Home » Article » ہم کدھر جا رہے ہیں؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:ڈاکٹر سید سجاد علی ہاشمی

ہم کدھر جا رہے ہیں؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:ڈاکٹر سید سجاد علی ہاشمی

بسنت پالا اڑنت،یعنی جب بسنت کا تہوارآتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ سردی ختم ہو گئی۔بسنت موسم بہار کی آمد کا اعلان کرتا ہے۔ نئے شگوفے کھلتے ہیں،ویسے تو ہمارے ملک میں آئے دن شگوفے کھلتے ہیں جو سیاسی ہوتے ہیں،کونپلیں پھوٹتی ہیں، پیڑوں پر نئے پتے اگے ہیں باغات میںپھولوں پر جوبن ہوتا ہے ہر طرف ہر یالی آنکھوں کا راج ہوتا ہے،دل شاد ہوتے ہیں،جشن بہاراں کے نام سے نماشیں میلے اور رنگا رنگ تقریبات ہوتی ہیں۔بچے،بوڑھے، جوان،خواتین و مرد اور خواجہ سرا سب لطف اندوز ہوتے ہیں،مایئے گائے جاتے ہیں۔بھنگڑے ڈالے جاتے ہیں۔خوشیوں کے تمام مواقع سے لطف اندز ہوتے ہیں۔بسنت کی تاریخ تقریباً 2ہزار سال پرانی ہے کہتے ہیں ملک چین میں کسان اور دوسرے لوگ بڑے بڑے ہیٹ پہنتے تھے۔بلکہ آجکل بھی پہنے جاتے ہیں۔ایک کسان کا ہیٹ تیز ہوا سے اڑ کر اس کے سر سے اتر جاتاتھا اور فضا میں کچھ دوراڑ کر چلا جاتا تھا۔اسے ترکیب سوجھی،اس نے ہیٹ کے ساتھ رسی باندھ کر گلے میں ڈال لی تاکہ ہیٹ نیچے گرنے نہ پائے۔ اگر گرے تو وہ اسے تھام لے۔ہوا چلی، ہیٹ اڑا،رسی کا سراہاتھ میں تھا رسی 5یا 6فٹ لمبی تھی ہیٹ فضا میں اڑا،اسے اچھالگادوسرے کسانوں نے بھی ایسا ہی کیا رسی،ذرا لمبی ڈال لی اور محفوظ ہونے لگے اس کے بعد پتنگ بازی عسکری طور پر ہوئی۔ایک جرنیل نے قلہ کی فصل پر کھڑے ہو کر پتنگ اڑائی۔دشمن کی سمت کا تعین کیا۔ہوا کا رخ اور پریشر جانچنے کا طریقہ ایجاد ہوا۔ پتنگ بازی ہندوستان میں کوریا سے سفر کرتی ہوئی آئی اور مغلیہ دور میں شروعات ہوئی۔پتنگ بازی کیلئے دو شہر امر تسر اور لاہور بہت مشہور ہوئے باقاعدہ مقابلے ہوئے تھے۔ گروپس تھے جنہیں رف کتہے تھے۔دورفیس مشہور تھیں استاد موچی اور استاد فضل دین تیلی والی،شاہی قلعہ کی فصیل کے ساتھ میلہ ہوتا تھا۔ منٹو پارک کے ایک حصہ میںپتنگ بازی کے میلے ہوتے تھے مقابلے ہوتے تھے اس حصہ کو گڈی گراؤنڈ کا نام دیا گیا۔جہاں لوگ خوشیاں مناتے پیچ لڑاتے تھے اور فضا بو کاٹا کے نعروں سے گونج اٹھی تھی۔کسی کا گلا نہیں کٹتا تھا۔ڈور سے کسی معصوم کی شہہ رگ نہیں تھی کسی ماں کے جگر کا ٹکڑا خون میں نہا کر راہی ملک عدم نہیں ہوتا تھا۔اب کیا ہو گیا ہے؟ ہم کدھر جارہے ہیں؟کتنی معصوم جانیں پتنگ بازی کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں۔قانون بھی موجود ہے،عملدرآمد کروانے والے بھی موجود ہیں جو پوری تند ہی سے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں پولیس کی نفری اتنی زیادہ نہیں کہ ہر چھت پر چڑھ کر قانون شکنوں کو پکڑے انہیں سزا دلوائیں۔ہمارے اندرسے تبدیلی آئے گی۔ ہمارا شعور بیدار ہو گا تو بات بنے گی۔ ڈور کی جگہ تندی،کیمیکل اور دھاتی ڈور ساری خرابی کی جڑ ہے جو لوگ سپلائی کرتے ہیں یا بناتے ہیں اصل قاتل وہ ہیں۔معاشرے کا ناسور ہیں۔خوشیوں کے قائل ہیں انہیں گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔ہمیں اپنی اولاد پر نظر رکھنی ہے انہیں سمجھانا ہے عقل سکھانی ہے،لغویات وواہیات سے بچنے کا درس دیتا ہے۔قانون نافذ کرنے اورعملدر آمد کروانے والوں کا بھر پور ساتھ دینا ہے اس میں ہمارا ہی بھلا ہے جس سے نہ کسی ماں کی گود اجڑے گی نہ کسی کاسہاگ لٹے گا اور نہ کسی کا بہن بھائی اور عزیز رشتہ دار بسنت کے نام پر پتنگ بازی کی بھینٹ چڑھے گا۔حکومت کو چاہیے کہ پتنگ بازی کیلئے جگہ مخصوص کر دی جائے اور تندی کیمیکل یادھاتی ڈور کے استعمال پر سخت پابندی عائد کر دی جائے سخت ترین سزا دی جائے جو قانون شکنی کرے۔عوام کا نقصان ہوگا نہ واپڈا کا گوجرانوالہ گجرات فیصل آباد میں بسنت منائی گئی ساری رات سارا دن فائرنگ،فحش گانے نعرے بازی،غلیظ زبان کا استعمال،لڑائی جھگڑے حتیٰ کہ قتل بھی ہوا۔وہ اودھم مچا رہا کہ عوام کی رات کی نیند حرام ہو گئی لیکن چند لوگ ہی جیل یاترا کر سکے۔دعا ہے کہ خداوند کریم ہمیں لغویات سے بچائے اوردین اسلام کے سنہری اصولوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین 
یہ کب کہا تھا ہمیں پتنگوں سے خوف آتا ہے 
ہمیں تو کٹے ہوئے گلوں سے خوف آتا ہے 
ہر چہرہ شادماں،خوشیوں کی بہا رہے 
ہمیں اداس بہاروں سے خوف آتا ہے