Home » Article » بجلی کم نہیں ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:سید مسلم جاوید مظلوم

بجلی کم نہیں ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:سید مسلم جاوید مظلوم

بسنت اور پنجاب حکومت کی پابندی کے اعلانات ریت کے گھروندے ثابت ہوئے؟؟پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور اس کا وجود خالصتاً اسلامی نظریہ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ پر وجود میں آیا اور اسلامی ریاست کے قیام کے بعد سے ہی اس کو مشکلات کاسامنا کرنا پڑا اور ان مشکلات کی وجہ سے ہی پاکستان کو 3جنگوں اور 3مارشل لاء سے گزرنا پڑا جس کے دوران پاکستان سے الحاق شدہ علاقے ہندوستان نے اپنی ریشہ دوانیاں اور پاکستان کے حکمرانوں کی غلط حکمت عملی کی بناء پر پاکستان سے علیحدہ کر دیا جس میں ریاست جوناگڑھ،مقبوجہ کشمیر اور 971ء میں مشرقی پاکستان جو آج بنگلہ دیش کی شکل میں دنیا کے نقشے پر موجود تھے جبکہ اس دوران پاکستان اسلام سے متصادم رسوم پر پاکستانی والہانہ انداز میں بڑھتے رہے جس کی وجہ سے آج پاکستان کا اپنا تشخص بھی کہیں نظر آیا اور پاکستان میں اسلام ایک مذاق بن کر رہ گیاہے۔ اس سے بڑھکر اور بدقسمتی کیا ہو گی اس وقت پاکستان میں آنحضرت محمدؐ کی ذات بابرکات کے حوالے سے ماہ ربیع الاول جاری ہے اور اس دینی واسلامی ماہ میں بھی ہم ہندوانہ رسموں کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں اور پاکستان میں عموماً اور پنجاب کی سطح پر خصوصاً بنست منانے کے سلسلے میں ہم کسی قانون،اسلام اور کسی پابندی کوتسلیم کرنے کیلئے قطعاً تیار نہیں ہیں بلکہ موجودہ حالات قانون کی عملداری کہیں بھی نظر نہیں آتی۔پنجاب کی سطح پر وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے عوام کی ہلاکتوں کے پیش نظر بنست پر مکمل پابندی عائد کرتے ہوئے انتظامیہ کو،،بسنت،، منانے سے منع کرنے کیلئے سخت اقدامات اٹھانے کے احکامات دیئے۔ان احکامات اور اعلانات کے باوجود گوجرانوالہ شہر میں مورخہ 18فروری بروز جمعرات کی مساوی رات گوجرانوالہ میں ،،بسنت،، زبر دست طریقے سے منائی گئی اور ساری رات چھتوں پر پتنگوں کے کٹنے کے دوران زبردست قسم کی فائرنگ بھی ہوئی اور ساری رات چھتوں پر ہوائی فائرنگ کر کے ساتھ ساتھ رنگا رنگ کی محفلیں بھی سجیں اور،،بسنت،،کے دوران بوکاٹا کی آواز کے ساتھ ساتھ دھواں دھار فائرنگ سے ساری رات دھما دھم ہوتی رہی اور ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے ذمہ دار حلقے پورے گوجرانوالہ میںکہیں نظر نہیں آئے بلکہ سڑکوں پر بھی منچلے لڑکوں کا بھنگڑا اور بوکاٹا کی آوازیں بلند ہوتی رہیں جبکہ حکومت پنجاب کی طرفسے گڈی فروشوں سے نپٹنے کے ہنگامی اقدام محض ریت کی دیوار ثابت اور ٹی وی اسٹیشنوں پر حکومتی اعلانات سے بھی ان منچلے نوجوان، لڑکے،لڑکیاں اور بوڑھے و دوسرے شہریوں سے آئے ہوئے رشتہ داروں پر کوئی اثر نہیں دکھا سکے۔اگر پنجاب حکومت ،،بسنت،، پر پابندی پر عمل درآمد نہیں کراسکتی تھی توبسنت پر پابندی کیا جواز تھا۔بہر حال گوجرانوالہ شہر میںبروز جمعرات، 18فروری کی پوری رات بسنت کے حوالے سے بو کاٹا پر اندھا دھند فائرنگ سے دن بھر کام کرنے والے محنتی لوگوں کی نیندیں بھی اڑاتے رہے اور پنجاب حکومت اور ضلعی انتظامیہ گوجرانوالہ کے تمام احکامات ہوا ہو گئے جبکہ جمعۃ المبارک مورخہ 19فروری کو بھی سارا دن بو کاٹا، کا سلسلہ اور تیز و تند فائرنگ بھی ہوتی رہی جس سے اس بات کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور پنجاب حکومت کے انتظامات محض ریت کے گھروندے ہیں۔ اس قدر لکھنا کافی ہے واسطے محض داناؤں کہ۔