Home » Article » کھرے تاجر وآجر برگزیدہ ولی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر: اکرم شہزاد خان

کھرے تاجر وآجر برگزیدہ ولی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر: اکرم شہزاد خان

خدمت خلق کی بہترین صورت وہ ہے جس سے تاجران و صنعتی مالکان کسی وطن ملک یا ریاست میں انسانوں کیلئے معاشرتی کاموں سے معاشرہ میں خوشحالی کی بندباب کھولتاہے اس متعلقہ قرآن کریم میں رب العزت فرماتے ہیں ،،سورۃ النسا،، میں ہے کہ اپنے مالوں کو اپنے درمیان باطل کی راہ سے نہ کھاؤ بلکہ باہمی رضا کیساتھ تجارت کی راہ سے نفع حاصل کرو(القرآن) نبی کریمؐ بذات خود تجارت کرتے تھے۔ تجات کو آپؐ رسالت مآب نے شرف قبولیت بخشا،اور بعثت نبویؐ سے قبل بارہ ماہ برس تجارت فرمائی۔حضورؐ پر نور آپؐ سرکار نے تمام کاروباری معاملات میں حق و سچ اور صفائی ستھرائی کو کاروباری تجارتی اہم اور ضروری اُصول قرار دیئے۔،،حدیث مبارکہ ہے،، اے لوگوں کاروباری تجارت کرو اس میں رب نے تمہارے لئے رزق محفوظ کر رکھا ہے۔ دوسری حدیث ہے، میں اُمت مسلمہ کے رزق کا10/9حصہ ہے اور یہ خرید و فروخت میں پوشیدہ ہے،تیسری حدیث نقل ہے،ابوسعید ؓ فرماتے ہیں میں نے سنا سرکار دو عالم نے فرمایا،سچے اور امانت دار و دیانت دار تاجر کا حشر نبلیوں،صدیقوں اور شہیدوں کیساتھ ہوگا(ترمزی) حضورؐ سرور کائنات نے ایک جگہ اور فرمایا جو تاجر مشقت و تکلیف اُٹھا کر کاروبار کرتا ہے اور قیمت میں زیادتی نہیں کرتا،اُس کا درجہ صدقہ کرنے کے برابر ہے۔تمام صحابہؓ کرام نے اپنی معاشی کفالت کیلئے تجارت کیا کرتے تھے اور اپنی زندگیاں فی سبیل اللہ وقف کر رکھیں تھیں۔اس تیزترین معاشرے میں مادی تکمیل کیلئے صنعتیں،منڈیاں اور بازار مارکیٹیں ہیں اور اللہ سے تعلق بنانے کیلئے مسجدیں ہیںجہاں صرف اللہ سے تعلق کی غرض ہونی چاہیے اور بازار میں یا پھرکاروبار میں لوگوں سے تمام معاملات میں صفائی اور سچائی کا تعلق ہے۔اسلام نے رزق حلال کمانا عبادت کا درجہ قرار دیا ہے۔سچائی اور دیانت سے مسلمانوں نے تجارت میں بے بہا کامیابیاں حاصل کیں اور کئی ملکوں کو فتح کیا۔انڈونیشیا، چین اور پیشتر ممالک تک اسلام کا نور ۃدایت مسلمان تاجروں کے ذریعے پھیلا کیونکہ جہاں بھی مسلمان تاجران پہنچتے گئے وہاں وہاں مسجدیں بھی تعمیر کرواتے تھے اور وہاں کے لوگوں سے تجارت کیساتھ ساتھ اسلام کی دعوت و تبلیغ بھی کرتے اور تمام معاملات میں سچائی امانت و دیانت کا لوہا منواتے۔اس طرح وہ لوگ اسلام بھی قبول کرتے اور کاروبار بھی ترقی کرتے۔اسلامی قائدہ و قانون کے مطابق تجارت میں بنیادی حیثیت عقیدہ اخلاقہ کی ہے۔اسلام بتاتا ہے کہ اگے لوگوں ایک دوسرے کے ساتھ بھلائی کرو اور اپنے بھائی کا معاشی استحصال نہ کرو۔اچھا اور دیانت دار تاجر اخلاق حسنہ سے متصف ہوتا ہے۔اُسے صدیق،دیانت دار،امانت دارا ور بلند اخلاق ہونے کے علاوہ معاملات میں صفائی ستھرائی،شفیق طبعیت،نرم لہجے میں الفاظ و کلمات کی ادائیگی کا حامل ہونا چاہیے اور اُسے مزدوروں کی اُجرت ادا کرنے میں سخاوت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ذخیرہ اندوزی سے باز رہنا کیونکہ اسلامی ممالک میں ذخیرہ اندوزی کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ذخیرہ اندوزی کرنیوالا تاجر ملعون اور انتہائی گنہگار ہے جو ذخیرہ اندوزی کے ذریعے مارکیٹوں میں مال کی قلت پیدا کر کے قیمت بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔جو مخلوق خدا کو ستانے کی تجارت کرتا ہے۔وہ تاجر انسانیت کا دشمن چور ڈکیت اور قومی مجرم ہوتا ہے جو ذخیرہ اندوزی کے ذریعے قوم کا خون چوستا ہے۔وہ قطعی معافی کے قابل نہیں۔ایسا بدکردار اسز کا مستحق ہے۔حضرت علیؓ نے اپنے زمانے کے ایک زخیرہ اندوز کوجلا دیا تھا اورکاروبار ہر طرح کے سود سے بھی پاک ہونا چاہیے۔سود معاشی استحصال کی منحوس ترین شکل ہے۔اللہ تعالیٰ نے سود کو بالکل حرار قرار دیا ہے۔سود خور قیامت کے دن پاگل و مجنون اُٹھایا جائے گا۔سود خود پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے۔اسلام نے تجارت یا کاروبار میں اشیاء کی ملاوٹ کرنے والوں کو بھی سخت ترین الفاظ میں باز رہنے کا حکم فرمایا ہے اللہ کے نبیؐ نے فرمایا کہ جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میںسے نہیں ہے(مسلم)چیزوں میںملاوٹ کرنے والا ملت اسلامیہ سے ہی خارج ہے اُسے اُمتی ہونے کے اعلیٰ منصب سے ہی محروم کر دیا گیا ہے۔کیونکہ وہ رقم عمدہ مال کی وصولی کرتا ہے اور ملاوٹ ناقص مال کی کہ رہا ہوتا ہے اس لئے ایسے عمل کو بھی حرام قرار دیا گیا ہے اور ناپ تول میںکمی کرنے والوں کے لئے نہایت اذیت ناک سزا دی جانے کی وعید ہے۔ارشاد باری ہے، خراب یا گھٹا کر دینے والوں کیلئے وہ لوگ جو دوسروں سے پورا مال لیں اور دینے کے وقت ناپ تول میں کمی کریں اور مال بیچنے کے وقت قسمیں کھانا بھی حرام ہے اور مزدوروں کی مزدوری پوری نہ دینا اور اُس مال سے زیادہ آمدن کما کر اپنے اُوپر استعمال کرنا بھی حرام ہے۔اس لئے مومنوں،ساتھیوں اور نہایت قابل احترام مزید و غور کرو سرور کائنات کی زندگی پر اور اسلامی روایات اور قوانین تجارت پر اگر کہیں کمی ہو رہی ہے تو فوراً توبہ کرو اور اپنی تجارت اور مال کو پاک کرنے کی کوشش کرو۔