Home » Article » پانی کا بحران پاکستان کیلئے موت و زندگی ؟؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:سید مسلم جاوید مظلوم

پانی کا بحران پاکستان کیلئے موت و زندگی ؟؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:سید مسلم جاوید مظلوم

آج پاکستان آزادی کی 63ویں بہاریں دیکھ رہا ہے اور 63سال گزرنے کے دوران پاکستان کو ایسے ایسے سنگین بحرانوں سے گزرنا پڑا جس کا کسی صورت بھی ادراک ممکن نہیں ہے۔ پاکستان کے دنیا کے نقشے پر ابھرنے کے فوراًبعد اس کی مشکلات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔پاکستان کی آزادی کیلئے پاکستان کے ازلی اور ابدی دشمن انگریز نے جو برصغیر کی تقسیم کا نقشہ پیش کیا گیا اس میں ایسے علاقے بھی ہندوستان کی عملداری میں دیدیئے گئے جو پاکستان کے حصے میں آتے تھے اور پاکستان کے دو بڑے صوبوں مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کے دوران ایک ہزار مربع میل کا علاقہ ہندوستان کو دیکر مسلمان دشمنی کا عمل آغاز کیا گیا۔ اس کے علاوہ پاکستان کو تیسرا صوبہ،،جونا گڑھ ،،دیا گیا ہے۔ آزادی کے فوری بعد ہندوستان نے اپنی افواج کے ذریعے اس پر غاصبانہ قبضہ کر کے اسے ہندوستان نے اپنی سرزمین میں شامل کر لیا۔ اور پاکستان کی سرزمین کو بنجر کرنے کیلئے اپنے اقدامات شروع کر دیئے اور پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کے باوجود پانی کو روکنے کے اقدامات کے طور پر بڑے بڑے ڈیمز بنا لئے جس کی وجہ سے سندھ طاس معاہدہ بھی ردی کے ایک ٹکڑے کی شکل اختیار کر گیا۔اس اہم اور سنگین مسئلے کے ساتھ ساتھ کشمیر پر بھی غاصبانہ قبضہ کر لیا جس پر پاکستان کے مجاہدین نے ہندوستانی جارحیت کو روکنے کیلئے ان سے صف آراء ہوئے اور ایک ٹکڑا،،آزاد کشمیر،،پر پاکستان کا جھنڈا لہرا دیا گیا۔اسی دوران بھارت نے اپنی ریشہ دوانیوں کا سلسلہ جاری رکھا جسکی بناء پر پاکستان اور بھارت کے درمیان 17روزہ جنگ بھی رہی جس میں بھارت نے اقوام متحدہ سے جنگ بندی کی اپیل کی اور کشمر کے حوالے سے یواین او کی قرار داد کے ذریعے اس مسئلے کو بات چیت سے حل کرنے کا عندیہ دیا لیکن وقت گزرنے کے بعد اس وعدے سے بھی منحرف ہو گیا اور اپنے ہندو پروفیسروں کے ذریعے مشرقی پاکستان میں سازش کے جال بنتے ہوئے علیحدگی پسندی کے رحجان کو ہوا دیتے ہوئے مدد کرنے سے بھی دریغ نہ کیا جب بھارت نے مشرقی پاکستان میں چند پروفیسروں اور شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ کی مدد سے اپنی سازش تیار کر لی تو پاکستان دونوں صوبوں میں جنگ مسلط کر دی اور مشرقی پاکستان پر اپنے غاصبانہ قبضے میں کامیاب ہوتے ہوئے93ہزار پاکستان افواج کو جنگی قیدی بنا لیااوراس جنگ میں فتح حاصل کرنے کے بعد پاکستان کوپانی سے محروم کرنے کے لئے ناپاک منصوبے پر پھر عمل شروع کرتے ہوئے سندھ طاس منصوبے سے انحراف کرتے ہوئے تیزی سے اپنے ڈیمز بنانے شروع کر دیئے۔مشرقی پاکستان ہندوستانی جارحیت کی وجہ سے بنگلہ دیش بن چکا ہے اور ہندوستان نے اب پاکستان کو بنجر بنانے کیلئے سندھ طاس معاہدہ پر عمل درآمد کی بجائے پاکستان کا پانی مکمل طور پر بند کردیا جس کی وجہ سے پاکستان پانی کی کمی کا بری طرح شکار ہو چکا ہے اور اب بھارت پاکستان کو پانی کے معاملے نظر انداز کرتے ہوئے اسے ایتھو پیا بنانے کیلئے سرگرم عمل ہے۔اگر بھارت کی طرفسے پانی کا مسئلہ مذاکرات سے مسئلہ حل نہ ہوا تو پاکستان اور ہندوستان میںایک مزید جنگ کا امکان بڑھتا جا رہا ہے۔اب وقت آگیاہے کہ پاکستان کے پانی اور بجلی کے مسائل کو حل کرنے کیلئے بھارتی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد کرایا جائے اگر بھارت اس معاہدے کی پاس داری نہ کرے تو اس کے ڈیمز کو اڑا کر اسے راہ راست پر لایا جائے جو کہ موجودہ حالات میں ضروری ہے۔