Home » Article » اللہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر :محمد یونس قریشی

اللہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر :محمد یونس قریشی

سب فنا ہونا ہے صرف اللہ باقی رہے گا۔ اسلام حق دین ہے باقی سب باطل ہے۔ قرآن و سنّت ہی پورے کا پورا اسلام ہے۔ خلفائے راشدینؓ ، صحابہ کرامؓ، تابعین، تبع تابعین، محدثین، مفسّرین، ائمہ کرام، فقہائے عظّام، قیاس کے اہل اور مجتہدین، مجاہدین، شہداء اور صالحین اسی طرح علمائے دین، اولیاء اور صوفیائے کرام، مسلم مورخین،طلباء اور مبلغین کی جدوجہد اور قربانیوں سے اسلام پھیلا اور قیامت تک مکمل دین باقی رہے گا۔ محسن کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں قرآن مجید اللہ کی آخری اور ہر لحاظ سے مکمل کتاب ہے احادیث مبارک قیامت تک کے لیے محفوظ ہیں اس وقت روئے زمین پر اللہ کی سب سے بڑی نعمت قرآن مجید ہے جس کا ایک ایک حرف اور زیر زبر پیش قیامت تک محفوظ رکھنا رب کائنات کے ذمہ ہے۔ جہاد قیامت تک جاری اور باقی رہے گا شہدا، مجاہدین اور غازیوں کیلئے بے پناہ انعامات ہیں۔ تمام انسانیت کو اسلام کی دعوت حکمت اور بصیرت کے ساتھ دیں، نماز کی دعوت عام کریں، مسلمان بھائیوں کو ذکر پر لگائیں اپنے بچوں کو بھی قرآن مجید کی تلاوت اور اللہ کے ذکر کا عادی بنا دیں۔ اسمائے حسنیٰ یاد کرائیں انہیں بچپن سے ہی تہجد گزار بنا دیں۔ روزانہ زیادہ سے زیادہ تلاوت قرآن مجید، تین سو مرتبہ پہلا کلمہ، ایک سو بار تیسرا کلمہ، سو مرتبہ کوئی سا مسنون استغفار اور سو مرتبہ درود شریف پڑھنا معمول بنا لیں سب کچھ اللہ سے ہونے کا یقین بنائیں گھروں سے ہر وقت قرآن مجید کی صدائیں سنائی دیں گھروں اور اہم مقامات پر نماز، ذکر اذکار اور قرآن وحدیث کی تعلیمات کے لیے جگہ مختص کریں اپنے یا عزیز و اقارب کے بچوں میں سے کسی ایک دو کو حافظ، قاری، عالم اور مفتی بنائیں اللہ سے خوب دعائیں مانگیں روزانہ کم از کم پندرہ بیس منٹ دنیا و آخرت کے حوالے سے تفصیل سے دعا کریں اپنے لیے، تمام مسلمانوںکی مغفرت اور تمام انسانیت کی ہدایت کے لیے دعا کریں۔ رات کے آخری حصے میں رو رو کر التجائیں کریں۔ کسی مستند کمپنی کے دیدہ زیب اور جاذب نظر قرآن مجید حفاظ، قراء، علمائے کرام، طلبہ، عام لوگوں، مساجد اور مدارس کو ہدیہ کرتے رہا کریں۔ عازمین حج و عمرہ اور اللہ کے رستے میں نکلے ہوئے افراد کو چھوٹے سائز کے قرآن مجید ہدیہ کریں تاکہ سفر میں تلاوت کر سکیں، عازمین حج و عمرہ بھی قرآن مجید ہدیہ کر کے حرمین شریفین کے لیے وقف کر سکتے ہیں۔ہر وقت قرآن مجید کی تلاوت اور درود و سلام کا ورد کرنے پر اللہ بغیر مانگے ہی سب مانگنے والوں سے زیادہ نوازتا ہے تمام حاجتیں اور ضرورتیں غیب سے پوری کرتا ہے، دنیا و آخرت کی بھلائیاں اور عافیت نصیب کرتا ہے اللہ کا سب سے زیادہ قرب تلاوت قرآن سے ہوتا ہے خواہ سمجھ کر پڑھیں یا بغیر سمجھے۔مساجد اور مدارس میں قرآن مجید کا ترجمہ سکھانے کے لیے الگ شعبہ ہونا چاہیے اسی طرح جہاں ناظرہ پڑھایا جاتا ہے وہاں تجوید کے ذریعے ناظرہ پڑھایا جائے۔ ناظرہ، تجوید، ترجمہ و تفسیر، حفظ، اشاعت و تبلیغ اورقرآن پر عمل کرنے کے حوالے سے جتنی خدمات ہیں آپ جس قدر حصہ ڈال سکتے ہوں ضرور بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔فرائض کے ساتھ ساتھ تہجد، اشراق، چاشت، اوابین اور نوافل کا خوب اہتمام کریں، کثرت کے ساتھ لمبے لمبے سجدے کریں خوب گڑ گڑائیں۔ سجدے میں بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔رمضان کے علاوہ ہر ماہ تین نفلی روزے بھی رکھیں۔ صاحب نصاب ہیں تو خوشدلی سے زکوٰۃ دیں اور عیدالاضحی پر ذوق و شوق کے ساتھ قربانی کریں۔ صدقہ و خیرات کے ذریعے امراض اور بلاؤں کو دور کریں صدقات جاریہ میں بھی بھرپور حصہ لیں، استطاعت ہو تو حج اور عمرے کریں حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حسن اخلاق، خدمت، سخاوت اور حقوق العباد بالخصوص والدین، عزیز و اقارب اور پڑوسیوں کے حقوق کما حقہ ادا کریں۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام کا خوب خوب اہتمام کریں سب سے افضل درود شریف درودِ ابراہیمی (نماز والا درود شریف) ہے کم از کم سو مرتبہ یا تین سو یا کم و بیش بار پڑھیں جس طرح ازل سے قیامت تک پڑھے جانے والے تمام درود پاک سے افضل درودِ ابراہیمی ہے جو اللہ، اس کے آخری نبی اور فرشتوں نے پڑھا۔ کم لوگ جانتے ہیںکہ نماز کے اندر التحیات والا سلام حضور پاکؐ پر ازل سے قیامت تک بھیجے جانے والے تمام کے تمام سے افضل سلام ہے ،،السلام علیک ایّھا النّبی و رحمۃ اللّٰہ وبرکاتہٗ،، یہ سلام وہ بہترین استقبال تھا جو معراج کے موقع پر رب العالمین کی جانب سے اللہ کی تمام مخلوقات سے افضل ہستی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے شایان شان تھا یہ سلامِ ربی آپ دنیامیں کسی بھی جگہ پڑھ سکتے ہیں فرشتے حضور پاک ؐ تک پہنچا دیتے ہیں جبکہ روضہ رسولؐ پر پڑھا جانے والا درو دو سلام حضور پاکؐ خود سنتے اور جواب مرحمت فرماتے ہیں لہٰذا روزانہ جہاں درودِ ابراہیمی کثرت سے پڑھیں ،،السلام علیک ایّھا النّبی و رحمۃ اللّٰہ وبرکاتہٗ،، بھی سو، تین سو مرتبہ یا کم و بیش بار پڑھیں یہ سلام اللہ کے الفاظ ہیں کمال ادب ، توجہ، خلوص اور محبت کے ساتھ ورد کیاکریں۔ درودِ ابراہیمی اور یہ سلام اس لیے سب سے افضل ہیں کہ اللہ کے مقرر کیے ہوئے اللہ کے ہی الفاظ ہیںاور اللہ نے انہیں پڑھا، محمد رسول اللہ کی زبان مبارک سے ادا ہوئے اور فرشتوں نے پڑھا۔ عازمین حج و عمرہ روضہ رسولؐ پر کثرت سے اس سلام کو پڑھیں اور واپس آکر بھی اس کا اہتمام کرتے رہیں۔ گھر گھر، چھوٹے بڑے سب ادب کے ساتھ درودِ ابراہیمی اور اس سلامِ ربی کے ورد کو عام کریں رحمتیں اور برکتیں ہوں گی۔ جب ہم دین کی دعوت، محنت اور اعمال والی زندگی پر آجائیں گے قرآن و سنت پر پورا عمل کریں گے تو اللہ ہم سے راضی ہوگا جب اللہ راضی ہو گیا تو پھر سب کچھ مل گیا اللہ ایک مؤمن کے دل میں کیسے سماتا ہے اس کی مثال یوں ہے کہ جیسے ایک آئینہ ہے جو دھوپ میں رکھا ہوا ہے سورج کی شعاعوں کی وجہ سے وہ نور بن گیا ہو یا جیسے کوئی حوض ہے جو قطعی شفاف پانی سے لبالب بھرا ہو دو پہر کے وقت سورج اپنی پوری تابانی سے چمک رہا ہو اور اس طرح پانی نے سورج کو اپنے دامن میں لے لیا ہو، مؤمن کا قلب جس قدر پاک، طاہر اور لطیف ہوگا اسی قدر اللہ کا نور وہاں ہوگا جس قلب پر اللہ کے نور کا عکس پڑ گیا جس قلب نے اللہ کے نور کو اپنے د امن میں لے لیا ، اللہ کا نور اللہ کا قائم مقام بن جاتا ہے، گویا اس دل میں اللہ سما گیا۔ سبحان اللہ۔کالم کے آخر میںایک انتہائی مبارک درودو سلام دیا جا رہا ہے جملہ حاجات اور حرمین شریفین کی زیارت کیلئے مجرب ہے کمال ادب اور شوق کے ساتھ ورد کریں۔