Home » Article » دہشت گردی کے خاتمے میں آپریشن راہ راست کی اہمیت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:جواد خالد

دہشت گردی کے خاتمے میں آپریشن راہ راست کی اہمیت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:جواد خالد

تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود کے بعد طالبان کی اعلی قیادت کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ ابتدائی طور پر نچلے اور درمیانے درجے کی قیادت کی بیخ کنی کے بعد سیکورٹی فورسز کو اس وقت بڑی کامیابی ملی جب بیت اللہ محسود ایک ڈرون حملے میں اپنے انجام کو پہنچا۔ اس کے بعد اس کے متعدد ساتھی تحریک طالبان قیادت کی آپسی لڑائی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ چند دن پہلے طالبان کے ترجمان مسلم خان اور مولوی عمر کی گرفتاری بھی سیکورٹی فورسز کی ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔ حال ہی میں سیکورٹی فورسز کے جوانوں کو ذبح کرکے خود کو دہشت گردی کا دیو کہلوانے والا دہشت گرد کمانڈرشیرمحمد قصاب نے گھیرا تنگ ہونے پر خود کو پاک فوج کے حوالے کردیا۔ پاک فوج کو اس تک پہنچنے کے لئے سخت مزاحمت کا سامنا تھا۔ اس لڑائی میں شیر محمد قصاب کے تین بیٹے بھی ہلاک ہوئے۔شیر قصاب کے سر کی ایک کروڑ روپے قیمت مقرر تھی۔حکومتی ذرائع کے مطابق مالاکنڈ میں طالبان کے سربراہ فضل اللہ کے گرد بھی سیکورٹی فورسز نے دائرہ کم کرنا شروع کردیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انہیں اس موقع پر مزاحمت کا سامنا کرنے پڑے گا یا پھر وہ خود کو سیکورٹی فورسز کے حوالے کردے گا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مالاکنڈ سوات میں شروع ہونے والے آپریشن راہ راست کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی اسٹریٹجک اہمیت ہے۔ یہ جنگ ٹیکنیکل لحاظ سے بھی کوئی کم اہمیت کی نہیں۔ آپریشن راہ راست چار ماہ کے عرصے تک محیط تھا۔ اس کے بعد ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں کافی حد تک کمی دیکھنے میں ملی لیکن جمعتہ الوداع کے روز کوہاٹ میں خود کش حملے کاایک اور افسوس ناک واقعہ پیش آیا جس میں تیس کے قریب افراد شہید ہوگئے۔جوں جوں دہشت گردوں کے گردگھیرا تنگ کیا جارہا ہے توں توں دہشت گرد بوکھلا رہے ہیں اور وہ معصوم جانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔بہرحال اسٹریٹجک لحاظ سے دیکھا جائے تو سوات، مالاکنڈ اور جنوبی و شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے دلوں پر پاک فوج کی دھاک بیٹھ گئی ہے۔ ان کی کارروائیاں دم توڑتی جارہی ہیں۔ پاک فوج نے اس مشکل علاقے پر ایک مشکل لڑائی میں مہارت حاصل کر لی ہے۔ اس تناظر میں امید کی جاسکتی ہے کہ مستقبل میں دہشت گردوں کو ان علاقوں میں پنپنے کا موقع نہیں ملے گا۔آپریشن راہ راست کے نتائج پر نظر ڈالی جائے تو اس وقت سیکورٹی فورسز نے 80فی صد علاقے پر اپنا کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ وہاں زندگی اپنے معمول پر آگئی ہے۔ سکیورٹی فورسز کی سخت نگرانی کی وجہ سے اس دوران وہاں کوئی بھی ناخوش گوار واقعہ پیش نہیں آیا۔اطلاعات کے مطابق اب تک 245دہشت گرداپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں جبکہ 300سے زائدزخمی ہوئے۔آپریشن کے دوران 210شدت پسندوںکی گرفتاری بھی عمل میں آئی۔ سکیورٹی فورسز کو بھی دہشت گردی کی اس جنگ میں کوئی کم قیمت نہیں چکانی پڑی۔ ان کی بیش بہا قربانیوں سے ہی دہشت گردوں کی کمر ٹوٹی۔پاک فوج کے تین سو جوانوں نے جام شہادت نوش کیا جبکہ نو سو سے زائد زخمی ہوئے۔ پاک فوج کے38افسروں اور جونیئر کمیشنڈ افسروں نے جام شہاد ت نوش کیا جبکہ 61زخمی ہوئے۔ ملک کی سلامتی اوربقا کی جنگ میں وہ اب بھی برسر پیکار ہیں۔آپریشن راہ راست کی اسٹریٹجک اہمیت کو مدنظر رکھا جائے تو مستقبل میں دہشت گردی کے خاتمے میںاسے اہم حیثیت حاصل ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کچھ عناصر اب بھی اس آپریشن پر تنقید کرنے میں مصروف ہیں۔کسی نہ کسی بہانے وہ پاک فوج کی اس بڑی کامیابی کو ناکامی سے تعبیر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔کبھی ماورائے عدالت ہلاکتوں کا واویلہ مچایا جاتا ہے تو کبھی مذاکرات کی بات کی جاتی ہے۔ کیا انہیں سوات، مالاکنڈ اور وزیرستان میں اسلام کے نام نہاد علمبرداروں کے کرتوتوں کا کوئی علم نہیں جنہوں نے اپنے ہی طرز کے اسلام کومقامی افراد پر نافذ کرنے کی کوشش کی۔ زور اور زبردستی، ظلم اور زیادتی جس سے اسلام منع کرتا ہے اسے اپنا کر معصوم لوگوں کی جانوں سے کھیلنا شروع کردیا۔ لوگ ابھی تک معصوم بچوں اور بچیوں کی آہ وزاریوں کو نہیں بھولے۔ نوجوان لڑکی کو سرعام کوڑے مارنے کا واقعہ ابھی تک ذہنوں میں تازہ ہے۔ معصوم افراد کو بے بنیاد واقعہ کی پاداش میں ذبح کرکے کھمبوں سے لٹکا دینے کے واقعات لوگ کبھی بھی فراموش نہیں کرسکیں گے۔ سیکورٹی فورسز پر حملے، غیرملکیوں کے ایجنڈے پر چلنااور حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنے کا وطیرہ کب تک برداشت کیا جاتا؟؟ ان کے اسلامی اور ملکی مفادات کے خلاف ہتھکنڈوں کی وجہ سے حکومت ان دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی پر مجبور ہوئی۔آپریشن راہ راست صرف حکومت کا فیصلہ ہی نہیں تھا بلکہ مالاکنڈ کے عوام کی اکثریت بھی ایسا ہی چاہتی تھی۔کیونکہ وہ طالبان کے مظالم کے ہاتھوں تنگ آچکے تھے۔ اکثر نے تو حکومت اور سکیورٹی فورسز کے کردار پر انگلیاں اٹھا نا شروع کردی تھیں۔ آپریشن راہ راست عوام کی پکار تھی۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت ان کا اپنے گھر بار چھوڑ کر سکیورٹی فورسز کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی سہولت بہم پہنچانا تھا۔مختصر یہ کہ آپریشن راہ راست دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ اس پر تنقید کرنے والے دراصل اپنے اپنے مفادات کے خول میں رہ رہے ہیں۔بہرحال سکیورٹی فورسز نے مالاکنڈ اور سوات میں امن قائم کرکے ملک کی بقا کی جنگ کو کافی حد تک جیت لیا ہے۔ آپریشن پر تنقید کرنے والے دراصل پاک فوج اور عوام کے رشتے میں خلیج پیدا کرنے کے دیرینہ خواب کی تکمیل کی کوشش کررہے ہیں لیکن تاریخ گواہ ہے کہ عوام کو فوج سے بددل کرنے والی تمام سازشیں عوام اور فوج کے درمیان پائے جانے والے اعتماد کی وجہ سے خودبخود دم توڑگئیں۔ سوات اور مالاکنڈ کے عوام پاکستان اور پاک فوج سے کتنی محبت کرتے ہیں اس کی واضح مثال یوم آزادی اور یوم دفاع پر ان علاقوں میں جشن کے سماں اور عوام کا بھرپور جوش و خروش ہے۔