Home » Article » بھارت ہمارا دوست یا شدید اور بے اصول دشمن۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر : محمد احمد ترازی

بھارت ہمارا دوست یا شدید اور بے اصول دشمن۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر : محمد احمد ترازی

المیہ یہ نہیں کہ حالات سنگین ہیں، ہم صحرا کی بھول بھلیوں میں بھٹک رہے ہیں ، گرداب بلا ہمیں اپنے گھیرے میں لئے ہوئے ہے ، چاروں طرف سے سرخ ریت کے خون آشام بگولے ہماری طرف لپک رہے ہیں ،المیہ یہ بھی نہیں کہ قافلہ سالاروں کے دعوئے بدل گئے ہیں، ہمت اورحوصلے پست ہوگئے ہیں ، عزم مرجھانے لگے ہیں ،بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ عالم اسلام اور پاکستان کے سولہ کروڑ عوام کا سرمایہ افتخار ،،پاکستان ،،کا وجود ،بقاء اور شناخت کی اصل بنیاد بھی اب داؤ پر لگ رہی ہے اور برصغیر پاک و ہند کے لاکھوں مسلمانوں کی جدوجہد کا حاصل ، قربانیوں کا ثمر اور آرزؤ ں و امنگوں کے دیس ،،پاکستان،، کیلئے اب کہا جارہا ہے کہ ،،پاکستان کوبھارت سے کوئی خطرہ نہیں ہے،،صدر مملکت کا یہ حکمت و دانائی سے لبریز اور فلسفیانہ دانش سے مزین بیان پاکستانی عوام کے جذبات کی ہی نہیں بلکہ پاک و ہند کے لاکھوں مسلمانوں کی اُس بے مثال جدوجہد اور لازوال قربانیوں کی بھی نفی کرتا ہے ،جو اِس ملک کے قیام کیلئے دی گئیں اور دس عشروں پر پھیلی بھارتی جارحیت اور آئینہ کی طرح شفاف پاکستان دشمن رویہ پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے ،صدر محترم کا بیان پڑھ کر ایک پوری تاریخ اورایک پورا عہد ہماری نگاہوں کے سامنے گھوم گیا اور جنوبی ایشیاء میں مسلمانوں کے عروج و زوال کی بکھری ہوئی داستان یادوں کے جھرونکوں میں ورق در ورق تازہ ہونے لگی،پردۂ ذہن پرمحمد بن قاسم سے لے کر بہادر شاہ ظفر تک ،مسلمان فوجوں کے لشکروں اور سر برہنہ شکستہ پا قافلوں کے نقش پا نمایاں ہونے لگتے ہیں ،غلامی کی طویل شب تاریک کا غم و اندوہ بھرا عہد ، جب دل کے سارے زخم ہرے کردیتا ہے تو اِس شب تاریک کی اتاہ اندھیروں میں جگنوؤں کی طرح دمکتے اور چراغوں کی طرح ٹمٹاتے نورانی کردار اپنی خوشبو بکھرتے ہیں اور پھر 14اگست 1947ء کو دنیا کے افق پر وہ خورشید خوش جمال طلوع ہوتا ہے، جس کی روشنی میں کرہ ارض ایک نئی ریاست کے وجود سے آشنا ہوتی ہے،ایک ایسی ریاست جو ایک واضح نظریئے کی اساس پر وجود میں آتی ہے، جس کی تقسیم جغرافیہ، تاریخ، معدنی وسائل اور قدرتی مظاہر کی بنیاد پر نہیں،بلکہ جو صرف اِس بنیاد پرقائم ہوئی کہ اللہ اور اُس کے آخری رسول ﷺ پر ایمان رکھنے والے ایک الگ قوم ہیں اور وہ کسی طور بھی ہندوؤں کی بالادستی تلے زندگی نہیں گزارسکتے،حقیقت یہ ہے کہ جس طرح چودہ سو برس قبل ریاست مدینہ اپنے جداگانہ اور منفرد تشخص کی بناء پر قائم ہوئی تھی، بالکل اُسی طرح پاکستان بھی اِس واضح اور غیر مبہم تصور کی بنیاد پر تخلیق پایا کہ مسلمان ایک جدا قوم ہیں اور انہیں اپنے عقیدے ،اپنے اسلوب حیات اور اپنی تہذیبی اقدار کے مطابق زندگی گزارنے کا پورا حق حاصل ہے،گویا پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور مسلمانوں کا جدا گانہ مذہبی تشخص ہی دو قومی نظریئے کی اساس و بنیاد قرار پایا ،درحقیقت یہی و ہ نظریہ تھا جس نے تحریک آزادی کو بال و پر عطا کئے اور قافلہ آزادی کو منزل مقصود ،،پاکستان،، کی راہ دکھائی۔ اِس امر میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہونے کی حیثیت سے عالم اسلام کا مرکز اور اسلام کا مضبوط قلعہ تصور کیا جاتا ہے،اِس کی دینی غیرت و حمیت اور مذہب سے غیر مشروط عقیدت نے آج بھی مغرب کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں اوراِس سرزمین پاک کے رکھوالے پاک فوج کے جوان ملک کے چپے چپے کی حفاظت کیلئے اپنے سر ہتھیلیوں پر لئے کھڑے ہیں،وہ نقطہ انجماد سے سے بھی کم درجہ حرارت پر برفیلے محاذ وںپر بھوک و پیاس سے بے نیاز یخ برف چبا کر بھی اپنے جسم میں خون کی گردش کو جمنے نہیں دیتے ،چٹیل میدان ،لق دق صحرا بھی اِن کے عزم و حوصلے پر اثر انداز نہیں ہوتے،لیکن اِس کے حکمران قوم کی دولت لوٹ کر اور گرم خون چوس کربے حس و حرکت ہوچکے ہیں،یہ پاک سرزمین جس کی خاک کے ایک ایک ذرّے میں ہمارے آباؤ اجداد کا خون جذب ہے ،جس کے ایک ایک چپے پر تقسیم ہند کے وقت قوم کے بوڑھوں ،بچوں اور نوجوانوں کے جسم کے ٹکرے ٹکرے ہوکر گرتے رہے ،قدم قدم پر ہماری بہنوں اوربیٹیوں کی عصمتیں تار تار ہوئیں، اُن کے سہاگ اجڑے اور بوڑھی ماؤں کے جگر گوشے اُن کے سامنے کرپانوںپر اچھالے گئے، کیایہ سب کچھ اس لئے ہوا تھا کہ محض ایک خطہ زمین حاصل کرکے اِس سرزمین کو اپنی روایت، اپنی تہذیب ،اپنی اساس اور اپنی تاریخ سے بے خبر اور اپنے حال میںمست حکمرانوں کے حوالے کردیا جائے تاکہ وہ دینی غیرت اور قومی حمیت کے منافی اپنی من مانیاں کرتے پھریں،نہیںہر گز،ہرگز نہیں …..یہ ملک ریاست مدینہ کے نظریئے پر قائم ہوا تھا ، لیکن صد افسوس کہ آگ و خون سے گزر کر آنے والا یہ کارواں اپنی پہلی ہی منزل پر لٹ گیا اور بقیہ رہ جانے والا قافلے کو لوٹنے کیلئے امریکہ اور اُس کے حواری آج ہمیں یہ باور کرارہے ہیں کہ مشرقی سرحد یںمحفوظ ہیں،ہمیں بھارت سے کوئی خطرہ نہیں اور بھارت کے پاکستان کیخلاف کسی قسم کے جارحانہ عزائم نہیں رکھتا، اس لئے پاک فوج کے دستے مغربی سرحد پر منتقل کئے جائیں کیونکہ پاکستان کو اصل خطرہ طالبان اور اندرونی عسکریت پسندوں سے ہے، دراصل ہمارے ہمدرد امریکی اور یورپی دوست جان بوجھ کر ہمیں اس علاقائی بھیڑیے کے سامنے ڈالنا چاہتے ہیں جو ایک بار پہلے بھی ننگی جارحیت کے ذریعے پاکستان کا ایک حصہ الگ کرکے بنگلہ دیش بنا چکا ہے اور وہ اب بھی قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں دہشت گردوں،تخریب کاروں اور علیحدگی پسندوں کی کھل کر حمایت،اعانت اور سرپرستی کر رہا ہے،اس بات کا ثبوت ،،دی سنٹر فار انٹرنیشنل پالیسی،،کے ایشیائی پروگرام کے ڈائریکٹر اور ممتاز امریکی مصنف سلیگ ایس ہیریسن وہ تازہ ترین رپورٹ ہے ،جو کہہ رہی ہے کہ،، گہرے اختلافات کی وجہ سے پاکستانی فیڈریشن تار تار ہو سکتی ہے،، اس رپورٹ میں سلیگ ایس ہیریسن نے بھارتی عزائم کا ذکر کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں لکھا ہے کہ ،،بھارت پاکستان پر براہ راست حملہ کرکے ایٹمی جنگ کو دعوت دینے کے بجائے بلوچ اور سندھ علیحدگی پسندوں کی حمایت اور سرپرستی کررہا ہے ، کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ مضبوط اور مستحکم پاکستان اُس کے مفاد میں نہیں، جبکہ دوسری طرف پاکستان کے ایٹمی پروگرام کیخلاف یہ پروپیگنڈا بھی کیا گیا کہ اُس پر انتہا پسندوں کا قبضہ ہو سکتا ہے،، درحقیقت اِس وقت امریکی ذرائع ابلاغ اور تھنک ٹینکس پاکستان کی شکست و ریخت کے حوالے سے جو تجزیے شائع کررہے ہیں، وہ بھی بھارتی لابی کا ہی کارنامہ ہے، بھارت پاکستان کیخلاف آبی دہشت گردی کا ہتھیار بھی کامیابی سے استعمال کررہا ہے،وہ چناب اور جہلم پر ڈیموں کے ذریعے قبضہ کے بعد دریائے سندھ کو اپنی حدود میں کنٹرول کرنے کیلئے 62 ڈیموں اور آبی ذخائر پر کام کررہا ہے،جنھیں وہ 2014ء تک مکمل کرنے کرنا چاہتا ہے اور اس کام میں اسے امریکہ اور اسرائیل کی مکمل معاونت حاصل ہے۔ یہ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ امریکہ نے طالبانائزیشن کے خطرے کو تو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور ہمارے حکومتی عہدیداروں نے بھی امریکہ کی ہاں میں ہاں ملائی ، لیکن بھارت کی آبی دہشت گردی کیخلاف کسی نے آواز بلند نہیں کی، اِن حالات میں جبکہ ایک طرف بھارت اپنی جنگی استعداد بڑھانے اور بھر پور جنگی تیاریاں میں مصروف ہے ، امریکہ کی طرف سے کرائی گئی اِن یقین دہانیوں کی قلعی کھل جاتی ہے کہ پاکستان بھارت کی طرف سے بے فکر رہے، اوبامہ، ہیلری کلنٹن، رابرٹ گیٹس اور مائیکل مولن کی طرف سے مسلسل یہ پروپیگنڈا کہ بھارت پاکستان کیلئے خطرہ نہیں، یقینا ایک بڑی عالمی سازش کا حصہ ہے،جس سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ،تاریخ گواہ ہے کہ 1971ء میں پاکستان امریکہ پر انحصار کرکے ناقابل تلافی نقصان اٹھا چکا ہے اور پاکستان کو دہشتگردی کیخلاف جنگ میں الجھا کر امریکہ نے بھارت کو جموں و کشمیر میں اپنا تسلط مضبوط کرنے کا موقع فراہم کیا ہے ،اِن حالات میں پاکستان کو بھارتی بالادستی تسلیم کرنے اور اسے اپنا دوست سمجھنے کی ترغیب دی جا رہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ خودبھارت دہشتگردی اور تخریب کاری میں ملوث ہے اور سرحد اور بلوچستان میں علیحدگی پسندی کی تحریکوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے، افغانستان میںڈیڑھ درجن سے زائد اسکے سفارتی مشن پاکستان کو شکست و ریخت سے دوچار کرنے کی مہم میں شریک ہیں،عالمی ذرایع ابلاغ اور تحقیقاتی ایجنسیاں یہاں تک کہہ رہی ہیں کہ یہ کونسل خانے پاکستان کے خلاف تخریب کاری کے اڈے بن چکے ہیںجہاں سے پاکستان دشمن عناصر کو بلوچستان اور ملک کے دیگر علاقوں میں دہشت گردی کیلئے روپیہ پیسہ اور اسلحہ فراہم کیا جارہا ہے،گذشتہ دنوں قومی اسمبلی میں وزیرداخلہ رحمان ملک کا یہ بیان بھی آن ریکارڈ ہے ،جس میں انہوں نے پاکستان میں حالات کی خرابی کا ذمہ دار بھارت کو قرار دیا تھا ،لیکن آج امریکی ڈاکٹرین کہتی ہے کہ بھارت پاکستان کے لئے خطرہ نہیں اس لئے والیان پاکستان کو چاہیے کہ وہ مشرقی سرحدوں سے فوج ہٹا کر اسے مغربی سرحد پر تعینات کر دیں، امریکہ کے اِس مطالبے کو سرکاری طورپر رد کر دیا گیا تھا، لیکن یہ امریکی آب و ہوا کی تاثیر ہے کہ وہاں جاتے ہی صدر مملکت نے بھی وہی کچھ کہنا شروع کر دیا جو امریکہ کہہ رہا تھا، سوال یہ ہے کہ اگر بھارت کبھی پاکستان کے وجودکیلئے خطرہ نہیں رہا تو پھر ہمیں ایٹم بم بنانے اور دفاعی تیاریوں پر کھربوں روپے خرچ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی، 1948ء ،1965 ء اور 1971 ء کی پاک بھارت جنگ کیا تھی اور مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کا وجود کس سازش کا حصہ تھا، حیرت ہے کہ آدھا ملک گنوانے کے بعد بھی ہمارے صدرصاحب کتنی آسانی سے کہہ رہے ہیں کہ بھارت کبھی پاکستان کے لئے خطرہ نہیں رہا، شاید وہ ،،منہ میں رام رام اور بغل میں چھری،، کی ہندو نفسیات اور ذہنیت کو بھول گئے ،پاکستان کے عوام آج بھی بھارت کو اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ حکمران معذرت خواہانہ پالیسی اپنانے کے بجائے پاکستان جیسے نظریاتی ملک کی نمائندگی ایمانی جذبوں اور دوستی و دشمنی کے قرآنی معیارات کو سامنے رکھ کر کریں،اِن چشم کشا شواہد اور حقائق کے باوجودصدر صاحب کا یہ فرماناکہ،، انہوں نے بھارت کو کبھی خطرہ نہیں سمجھا اصل خطرہ طالبان ہیں جو اکیسویں صدی کا سب سے بڑا چیلنج ہیں،، حقائق سے رو گردانی اور ایسی خوش فہمی ہے جو خود فریبی کے بھیانک اور تاریک راستوں پر لیجاتی ہے ، کبھی بھی خطرے کو سامنے دیکھ کر ریت میں منہ دے لینے سے خطرہ ٹل نہیں جاتا،حقیقت یہ ہے کہ بھارت ہمارا جتنا پڑوسی ملک ہے اتنا ہی شدید اور بے اصول دشمن بھی ہے،اِس دشمنی کا ایک واضح سبب کفر و اسلام کی دیرینہ جنگ ہے لیکن ہندو بنیئے کو سب سے زیادہ تکلیف تقسیم برصغیر کے نتیجے میں معرض وجود میں آنے والی اسلامی ریاست ،،پاکستان ،،کے وجود سے ہے،حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے پاکستان کو ایک علیحدہ ملک کی حیثیت سے ذہنی طور پر کبھی بھی تسلیم ہی نہیں کیا،بلکہ اس کے برعکس اُس نے بارہا جارحیت کا مظاہرہ کیا اوربھارت ابتدا ء ہی سے ہمارے وجود کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے درپے ہے ،چنانچہ اِس خطرے سے جان بوجھ کر آنکھیں چراناایک جوہری ر یاست کے سربراہ کے ہر گز شایان شان نہیںہے ، جناب صدر سیانے کہتے ہیں کہ ،،کسی قوم کی تاریخ اُس قوم کے حافظے کی مانند ہوتی ہے ،جو قوم اپنی تاریخ بھلا دیتی ہے گویا وہ اپنے حافظے سے محروم ہوجاتی ہے ،،دنیا کی دیگر اقوام کے مقابلے میں ہماری قوم کیلئے تاریخ کا شعور ہمارے جغرافیائی احساس پر اِس لئے فوقیت رکھتا ہے کہ ہمارا جغرافیہ ہماری تاریخ کا نتیجہ ہے اور ہماری وحدت اور شناخت کی اصل بنیاد وہ تاریخی تسلسل ہے جو ہمارے سیاسی جغرافیے کیلئے وجہ تخلیق اور اصل بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے،لہٰذا ہماری آپ سے التجا ہے کہ صرف امریکی خوشنودی کیلئے اپنی تاریخ ،اپنی اقدار،اپنی روایات اور اپنے تشخص کے قلعوں کی اُن دیواروں کوخدارا کمزور مت کیجئے جو پاکستان کی سلامتی، بقاء ، استحکام اور تحفظ کی ضامن ہیں۔