Home » Article » دوسری شادی یا دوسری عورت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:رانا محمد ابراہیم نفیس

دوسری شادی یا دوسری عورت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:رانا محمد ابراہیم نفیس

رکن صوبائی اسمبلی ثمینہ خاور حیات نے اسمبلی کے فلور پر اپنے خاوند کو دوسری شادی کرنے کی اجازت دینے کی بات کیا کردی گویا بھِڑوں کے چھتے پہ ہاتھ ڈال دیا۔اب ہر ایرا غیرا،نتھو خیرا خالصتاً شرعی ،دینی ،مذہبی مسئلے پر ہاتھ میں لٹھ لیے عقل کے پیچھے فراٹے بھرتا بھاگتا نظر آرہاہے۔اور تواور جنہیں پاکی ،پلیدی ،حلال حرام کی بھی تمیز نہیں وہ بھی خامہ فرسائی کرتے نظر آتے ہیں کہ اسلام میں بوجہ مجبوری اور وہ بھی پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی جائز ہی نہیں۔اور وہ مغرب زدہ ماڈرن عورتیں جو غیرملکی کرنسی کے پے رول پہ ہیں وہ تو گلا پھاڑ پھاڑ کر مفتیان دین شرع متین بننے کی بھونڈی کوشش کررہی ہیں۔ اللہ غالب حکمت والاہے۔تبھی تو اس نے بیویوں کی گنتی ہی دو۔دو ،تین ۔تین اور چار۔ چار سے شروع کی لیکن اسکو عدل وانصاف کے اصول کے ساتھ مشروط کردیا کہ اگر عدل میں خوف محسوس کرو تو ایک ہی کافی ہے۔اور بس یہاں سے ہی انسان کے ایمان کا پیمانہ سامنے آتا ہے۔دوسری شادی کی سب سے بڑی مخالف بھی عورت ہی ہے۔اور انسان جس سے دوسری شادی کرتا ہے وہ بھی ایک عورت ہی ہے۔گویا عورت ہی عورت کی دشمن ہے جو نہیں چاہتی کہ جس طرح مجھے عزت وامان ملی ہے وہ میری ہم صنف کو ملے ،کسی سفید پوش باعزت کنواری لڑکی ، بیوہ یا مطلقہ کو پناہ ملے۔ ہمارے معاشرے کا اصل مسئلہ منافقت ،دوغلاپن اور خودغرضی ہے ۔یہاں عورت یہ تو برداشت کرلیتی ہے کہ خدانخواستہ اس کا خاوند داشتہ رکھ لے، رکھیل کے ناز نخرے اٹھائے ، مُجرے خانے میں چلا جائے ، زنا کاری کی غلاظت میں لِتھڑ جائے ، اپنے خون پسینے کی کمائی سے گرل فرینڈ کو نوازتا رہے، لیکن وہ کبھی پسند نہیں کرتی کہ کوئی عورت اُسکی سوتن بن کر اُسکے مرد کی زندگی میں آئے ۔یہ عورت خود تواپنے شوہر کے مال پہ عیش وعشرت کرتی ہے لیکن اسکی وفادار اتنی ہے کہ اپنے خاوند کو جہنم کے گڑھے سے نہیں بچاتی۔وہ سمجھتی ہے کہ چلیں باہر ہی منہ مارتا ہے ، مارتا رہے میرا کیا جاتا ہے۔؟ پوری دنیا خصوصاً بھارت ،بنگلہ دیش ،نیپال اور دیگر ملکوں کے علاوہ بدقسمتی سے اب پاکستان میں بھی شناخت ہوجانے پر لاکھوں بچیوں کو اسقاط حمل کے ذریعے ہی قتل کردیا جاتا ہے ۔اور سفاکی کا تو عالم یہ ہے کہ اگر وہ اس دنیا میں سانس لینے میں کامیاب ہوجائیں توبھارت میں موتی چور لڈو اُس کے حلق میں زبردستی ٹھونس ٹھونس کر اُسکا سانس بند کرکے موت کے گھاٹ اُتار دیا جاتا ہے۔اپنے وطن میں جوکنواری مائیں نرم دِل ہوتی ہیں وہ نوزائید کو کچرے کے ڈھیر پر پھینک دیتی ہیں جن کی نرم نازک ہڈیاں کُتے چبا جاتے ہیں۔ کبھی کبھار کوئی راہ گیر اُس شاپر کو اُٹھا لیتا ہے تو کوئی بے اولاد گھرانہ اُس نوزائیدبچی کو سینے سے لگالیتا ہے۔جوکنواری مائیں ذرا زیادہ نرم دِل ہوتی ہیں وہ زناء کاری ، حرام کاری کے ،،ثمرات ،، کوٹھکانے لگانے کیلئے ایدھی ہوم کے رکھے ہوئے جھولے میں ڈال کر،،لبرل ،،طریقے سے اپنے گناہ کا کفارہ ادا کرلیتی ہیں ۔اولاد کے ترسے ہوئے بے اولاد جوڑے وہاں سے انہیں حاصل کرکے اپنی تشنگی دور کرلیتے ہیں۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صنف نازک سے یہ برتاؤ ،سفاکانہ رویہ ،انکا قتل عام یہ سب کچھ کرکے بھی کیا عورتوں کی تعداد کنٹرول کی جاسکی ہے۔سیاسی اور جمہوری حقوق کے حوالہ سے تو عورتیں دعویٰ کرتی ہیں کہ ہم 55%ہیں،تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ مرد 45%ہیں۔گویا 10%زائد عورتوں کے علاوہ ہزاروں مطلقہ اور بیوہ عورتیں ،کیا انکو سمندر میں غرق کردیا جائے یاخدانخواستہ انہیں بدکاری ، زناء کاری کا لائسنس دے دیاجائے کہ آخر کہاں تک کوئی فطری تقاضوں کے خلاف لڑ سکتا ہے۔؟؟ پاکستان میں آج بھی سفید پوش طبقے کی لاکھوں کنواری لڑکیاں،،پیا گھر ،،جانے کے خواب لیے بڑھاپے کی سرحد کو چھو رہی ہیں۔اُنکے بالوں میں چاندی چمکنے لگی ہے۔وہ اپنی خواہشات وجذبات کو تھپک تھپک کر سُلاتے ہوئے خود ہانپنے لگی ہیں۔وہ گھر کی دہلیز کو ماں باپ کے عزت وقار کی خاطر نہیں پھلانگتیں۔وہ کونوں کھدروں میں منہ چھپاچھپا کرگھٹ گھٹ روتی ہیں لیکن زبان سے آہ نہیں نکالتیں۔رو ،دھوکر اپنی قسمت پر شاکر ہوجاتی ہیں۔ایک طرف ،،جہیز کی لعنت،، کا طوق ہے دوسری طرف آئیڈیل کی تلاش کا ذوق شوق ہے۔ایک طرف غربت کا شور ہے دوسری طرف سفید پوشی کا زور ہے۔اس کشمکش میں جو معاشی مجبوری کی وجہ سے حصول ملازمت کے لیے نکلتی ہیں ان میں سے اکثر اپنی عزت گنوا بیٹھتی ہیں۔انہیں ہر کوئی دوست بنانے کو تو تیار ہے ، بیوی بنانے کیلئے نہیں۔کیوں۔۔؟ لاکھوں غیر شادی شدہ لڑکیوں کی طرح ہزاروں بیوہ اور مطلقہ عورتیں بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہیںمعاشرے کیلئے بہت بڑی ذمہ داری ۔اورجب کوئی معاشرہ آفاقی اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے تو کرپشن کو فروغ ملتا ہے۔کرپشن مال ودولت کی ہی نہیں جنسی کرپشن بھی ہے۔یہاں اکثر دولت مند اورنودولتیے دوستیاں پالتے ہیں ،گرل فرینڈز رکھتے ہیں ۔یہاں تک کہ آوارہ ،لوفر اور بیکار لڑکے بھالے بھی دوچار لڑکیوں سے دوستی بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔معاشرہ اس بے لگام مادرپدر آزادی کو قبول کرلیتا ہے ،حرام کو پسند کرلیتا ہے ، زنا کو برداشت کرلیتا ہے ، نکاح کو نہیں ۔کیوں۔؟ صنف نازک کی نسل کُشی اوراخلاقی وسماجی کرپشن کے باوجود بھی عورتوں کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے ۔جب اضافی تعداد کو باعزت طریقے سے اپنایا نہیں جائیگا تو ظاہر کہ اُنکی عزت وعفت نیلام ہی ہوگی اور اگر اللہ کریم کے حکم کی تعمیل میں صاحب استطاعت اور متمول لوگ کم ازکم ایک شادی اور نہیں کرینگے تو یقین جانیں معاشرے میں بڑے بڑوں کو اپنی عزت بچانا مشکل ہوجائیگا ،یہ معاشرہ جنگل بن جائیگا ۔دختران ملت کشمیر کی چیئرپرسن آسیہ اِندرابی بھی پُکار اُٹھی ہیں کہ عورتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے مردوںکی دوسری شادی کرائیں۔ عورت کے چار ہی مقدس رشتے ہیں ۔ماں ہے تو،،جنت اُس کے قدموں کے نیچے،، پاکباز بیوی تو ،،وجودِ زن سے ہے کائنات میں رنگ ،، بہن ہے تو،، عزت وغیرت کا پیکر ،، بیٹی ہے تو ،،حیاء کی پُتلی ،اللہ کی رحمت ،، پھر یہ رکھیل ،داشتہ گرل فرینڈ ،طوائف کہاں سے آن ٹپکی ۔یہ فقط اس لیے ہواکہ ہم نے اُنکی اضافی تعداد کو نظرانداز کردیا اور شیطان نے نقب لگاکر انہیں رحمان کے راستہ سے بھٹکا دیا ۔اگر انہیں بھی نکاح کا سائبان میسر آجاتا۔مجبور بیوہ اورمظلوم مطلقہ کو دوسری شادی کی شکل میں پناہ مل جاتی تو یوں انسان کبھی بھی حیوان نہ بن پاتا کہ وہ عورت کو ملامت کی علامت بنادیتا۔عورت ، عورت کوصرف سوتن کی نظر سے ہی کیوں دیکھتی ہے۔ایک ماں ،ایک بہن ، ایک بیٹی کی نظر سے کیوں نہیں دیکھتی ۔وہ اپنے ایمان کوحاضر کرکے بتائے کہ کیا وہ اپنی بیٹی ،بہن کیلئے یہ پسند کریگی کہ وہ خود تو اپنے خاوند کے ساتھ عزت وآرام کی زندگی بسر کرے اوراسکی عزیزہ اپنی پوری زندگی اکیلی ،پیاسی ،تشنگی میں گزاردے یاوہ خدانخواستہ کسی کی رکھیل یا داشتہ بن جائے ۔ظاہر ہے رکھیل ، داشتہ یا گمراہ ہونے والی بھی کسی کی بیٹی ہے ،کسی کی بہن ہی تو ہے۔شاید عورت کی اس خودغرضی اور تنگ نظری سے مجبور ہوکر ہی اکثر مرد خفیہ شادی رچا لیتے ہیںجو بعدازاں زیادہ فساد کا سبب بنتی ہے۔اگر بیوی تعاون کرے تو مردکولکن چھپن کا کھیل کھیلنے کی ضرورت نہ پڑے کہ صرف مرد کوہی دو ، تین، چار شادیاں کرنے کی اللہ کریم نے اجازت دی ہے ۔ یہ کیسا اسلام ہے ، یہ کیسا ایمان ہے ،یہ کیسی نفسانفسی ہے،ہماری آنکھوں پہ خودغرضی کی پٹی بندھی ہے کہ جتنا من بھایا اتنااسلام اپنایا اور جہاں من کے خلاف پایا تواسے ٹھکرا یا۔اللہ تو کہتا ہے اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ اور محمد عربی ﷺ نے اپنے قول وفعل سے رہتی دنیا تک کیلئے نمونہ پیش کیاآپ ﷺ نے مختلف قبائل میں بیوہ اور مطلقہ عورتوں سے شادی کرکے عملی ثبوت دیا تو پھر یہ کیسا فیصلہ ہے کہ دوسری شادی نہیں دوسری عورت قبول ہے۔حالانکہ دوسری عورت نہیں دوسری شادی ہی مسئلے کا حل ہے کہ صرف اس خدائی اصول کے مطابق ہی مرد کوزناء اور حرام سے بچایا جاسکتاہے۔اور لاکھوں غیرشادی شدہ ،سفید پوش اور یتیم مسکین لڑکیوں ،مجبور بیوہ اورمظلوم مطلقہ کا مستقبل محفوظ کیا جاسکتاہے۔قارئین کیا آپ بھی اللہ کے اس حکم سے اتفاق کرتے ہیں۔کرتے ہیں نا۔۔؟