجات دلائیں۔