Home » Article » شکستہ کنارہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:مہر محمد امین

شکستہ کنارہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:مہر محمد امین

مسلم لیگ (ق) نے واضح کیا ہے کہ ہم عدلیہ کے ساتھ ہیں، قانون اور آئین کی بالادستی چاہتے ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ (ق) لیگ ہمیشہ عدلیہ کے ساتھ رہی ہے۔ عبدالحمید ڈوگر کی پشت پناہی میں (ق) لیگ نے عدلیہ کے ساتھ ہونے کی نئی تاریخ رقم کی تھی اور ڈوگر کورٹس نے موجودہ عدلیہ کا چیف جسٹس سمیت جو حال کیا کسی سے پوشیدہ نہیں۔ (ق) لیگ کے کریڈ میں یہ بات بھی جاتی ہے کہ انہوں نے منصفوں کو پابند سلاسل کیا۔چیف جسٹس کو قید کردیا گیا ان کی تنخواہیں بند کردی گئیں ان کے بچوں کو نظر بند کردیاگیا۔ آج وہ موجودہ چیف جسٹس کے ساتھ ہیں۔ شائد(ق) لیگ کو خلیفہ منصور کا حال معلوم ہو چکاہے۔ خلیفہ منصور نے ایک رات اپنے وزیر سے کہا جاؤ اور حضرت امام جعفر صادق ؒ کو پکڑ کر لاؤ تاکہ ان کو قتل کردوں۔ وزیر نے سوال کیا کہ کیا وہی جعفر صادقؒ جو گوشہ نشینی میں عبادت الہی میں مصروف ہے اور بادشاہ سے کسی قسم کا تعلق نہیں رکھتا۔ وزیر کے اس کلام سے بادشاہ ناراض ہوا اور کہا ہاں اسے ہی لے کر آؤ تاکہ قتل کردوں ۔ وزیر نے ہر چند منع کیا لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا اور مجبور ہو کر وزیر حضرت امام جعفر صادق ؒ کو بلانے چلا گیا۔ بادشاہ نے اپنے غلاموں سے کہا جب امام جعفر صادق ؒ تشریف لے آئیں اور میں اپنے سر سے ٹوپی اتار دوں تو تم اسے قتل کردینا لیکن جب آپ تشریف لائے تو خلیفہ بڑی تعظیم سے اٹھا اور دوڑ کران کا استقبال کیا اور آپ کو تخت پر بٹھا کر خود غلاموں کی طرح دست بستہ بیٹھ گیا اور آپ سے پوچھنے لگا کوئی خدمت بتائیں ۔ آپ نے فرمایا دوبارہ مجھے مت بلاؤ تاکہ میں عبادت الہی میں مصروف رہوں۔ چنانچہ آپ کو تعظیم سے رخصت کیا اور خود بادشاہ پرلرزہ طاری ہوگیا اور بے ہوش ہوگیا۔تین دن تک بے ہوش رہا جب ہوش آیا تووزیر نے ماجرا دریافت کیا۔ ماجرا بتاتے ہوئے بادشاہ نے کہا جب امام جعفر صادق ؒ اندر تشریف لائے تومیں نے دیکھا کہ ایک اژدھائے عظیم آپ کے ہمراہ تھا اور اس کا ایک لب محل کے اوپر کے کنگرے اور دوسرا زمین پر تھا اور زبان حال سے مجھ سے کہہ رہا تھا کہ اگر تونے انہیں ذرا بھی تکلیف پہنچائی تو تجھے نگل جاؤں گا۔ یوں لگتاہے (ق) لیگ نے ایسا ہی کوئی ڈراؤنا خواب دیکھا ہے یا اپنی مکاری سے حالات کی نزاکت کو بھانپ لیاہے اور آئین کی جو بالادستی انہوں نے قائم کی تھی انہیں یاد آ رہی ہے۔ آئین کی ایسی بالادستی تھی کہ ان کے آقا آئین و قانون کی بالادستی قائم رکھتے ہوئے خود ہی آرڈر ٹائپ کرا کے کہ میں پرویز مشرف صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کو بطور چیف آف آرمی سٹاف دو سال کی توسیع دیتا ہوںاور اپنے دست مبارک سے دستخط فرماتے اور (ق) لیگ آئین وقانون کی بالادستی کاراگ الاپتی۔ آج انہوں نے دیکھ لیاہے کہ وزیر اعظم آئین وقانون کی بالادستی کے آگے ڈھیر ہو گئے ہیں اور آئین وقانون کی بالادستی کے لئے وہ بن بلائے مہمان بن کر گئے۔ انہوں نے وزیر اعظم کی ہستی کوآئین و قانون کی بالادستی کے لئے سرنگوں کردیا اور ہمیشہ کی طرح صلح جوئی اور مصالحت کی روایات کو دہرایا۔ انہوں نے ہمیشہ ایوان صدر کی لگائی ہوئی آگ پر پانی گرایا اور اس آگ کے شعلوں کو آگے نہیںبڑھنے دیا۔ اگر اس مفاہمت کا کوئی کریڈٹ ہے تو وہ وزیر اعظم کوجاتاہے مگر حیرانگی کی بات ہے کہ (ق) لیگ یہ راگ الاپ رہی ہے کہ عدلیہ کے نوٹیفکیشن کی واپسی کا کریڈٹ ہمیں جاتاہے یہ تو وہی بات ہوئی کہ تم کون میں خواہ مخواہ۔ آپ اسے یوں ہی کہہ سکتے ہیں کہ جمعہ جنج نال۔ (ق) لیگ کو عدلیہ کے نوٹیفکیشن کی واپسی کا کریڈٹ جاتاہے یا نہیں اس بات کا فیصلہ (ق) لیگ کے اسی اجلاس میں جس میں یہ دعوی کیاگیا لگایا جاسکتاہے۔ جب (ق) لیگ کی سنٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں سابق وفاقی وزیر شیر افگن نیازی نے اپنی تقریر میں کہا کہ وہ پانچ ججوں کو سپریم کورٹ کا جج نہیں مانتے ان کی اس تقریر سے یہ اندازہ بخوبی لگایا جاسکتاہے کہ (ق) لیگ عدلیہ کا کس قدر احترام کرتی ہے مجھے یقین ہے کہ ڈاکٹر شیر افگن عدلیہ کااحترام کریںنہ کریں وکلاء کا احترام ضرور کرتے ہوں گے کیونکہ ان کی یاد داشت بہت اچھی ہے ان کی اچھی یادداشت کا یہ ثمر ہے آج بھی وہ ببانگ دہل کہتے ہیں (ق) لیگ کے اجلاس میں کہتے ہیں کہ پرویز مشرف کو وہ اپنا لیڈر مانتے ہیں لیکن ان کی پارٹی کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین فرماتے ہیں کہ مشرف سے کوئی تعلق نہیں وہ قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔ سیاسی بے وفائی کی بھی کوئی حد ہونی چاہئیے یہی چوہدری شجاعت کہتے تھے کہ پرویز مشرف دس مرتبہ بھی وردی میں الیکشن لڑیں تو ہم انہیں منتخب کرائیں گے۔ انہیں صدر کاووٹ دیں گے اور موصوف نے چند ہفتے قبل فرمایاتھاکہ این آر او میرے ذہن کی تخلیق ہے اس کا نام اور اس کی تشکیل ان کی تجویز پر ہوئی اور ڈنکے کی چوٹ پر کہا این آر او میں نہ بنوایا۔ چوہدری شجاعت حسین نے بڑی دلیری سے کہا تھا کہ یہ شر کا پودا انہوں نے لگایا۔ آج چوہدری شجاعت کہتے ہیں پرویز مشرف سے کوئی تعلق نہیں وہ قصہ پارینہ بن چکے ہیں جبکہ نو سال پرویزمشرف نے اس قوم کو تگنی کاناچ نچایا اور چوہدری شجاعت نے پرویزمشرف کو نچایا اور چند ماہ قبل چوہدری شجاعت نے کہا تھاکہ پاکستان میں مارشل لاء کاراستہ نہیں روکا جاسکتا۔ ان کے بقول اس کے لئے صرف دو فوجی ٹرک اورایک جیپ کی ضرورت ہوتی ہے۔آج وہ فرما رہے ہیں کہ پرویز مشرف سے کوئی تعلق نہیں وہ قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔ یقیناً پرویز مشرف چوہدری صاحب کی اس بے وفائی پہ کہتے ہوںگے بدلتا ہے آسماں رنگ کیسے کیسے۔ کل تک چوہدری شجاعت پرویز مشرف کے ساتھ تھے آج آئین کی بالادستی کے ساتھ ہیں۔ وہ جہاں دیدہ آدمی ہیں انہو ںنے محسوس کرلیاہے کہ حکومت چیف جسٹس کے آگے گھٹنے ٹیک گئی ہے تو وہ کیسے ٹک سکتے ہیں۔ لہذا انہوں نے یہ بیان داغ دیاہے۔ ڈاکٹر شیر افگن کابیان (ق) لیگ کا پالیسی بیان نہیں وہ ان کا ذاتی بیان ہے تاہم چوہدری صاحب نے ابھی تک انہیں پارٹی سے نہیں نکالایہ ہے اصلی جمہوریت آپس میںدست وگریبان بھی ہوئے مگر پارٹی ایک ہی ہے اور سب کو اپنی رائے دہی کا حق بھی حاصل ہے امید ہے جلد ہی شیر افگن ان پانچ ججوں کو جج مان جائیں گے اور نزلہ بیچارے صحافیوں پر گرے گا جب وہ کہیں گے میں نے تو ایسا بیان دیاہی نہیں اور جلد ہی پرویز مشرف کے متعلق بھی کہیں گے۔
رواں دواں ہیں سفینے تلاش میں جس کی
وہ اک شکستہ کنارہ ہے اور کچھ بھی نہیں