Home » Article » پاکستان کی مصنوعات پر انح۔صار کیا جائے ؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:سید مسلم جاوید مظلوم

پاکستان کی مصنوعات پر انح۔صار کیا جائے ؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:سید مسلم جاوید مظلوم

آج پاکستان کو دنیا کے نقشے پر ابھرے ہوئے 62سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔62سال کے عرصہ میں ہم ابھی اپنے آپ کو تجربات سے باہر نہیں نکال سکے۔ جب پاکستان معرض وجود میں آیا تھا اس وقت ملک میں پانی کی مدد سے بجلی کا حصول ممکن ہو رہا تھا اور اس وقت بجلی کی ضروریات کم نرخوں پر عوام کو مہیا تھیں۔اس دوران ملک میں حکومتوں کے ٹوٹنے کا سلسلہ شروع ہوگیا اور اس دوران ملک میں آزادی کے پہلے ادوار میں پلز، ڈیمز کے منصوبے تیزی سے مکمل کئے گئے اور فیلڈ مارشل ایوب خان جوکہ ایک آمر تھے اور فوج کی مدد سے اقتدار تک پہنچے تھے لیکن اس کے دور میں جو ترقی ہوئی وہ کسی سے پوشیدہ نہیںہے۔ان ایوبی دور حکومت میں ملک میں وارسک ڈیم،راول ڈیم،تربیلا ڈیم اور ڈیمز تعمیر کئے گئے جس سے بجلی کے ساتھ ساتھ پانی وافر ضروریات پوری ہوئی بلکہ بلوں کی تعمیر کی شکل میں ذرائع آمدو رفعت کی وجہ سے عواج کے مسائل کافی حد تک کم ہوئے اور اس دوران ملک میں صنعتی حوالے سے بھی انقلاب آیا اور ملک کے مختلف شہروں میں کالونیاں اور اسٹیٹس تعمیر کر کے مختلف کاروبار کو فروغ دیا گیا۔ جس میں خاص طور چھوٹا اورگھریلو صنعتوں کو پذیرائی بخشی گئی اس دور میں پاکستان کے کوئلے کو استعمال میں لاتے ہوئے صنعتوں کو چلانے کیلئے انقلابی اقدامات عمل میں لائے گئے اور پاکستانی صنعتوں کو ترقی دینے کیلئے پاکستانی کوئلے پر انحصار کر کے غیر ملکی قرضوں اور امداد سے بچتے ہوئے ایسے انقلابی اقدامات کئے گئے جس سے آج بھی پاکستانی قوم مستفید ہو رہی ہے بلکہ پانی اور کوئلے سے بجلی کے پراجیکٹ قائم کئے گئے۔حتیٰ کہ پاکستان کے کوئلے سے پاکستان کی بڑی بڑی مالدار گاڑیوں کے انجنوں کو چلا کر کثیر زر مبادلہ بچایا گیا اور اس کے علاوہ پاکستان کی اپنی سوئی گیس سے بھی بڑے بڑے کارخانہ کو چلایا گیا اور اس کے گیس کے ساتھ گوبر گیس کے پلانٹ بھی تیزی سے کامیابی سے عمل میںآئے اور ملکی ضروریات تیزی سے حل ہو رہی ہیں۔اس دوران ہی ملک میں ایک نئے شہر اسلام آباد کو بنا کر کراچی سے پاکستان کے دارالخلافہ کو اسلام آباد میں منتقل کیا گیا۔اور یہ کار نامے صرف پاکستان کے انجینئرز اور افرادی قوت نے چین کی مدد سے مکمل کئے اور پاکستانی اور چینی انجینئروں کا کمال تھا یہاں پر کمیشن مافیا وجود میں نہیں تھا۔ اسی دوران پاکستان میں بجلی سے چلنے کا دنیا بھر میں منفرد کوئلے کے انجن سے مال گاڑیوں کے چلانے ٹرینوں کا کامیاب نظام تھا۔اس دور میں ملک ترقی کے دوراہے پر چلتا رہا اور ملک میں عوام کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل ہو رہے تھے اور کم نرخوں پر عوام کو بجلی اور سوئی گیس کی سہولتیں مل رہی تھیں۔عالمی سطح پر پاکستان ترقی کے میدان میں ایک ماڈل کی حیثیت اختیار کر چکا تھا اور اس ترقی کے دوران پاکستان کے ازلی دشمنوں نے ہندوستان کی طرفسے پاکستان پر رات کی تاریکی میں لاہورکے بارڈر سے حملہ کر کے جارحیت کی ابتدا کی اور 6ستمبر 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے 17روز بعد پاکستان کی معیشت کو تباہ برباد کرنے کیلئے عالمی سطح پر ایسے خطرناک حالات پیدا کئے گئے جو تاشقند معاملہ سے شروع ہوئے اور ملک کوتر قی کے بہترین دوراہے پر اقتصادی طور پر ایک مضبوط ملک بنانے والے فیلڈمارشل ایوب خان کی حکومت ختم کر کے اس ملک پر ایسی عوامی حکومت وجود میں لائی گئی جس نے اکثریت حاصل کرنے والی پارٹی کو اقتدار سے باہر رکھنے کیلئے مشرقی پاکستان کو پاکستان سے علیحدہ کرنے کی بھارتی سازش کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ کو حکومت دینے کی بجائے لیگ جنرل کی مدد سے مغربی پاکستان میں نہ صرف حکومت بنائی بلکہ سازش کیس میں گرفتار شیخ مجیب الرحمان کو رہا کرانے کے علاوہ،،ون یونٹ،،کو توڑ کر پاکستان کے مسائل میں اضافہ کا موجب بنا اور آج پاکستان ان غلط اقدامات کی بناء پر مسائل کی بھر مار ہوچکی ہے ملک میں پانی کی کمی، بجلی کی لوڈشیڈنگ غیر ملکی الیکٹرک کمپنیوں کی اجارہ داری اور کرپشن کی لوٹ کھسوٹ کی وجہ سے عوام کو 3اور 4روپے یونٹ بجلی کی فراہمی،10اور 16یونٹ تک پہنچ چکی ہے اور پٹرول کی قیمتیں بھی 20روپے سے 70اور اس سے اوپر تک فی لیٹر بڑھ چکی ہیں جبکہ پاکستان کی اپنی پیداوار مصنوعات سوئی گیس کی تجارتی قیمت 100روپے کلو تک پہنچ چکی ہے۔ خدارا! غیر ملکی الیکٹرک کمپنیوں سے نجات اور غیر ملکی اثرورسوخ کو پاکستان میں کم کرنے اور،،کمیشن مافیا،، کو ختم کر کے پاکستانی مصنوعات کوئلہ،سوئی گیس،سے اپنی ضروریات پوری کی جائیں اور غیر ممالک کو بیچنے سے گریز کیا جائے تاکہ پاکستان مسائل سے نکل سکے؟