Home » Article » عدالتوں میں پولیس اپنا اعتماد کھو چکی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:علامہ پیر محمد اشرف شاکر

عدالتوں میں پولیس اپنا اعتماد کھو چکی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:علامہ پیر محمد اشرف شاکر

پہلوانوں کے شہر میں جرائم مافیا بہت شاتر ہیں۔جرائم کی دنیا میں رہنے والے یا تو پولیس کو خرید لیتے ہیں اگر پولیس کو قابو نہ کرسکیں تو پھر منصف کو اعتماد میں لے کر عدالتوں میں (مک مکا) کر کے بری ہو جاتے ہیں جب مجرم کو خود اعتمادی پیدا ہو جائے کہ میرے کیے ہوئے کی سزا نہیں ملے گی تو پھر وہ دل کھول کر جرائم کرتا ہے بڑے سے بڑا جرم اس لیے ہو رہا ہے کہ یہاں انصاف زبانی و کلامی ہے مگر عملاً نافظ نہیں ہے۔ جس معاشرے میں انصاف کا راج ہو وہاں جرم بہت کم جنم لیتا ہے جرم کو صرف پولیس افسران کی انصاف پر مبنی تفتیش اور مقدمہ کا گواہ روک سکتا ہے۔ہمارے ہاں اکثر تفتیشی افسران کا یہ حال ہے کہ خود تو ضمنی بھی نہیں لکھ سکتے ہر تھانہ میں انویسٹی گیشن والوں نے پرائیویٹ رائٹر رکھے ہوئے ہیں۔جو مثل مقدمہ کی ضمنیاں تحریر کرتے ہیں التبہ بعد میں پتہ چلتا ہے کہ رائٹر کی معرفت خاص چمک کے زریعے تفتیشی نے بے گناہ شخص کو گناہ گار اور قصور وار کو بے گناہ لکھ دیا ہے۔اس وجہ سے عدالتوں میں پولیس اپنا اعتماد کھو چکی ہے۔جب تک عدالت کو پولیس پر اعتماد نہیں ہوگا اس وقت تک انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوسکتے۔ہر تفتیشی افسر میرٹ پر تفتیش مکمل کرنے کا دعویدار ہے۔چنانچہ عدالت کو ان کی تفتیش پر یقینی نہیں ہوتا۔اب عدالت اور پولیس کے درمیان جو اعتماد کا رشتہ سست ہو چکا تھا اس کو دوبارہ مضبوطی کے ساتھ جوڑنے کیلئے ڈی آئی جی ذوالفقار احمد چیمہ نے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کوششیں تیز کر دی ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ انصاف ہر شہری کا حق ہے اور 2010ء گوجرانوالہ پولیس کلچر کی تبدیلی کا سال ہوگا۔ڈی آئی جی محترم اس بات کو باخوبی جانتے ہیں کہ انصاف کو مضبوطی کے ساتھ قائم کرنے کیلئے تفتیشی افسران کی اہم ذمہ داری ہوتی ہے۔انہوں نے شرعی طریقہ طرز کو اپناتے ہوئے سب سے پہلے تفتیشی افسران کی اصلاحی و تربیتی پروگرام کی ابتدا شروع کی گوجرانوالہ رینج سے تفتیشی افسران کو تربیتی ورکشاپ میں بلایا گیا اور تربیتی لیکچر دینے کیلئے کوئی عام آدمی نہیں بلکہ چیف جسٹس ہائی کورٹ خواجہ محمد شریف صاحب کو مدعو کیا گیا کسی چیف جسٹس کا خاص کر پولیس کے پروگرام میں آنا کوئی معمولی بات نہیں بلکہ ان کی گوجرانوالہ آمد اس بات کی واضع دلیل ہے کہ پولیس کمانڈر ڈی آئی جی ذوالفقار احمد چیمہ،دیانتدار وایماندار ہونے کے علاوہ محکمہ پولیس کے اندر انصاف کی حکومت قائم کرنے کے دلی خواہش مند ہیں۔چیف جسٹس صاحب نے تربیتی ورکشاپ میں تفتیشی افسران کی ذمہ داری اصلاح و تربیت اور انصاف کے عنوان پر جان دار خطاب کیا۔خواجہ صاحب نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ایک صفت عادل بھی ہے اور مخلوق خدا کو انصاف دینا خدالم یزل کا قرب حاصل کرنے کے مترادف ہے۔رب کائنات نے پولیس کو انصاف دینے کیلئے قلم اور ہمیں منصف کی کرسی پر بٹھایا۔ اگر ہم نے ناانصافی کی توکل قیامت کے دن ہم دونوں اللہ تعالیٰ کی عدالت میں جواب دے ہوںگے۔اگر تفتیشی افسران اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے لوگوں کو انصاف مہیا کریں اور میرٹ پر تفتیش کر کے بروقت چالان عدالتوں میں پیش کریں تو عدالت کا پولیس پر اعتماد بحال ہونے کے علاوہ عدالت ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچا کر جرائم کا قلع قمع کیا جاسکتا ہے۔قارئین پورے پنجاب میں واحد ضلع گوجرانوالہ ہے جہاں پولیس کی تربیت کی جا رہی ہے اور لیکچر دینے کیلئے چیف جسٹس ہائی کورٹ ڈی آئی جی ذوالفقار احمد چیمہ کی دعوت پر تشریف لائے۔آخر میں ڈی آئی جی نے خواجہ صاحب کو پولیس کی طرف سے شیلڈ دیکر پولیس اور عدلیہ کے درمیان جو بے اعتمادی کی دیوار تھی اس کو زمین بوس کردیا۔اب تفتیشی افسران اللہ و رسولؐ کی رضا کیلئے پرانے کلچر کو دفن کر کے ڈی آئی جی نے جو 2010ء کا نیا ایجنڈہ دیا ہے اس پر مضبوطی کے ساتھ عمل پیرا ہو جائیں اور اپنے کمانڈر کے ایجنڈے کی لاج رکھتے ہوئے مخلوق خدا کو بغیر رشوت کے انصاف دیکر آخرت سنوار لیں۔ڈی آئی جی محترم سے گزارش ہے کہ یہ پولیس تربیتی پروگرام بند نہ کیا جائے بلکہ ماہانہ کی بنا پر سارا سال جاری رہنا چاہیے تاکہ اس کے بہتر نتائج برآمد ہوسکیں۔