Home » Article » ہم کدھرجا رہے ہیں؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:ڈاکٹر سید سجاد علی ہاشمی

ہم کدھرجا رہے ہیں؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:ڈاکٹر سید سجاد علی ہاشمی

سنا ہے،دیکھا ہے،جانا ہے،کہ منفی سوچ کا حامل شخص کبھی فلاح نہیں پاتا،کیونکہ وہ کسی دوسرے کی فلاح نہیں چاہتا وہ شاید یہ بھول جاتا ہے کہ
کرو مہربانی تم اہل زمین پر
خدا مہربان ہو گا عرش بریں پر 
جس معاشرہ،ادارہ،علاقہ سیاست، تعلیم، صحت، کھیل، حکومت اور قوم میںمنفی سوچ کی حامل شخصیات موجود ہوں گی وہاں کبھی ترقی وخوشحالی نہیں آئے گی۔ منفی ہتھکنڈوں،منفی خیالات،منفی رویوں،منفی رحجانات اور منفی طریقوں سے ہم کبھی بھی مثبت نتیجہ اخذ نہیں کرسکتے۔ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنا، ذات پر کیچڑ اچھالنا،کردار کشی کرنا،حسد کرنا اور منفی رویوں سے بنی نوع انسان کو تکلیف پہنچانا یا کسی کی دل آزادی کرنا، کوئی بھی باشعور مذہب معاشرہ اور دین اس کی اجات نہیں دیتا بلکہ رب ذوالجلال اوررحمۃ اللعالمین کے اس بارے میں واضح احکامات ہیں۔ہم کیوں نہیں مانتے،حسد اور کینہ میں اندھے ہی نہیںبلکہ ہوش و حواس سے عاری ہو کر پاگلوں جیسی حرکات کرتے ہیں عزت و ذلت خداوند کریم کے ہاتھ میں ہے،،وہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت،،(القرآن)منفی سوچ یارویے ہمیشہ شرمندگی کا باعث بنتے ہیں لیکن شرم تو اسے آئے گی جس کا ضمیر زندہ ہو،جس میں اناء ہو،خود داری ہو اور معاشرہ میں کوئی عزت اور مقام ہو۔واضح ارشاد ہے کہ لوگ تمہارے ڈر اور خوف سے تمہاری عزت نہ کریں بلکہ حسن سلوک اور بہتر اخلاق سے،،ہمارے آقا حضرت محمدؐ کو کفار نے بہت تکلیفیں دیں لیکن آپ کے حسن سلوک اور بہتر اخلاق ہی کی وجہ سے ان میں بہت سے راہ راست پرآئے اور اسلام قبول کیا۔انہی کا فرمان ہے ،،تم سے بہترین شخص وہ ہے جس کا اخلاق اچھا ہو،،یہ سبق ہمارے ہی لیے تھا ہے اور ہمیشہ رہے گا اور جزا وسزا کاتعین ہوگا، خداوند کریم ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ہاں تو بات ہو رہی تھی منفی سوچ کی!جو ہماری صحت پر بھی یقیناً اثر انداز ہوتی ہے۔بیماری کی ابتداء بری یا منفی سوچ سے ہوتی ہے اس میں گندے پانی(واٹر) کا بھی عمل دخل ہے جس کی وجہ سے ہیپا ٹائٹس بھی ہو جاتا ہے۔آج کل شور ہے کہ ہمارے ملک میں بلیک واٹر موجود ہے جبکہ ہمارے وزیرداخلہ فرمارہے ہیں کہ بلیک واٹر نہیں ہے صوبہ سرحد کے سینئر وزیر جناب بشیر بلور صاحب نے فرمایا کہ بلیک واٹر ہے جبکہ اگلے ہی دن ان کا بیان آیا کہ میری بات کا غلط مطلب لیا گیا ہے اوراس کی تردید کر دی۔ مولانا فضل الرحمان جن کی دوستی ہر حکومت کے ساتھ پکی ہی ہوتی ہے۔انہوں نے بھی کہا کہ ملک میں 9000بلیک واٹر پے(اہلکار)موجود ہیں۔ملک رحمان صاحب فرماتے ہیں کہ اگر بلیک واٹر کی موجودگی کے ثبوت پیش کر دیں تو میں استعفیی دے دوں گا۔بھئی ہم کیوں نہیں مان لیتے کہ ملک میں بلیک واٹر نہیں ہے جبکہ میں مانتا ہوں۔ہمارے ملک میں گرے واٹر(گٹروں میں)زرد اور براؤن واٹر زیر زمین پائپ لائنوں میں جو ہم پیتے بھی ہیں اور وائٹ واٹر شفاف بے رنگ یعنی منرل واٹر یقیناً موجود ہے۔بلیک واٹر نہیں ہے بلکہ قوی امید ہے کہ آئندہ چند سالوں میں بلیک واٹر مقدار میں دستیاب ہوگا۔جبکہ پاکستان میں پینے کے پانی کیلئے سروے کیا گیا تو کہیں سے بھی نتیجہ مثبت نہیںملا ہر جگہ پانی میں آلودگی، سنکھیا،جراثیم اوربکٹریا وغیرہ پائے گئے جو کہ انسان صحت کیلئے انتہائی مضر ہیں۔جس سے ہماری صحت کا سیا ناس تو ہوگا ہی اس کے ساتھ ساتھ محترم رحمان ملک صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ ملک میں 40فی صد ادویات جعلی ہیں جن کے استعمال سے مریضوں کو نقصان ہو رہا ہے یہ کہاں سے آتی ہیں؟کہاں پیدا ہوتی ہیں؟کہاں بنتی ہیں؟کون اور کیسے منگواتا ہے؟استعمال کون کروا رہا ہے؟کمیشن کون لیتا ہے؟یہ سب یقیناً دولت کی ہوس ہے ایک شعر ہے
زندگی جو حصول زر میں بسر کرتے ہیں
اک کفن کے واسطے اتنا سفر کرتے ہیں
محکمہ صحت کے افسران کی فوج ظفر موج کی موجودگی میں اگر جعلی ادویات بک رہی ہیں یا ہسپتالوں سے چوری کر کے اور سیمپلز کو مارکیٹ میں فروخت کر کے مال بنا رہے ہیں ہسپتالوں میں سرکاری ملازم ڈاکٹر پرائیویٹ پریکٹس میں مریضوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں ان پر کیسے قابو پایا جائے گا کچھ عرصہ کیلئے ہومیو ڈاکٹرز اور طلباء کے کلینکس پر چھاپے مار کر عطائیت کو جواز بنا کر سراسیمگی پھیلائی جاتی ہے کلینکس سیل کر دیئے جاتے ہیں،اکثر مال پانی لیکر کھول دیئے جاتے ہیں۔اپروچ والے بچ جاتے ہیں ظاہر ہے تعلقات کا کچھ تو فائدہ ضرور ہوتا ہے۔ جن کا کوئی نہ ہو عدالتوں کے چکر کاٹ کر بددعائیں دیتے ہوئے جرمانہ یا سزا بھگتتے ہیں کیونکہ وہ بھی دوائیاں بازار سے ہی خریدتے ہیں جن سے 40فی صد وزیر موصوف کے اقرار کے مطابق جعلی ہوتی ہیں اس میں ان کا کیا قصور؟vialsتو ایلو پیتھک ڈاکٹرز بھی استعمال کرتے ہیں کئی کلینکس انتہائی گندے ہوتے ہیں انہیں کوئی نہیںپوچھتا کیوں؟وہ کسی دوسرے سیارے کی مخلوق ہیں جن پر پاکستانی قانون لاگو نہیں ہوتا؟اب ہیلتھ کےئر بل کے نام سے ننگی لٹکی تلوار جو معالجین کیلئے شکوک و شبہات کا باعث ہے،بالکل ناقابل قبول ہے، کرپشن کا نیا راستہ کھلے گا یہ بل نہیں آنا چاہیے، عوام پہلے ہی بلوں سے بلبلا رہی ہے،بجلی اور تیل کی ہوشر با گرانی اور اب مزید نوید جان کشاء آئی ہے کہ رینٹل پاورز سے بجلی 87فی صد مہنگی ہوگی بحران ختم نہیں ہوگا بلکہ لوڈشیڈنگ بھی برقرار رہے گی(وقت)کاروبار کا بیڑا غرق ہو گیا ہے چھری غریب عوام پر چل رہی ہے حکمرانوں کے اللے تللے ختم نہیں ہو رہے۔ عوام کب تک برداشت کرے گی۔حکومت اور اپوزیشن کی ہیلتھ ضروری ہے اور ویلتھ بھی ضروری ہے۔ان میں پیار محبت،نوک جھونک ہوتی رہنی چاہیے،جہاں دو برتن ہوںگے وہ کھڑکیں گے یہ بھی صحت کی نشانی ہے کچھ لوگ حکومت اوراپوزیشن کے بیانات کو نورا کشتی کا رنگ دے رہے ہیں۔کشتی بھی صحت کی علامت ہے ہم کیوں منفی سوچتے ہیں۔چہلم حضرت امام حسینؑ پر بم دھماکے بھی منفی سوچ کانتیجہ ہیں کہتے ہیں خفیہ ہاتھ ملوث ہیں،بے گناہ لوگوں کا خون اتنا ارزاں ہو گیا ہے؟ان خفیہ ہاتھوں سے مسیحا بھی محفوظ نہیںہسپتالوں میں انسانی جانوں کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے وہاں بھی دھماکے! یا اللہ خیر،زخمیوں کی مرہم پٹی علاج معالجہ کون کرے گا؟خدارا سوچئے!خفیہ ہاتھوں کو ظاہر کیجئے،ملک پاکستان کے سکون اور سلامتی کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردوں اور ملک دشمن عناصر کی نشاندہی کیجئے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچایئے حکومت اور ملک سے کالی بھیڑوں اورناسوروں کا صفایا کیجئے۔خداوند کریم ہمارا حامی و ناصر ہو،،آمین،،۔