Home » Article » یہ میرج ہال ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر: مہر محمد امین

یہ میرج ہال ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر: مہر محمد امین

ہمارے ہاں بعض بزنس ایسے ہیں جنیں بزنس سمجھ کر نہیں کیا جاتا اور اپنے ہی کسٹمر سے وہ لوگ ناروا سلوک کرکے اپنی پہچان terror کے طور پر منوانے میں کامیاب ہو چکے ہیں ان میں سینما ہال والے، بس ، ویگن، فلائنگ کوچ کے اڈوں والے اور برف کا پھٹہ لگانے والے شامل ہیں اور اب اس میں ایک نیا ادارہ بھی شام ہوگیاہے۔ گذشتہ دنوں جی ٹی روڈ پر واقع ایک میرج ہال میں جلالپورجٹاں سے ایک بارات آئی جو آج کل کی دیگر باراتوں کی طرح حسب معمول دیر سے پہنچی جس پر میرج ہال کے مینجر اور باراتیوں میں تلخ کلامی شروع ہوگئی اور میرج ہال کے ویٹرو ںنے بیس بال کھیلنے والے بلوں سے باراتیوں پر دھاوا بول دیا اور دولہا کے قریبی عزیزوں کی خوب ٹھکائی کی جس سے وہ زخمی ہو گئے اور میرج ہال کے سیکیورٹی گارڈز نے اندھا دھند ہوائی فائرنگ شروع کردی اس ہوائی فائرنگ کے خوف کی وجہ سے دو خواتین بیہوش ہوگئیں۔ زخمی باراتیوں کو ریسکیو 1122 کی گاڑیوں پر ہسپتال پہنچایاگیا تو احساس ہوا کے (ق) لیگ کے اچھے اقدامات سے ایک اچھا کام ریسکیو 1122 سروس کا آغاز بھی ہے۔ میرج ہال کی انتظامیہ کا یہ رویہ انتہائی قابل افسوس اخلاق باختہ اور شائد دنیا کی تاریخ میں یہ پہلی نوعیت کاواقعہ ہو کہ کسی میرج ہال کی انتظامہ نے تاخیر سے پہنچنے پر باراتیوں کا یہ حشرکیاہے اور میرج ہال کی انتظامیہ نے اب ثابت کردیاہے کہ غنڈہ گردی صرف سینما ہال کی انتظامیہ یا برف بیچنے والے پھٹہ مالکان اور ویگنوں بسوں کے اڈوں کی انتظامیہ ہی نہیں کرسکتی ہم میں بھی دم ہے اور بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا۔ اخلاقیات کا تقاضا تو یہ تھا کہ میرج ہال انتظامیہ اپنے میزبان جس نے میرج ہال کی بکنگ کرائی تھی تاخیرکا شکوہ اس سے کرتی اور میزبان خود باراتیو ںسے بات کرتا نیز یہ پہلی بارات نہیں تھی جو تاخیر سے آئی تھی ہمارے ہاں ہر بارات تاخیر سے آتی ہے اور میرج ہال نے سروسز مہیا کرنا تھیں اور پیسے کے عوض سروسز مہیا کرنے والے کسی ادارے کا اپنے کسٹمر سے یہ سلوک انتہائی شرمناک ہے اور ہم تو اہل مشرق یہ نظریہ رکھتے ہیںکہ بیٹیاں سب کی برابر ہوتی ہیں ایک شریف آدمی کی بیٹی کی شادی ہے اور چند شریف آدمی اس بیٹی کی بارات میں شامل باراتیوں پر بلوں سے حملہ آور ہوجائیں ، چند شریف آدمی ہوائی فائرنگ شروع کردیں اور باراتیوںمیں چند شریف آدمی زخمی ہوجائیں یہ اخلاقیات کی گراوٹ توہے مگر ہماری ثقافتی روایات سے بھی بغاوت ہے۔ وہ ویٹر جن کا رزق ہی باراتوں سے وابستہ ہے وہ سیکیورٹی گارڈ اورمینجر جس کارزق ہی باراتوں کی آمد سے وابستہ ہے یہ فعل سرانجام دے کر انہوں نے اپنی معاشی اور کاروباری روایات سے بھی بدعہدی کی ہے۔ اگر ان ویٹروں مینجر اور سیکیورٹی گارڈ کی بہن یا بیٹی کی بارات تاخیر سے پہنچے تو کیا وہ اس کے ساتھ بھی یہ سلوک کریں گے اور اس شریف آدمی کی کیا عزت رہ گئی جس کی بیٹی کی شادی تھی اس نے اس میرج ہال کاانتخاب کرکے کونسی اتنی بڑی سنگین غلطی کی تھی کہ اسے اتنی بڑی سزادی گئی۔ کیا اس عمل سے میرج ہال کی انتظامیہ نے اس بیٹی کی راہ میں کانٹے نہیں بچھائے جس کی شادی تھی اس کے سسرال والے اسے ہمیشہ طعنہ نہیں دیں گے۔ اگر میرج ہال مالکان نے یہی کام کرناہے تو وہ میرج ہال کی بجائے سینما ہال بنا لیں اور اگر انتطامیہ اجازت دے تو ڈرامہ ہال بنا لیں۔ان کی انتظامیہ بہتر کارکردگی کا جذبہ رکھتی ہے۔ میرج ہال کے مالک نے اس کا کیا نوٹس لیاہے معلوم نہیں مگر یہ والدین کے لئے لمحہ فکریہ ہے جو اپنی بیٹیوں کی بارات کے لئے میرج ہال کا انتخاب کرتے ہیں۔ میرج ہال کی انتظامہ کو چاہئیے کہ وہ اس جرم عظیم پر معافی مانگیں تاکہ شہریو ںکا بیٹیوں کے والدین کا ان پر اعتماد بحال ہوسکے۔توبہ اورندامت کے آنسو ہر گناہ کو دھو دیتے ہیں ۔حضرت ابوسلیمان دارائی بہت بڑے زاہد وعابد شریعت وطریقت کے پیکر تھے آپ فرمایا کرتے تھے کہ ایک مرتبہ میں نے نماز پڑھنے کے بعد جب دعا کے لئے ہاتھ اٹھانا چاہے تو سردی کی وجہ سے ایک ہاتھ بغل میں دبا لیا اور اسی شب اللہ تعالی کو خواب میں یہ فرماتے سنا کہ اے سلیمان تجھے اس ہاتھ کا رتبہ عطا کردیاگیا جو تو نے دعا کے لئے دراز کیاتھا اور اگر دوسرا ہاتھ بھی اٹھا لیتا تو ہم اس کا اجر بھی عطا کردیتے چنانچہ اسی دن سے آپ نے دونوں ہاتھ اٹھا کردعا کرنے کا معمول بنا لیا اور فرمایا کہ ایک رات مجھ پرایسی غنودگی طاری ہوئی کہ میرے وظائف کا وقت ختم ہونے لگا اور خواب میں دیکھا کہ ایک حور مجھ سے کہہ رہی ہے کہ پانچ سو سال سے مجھے تمہارے لئے ہی بنایا اور سنوارا جارہاہے اور تم خواب غفلت میں پڑے ہو اس آواز کے ساتھ ہی میں نے بیدار ہو کر اپنا وظیفہ پورا کیا۔فرمایا ایک مرتبہ خواب میں ایسی حورکا نظارہ کیا کہ اس کی پیشانی روشن اورمنور ہے جب میں نے سوال کیا کہ یہ نور اور روشنی کیسی ہے تو اس نے جواب دیا کہ تم ایک شب خوف الہی میں گریہ کررہے تھے۔ تو تمہارے اشکوں کو میرے چہرے پر بطور ابٹن مل دیاگیاتھا ۔ اسی دن سے یہ نور اور روشنی میری پیشانی پر نمودار ہے۔ انتظامیہ میرج ہال کواگرکسٹمر کی کمی کا کوئی خوف نہ ہو پھر بھی اپنے کئے پرندامت کے آنسو بہا لیں اپنی عاقبت کی بہتری کے لئے اور اس طرح عاقبت بھی بہتر ہوگی اور اس بچی کے والدین اور باراتیوں کی جو دل آزاری ہوئی ہے ان کی دل جوئی بھی ہوجائے گی اورمیرج ہال کی کاروباری ساکھ بھی باقی رہ جائے گی اور ہم کب تک اخلاق باختہ رہیں گے۔ ایک ہندو بنیا دولت کو پکھی قراردیتاہے اپنے گاہک کوبھگوان کا اوتار سمجھتا ہے، ایک گورا جس کو بس کا ڈرائیور رکھا گیاہے اس کا کام ڈرائیونگ ہے مگر وہ ہر سٹاپ پر نئی آنے والی سواری کو مسکرا کر you well comeکہتا ہے جو اس کافرض نہیں اس کافرض ڈرائیونگ ہے مگر وہ اپنے کسٹمر کا احترام کرتاہے کہ اس کا رزق اس سے وابستہ ہے اور ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ وہ اچھا با اخلاق انسان ہونے کا ایمپریشن بھی چھوڑتاہے جب آدمی اپنی غلطی پر نادم ہوتاہے تو مظلوم کادل خود اسے کہتاہے۔
اے دل اب ان کی ساری جفاؤں کو بھول جا
ہونا پڑا ہے ان کو پشیماں کبھی کبھی