Home » Article » خواب یا حقیقت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:غلام عباس

خواب یا حقیقت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:غلام عباس

یا اللہ خیر۔۔۔ رات کے بارہ بج چکے۔۔۔ اس وقت کون ہو سکتا ہے میں نے خود سے سوال کیا۔ دروازہ کھولیے۔۔۔ میں ہوں۔میں، کون، آدھی رات ہے۔ اپنا نام بتائیے، میںدروازہ کیسے کھول دوں میں نے زور دے کر پوچھا۔ میں ہوں۔۔۔ آپ کے خیالوں کی رانی۔۔۔ آپ کے شعروں کی جولانی۔۔۔ میری آنکھیں ہیں مستانی۔۔۔ میں وہی تو ہوں جسے ملنے کے لئے آپ ترستے ہیں۔ اس نے دراوزے پر تیز تیز ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔زہے نصیب۔۔۔ چند آفتاب چند ماہتاب آپ کی آمد۔۔ خواب تونہیں ۔ آپ اپنے پرستار کے غریب خانہ پر۔۔۔ میرے سپنے کہیں ٹوٹ نہ جائیں۔ میں نے دروازہ کھولتے ہوئے کہا۔میرے بدن کو چھو کر دیکھ لو۔۔۔ یہ خواب نہیں اس نے موٹی موٹی آنکھوں کو کار کے اسٹیئرنگ کی طرح گھماتے ہوئے جواب دیا۔لمحہ بھر رکیے۔۔ میں دیسی گھی کی دیپ جلائے دیتا ہوں۔ میں نے اس کی ہرنی کی مانند خوبصورت نشیلی آنکھوں میں ڈوبتے ہوئے کہا۔ کیسے ہو۔ اس نے پوچھا۔ زندہ ہوں ہجر و فراق میں خود کفیل بنانے پر بہت بہت شکریہ۔ کیسے آنا ہوا؟ سہیلوں کے ساتھ ٹور پر آنے کا اتفاق ہوا۔ تو آپ سے ملنے آ گئی۔ اس نے کندھے اچک کر جواب دیا۔ میری اس کی جان پہچان مدت سے تھی۔ ہمارا بچپن ۔۔۔ لڑکپن ایک ساتھ بڑا خوشگوار گزرا۔ اچانک اس کے ابو کی ٹرانسفر ہو گئی۔۔۔ ملاقات کا سلسلہ رک گیا۔ کچھ سال پہلے کسی کام سے چترال جارہا تھا کہ راستہ میں ایک پہاڑی کے موڑ پر اس کے ابو کار کا ٹائر تبدیل کرتے ہوئے نظر آئے۔ میرا رک جانا فطری امر تھا۔ میں نے سلام کیا تو اس کے ابو نے مجھے فوراً پہچان کر گلے لگا لیا۔ اس کے ابو بہت اچھے تھے۔ سیر سپاٹے پر بہت خوش رہتے تھے۔ اس نے بھی شرماتے ہوئے مجھ کو سلام کہا۔ رات ہونے والی تھی۔ سورج اپنی کرنیں سمیٹ رہاتھا۔ بوندا باندی شروع تھی۔ گاڑی اسٹارٹ کرتے ہی اس کے ابو نے کہا کہ ہمارا مزید سفر جاری رکھنا خطرے سے خالی نہیں میں نے کہا انکل ساتھ والے گاؤں چلتے ہیں۔ گاؤں کے لوگ بڑے مہمان نواز تھے ہمیں ایک سکول کے ہال میں ٹھہرادیاگیا اس کے ابو بستر پر دراز ہوتے ہی گھوڑے بیچ کر سو گئے۔ ہمیں نیند کیسے آتی۔ ہم سونے کے موڈ میں بھی نہیں تھے۔ میں نے چپکے سے اس کا بایاں ہاتھ پکڑ لیا جس پر مہندی کا رنگ پھیکاپڑچکا تٖھا ۔ابو جاگ جائیں گے، اس نے اپنے دائیں ہاتھ کے نوکیلے ناخن میرے دائیں پشت پر گاڑ اپنا ہاتھ آزاد کروا لیا۔ اس کے ابو نے بلند آواز میں خراٹے لینے شروع کئے تو میں نے پھر اس کا بایاں ہاتھ پکڑ لیا۔ کیا چاہتے ہو اس نے دھیمے لہجے میں پوچھا۔ میں نے اس کے ہاتھ کو سہلاتے ہوئے کہا کچھ بھی نہیں ۔۔۔ قسمت دیکھ رہا ہوں۔ میں اس وقت پامسٹری کی کتابیں پڑھاکرتا تھا اور تھوڑا بہت لکیروں کے علم سے آشنا تھا۔ اس کا ہاتھ تھامے اپنی قمست پہ نازاں ۔۔۔ اسے اوٹ پٹانگ قصے کہانیاں سناتا رہا۔ میں نے سردی محسوس کی تو اس سے اس کے لحاف میں گھسنے کی اجازت مانگی، وہ سٹ کر بولی ۔۔ جی نہیں۔ پو پھوٹنے سے پہلے میں اپنی چارپائی پر سیدھا لیٹ گیا اور اس کے ابو کو آواز دے کر اٹھایا صبح ہوتے ہی ہم نے اپنی اپنی راہ لی۔ چند برسوں بعد جب وہ میرے گھر آئی تو مجھے ماضی کا ایک ایک لمحہ یاد آنے لگا۔۔ میں تجھے ہر پل یاد کرتا ہو۔۔۔ غم، خوشی کوئی بھی تہوار ہو تو میری آنکھوں میں رہتی ہو۔ میں تمہارے لئے نفل بھی ادا کرتا ہوں میں نے اسے سلوٹ کرتے ہوئے کہا۔ آپ کی بیگم کہاں ہے۔ ساتھ والے کمرے میں سورہی ہے، کزن کی شادی والے دن کی طرح آج ناراض نہ ہوجانا۔ میں شعر وشاعری آپ کی خاطر کرتا ہوں۔۔۔ صرف آپ کی خاطر۔ آپ نے کھانا کھا لیاہے۔ وہ بات ٹال گئی۔ تجھے بھول جانا میرے بس میں نہیں۔۔۔ جس طرح دل کی ڈھڑکنوں پر انسان کا کنٹرول نہیں ہوتا ایسے ہی یادوں پر پہرے نہیں بٹھائے جاسکتے۔۔۔ تیری پیاری سی باتیں۔۔۔ دل میں اتر جانے والی ادائیں۔ ریشم زلفوں کو پریشان کرکے مٹک مٹک کر چلنا۔۔۔ دلربا ناز نخرے میری زیست کا اثاثہ ہیں میں نے اس کی آنکھوں میں پھیلے ہوئے کاجل کو دیکھتے ہوئے کہا۔ آدھی رات کو تمہیں اکیلے آتے ہوئے ڈر محسوس نہیں ہوا میں نے اس کی سونے کی نتھلی کو تکتے ہوئے کہا۔ آپ کے گھر میں اپنے گارڈ رحمت کے ساتھ آئی ہوں۔ اس نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔ اگر اجازت ہو تو میں تمہارے بال اپنے ہاتھوں سے سنواروں، سرمہ ڈالوں۔۔ تجھے باہر کے پرفیوم میں نہلا دوں۔ تجھے عقیق، زمرد، نیلم اور پکھراج کی انگوٹھیاں پہناؤں۔۔ فریج میں فروٹ چاٹ پڑی ہوگی، منہ میں ڈال دوں۔۔ گلابی ہونٹوں پر آتشی رنگ کی لپ اسٹک لگادوں،۔۔ کاسنی ر نگ کے کپڑوں میں تو آپ بہت جچتی ہیں۔۔۔ ادھ کھلی کلی کی طرح۔۔۔ میں نے جھوم جھوم کر کہا۔ خدا جانے یادوں کے کس موڑ پر زندگی کی شام ہو جائے۔ ایک سلگتی ہوئی خواہش ہے اگر آپ اسے عملی جامہ پہنا دیں توآپ کی کمال مہربانی ہوگی میں نے اس کی چھن چھن کرتی ہوئی پائل دیکھتے ہوئے کہا۔ کہو۔۔۔ کیا چاہتے ہو۔،، آٹو گراف،،میرے پاس بال پوائنٹ نہیں ہے، اس نے کہا۔ میں نے مارکر یا بال پوائنٹ پنسل سے آٹو گراف نہیں لینا، میں نے جواب دیا۔ اچھا کاپی لاؤ میں ہونٹوں سے مہر ثبت کردیتی ہوں وہ بولی، جی نہیں۔۔۔ پلیز آپ دستانے پہن کر یہ لوہے کی سلائی پکڑ لیں اور تیزاب والی بوتل میں ڈال کر میرے سینے پراپنا نام اردو میں لکھ کر انگریزی میں دستخط کردیں میں نے تیزاب والی بوتل کا ڈھکن کھولتے ہوئے کہا۔وہ تیزاب کا نام سنتے ہی چونک سی گئی۔۔۔ اسے اپنی سہیلی عروسہ کا واقعہ یاد آ گیا۔۔۔ عروسہ کے نام نہاد عاشق جبرو نے ۔۔۔ عروسہ کا رشتہ نہ ملنے پر اس کے چہرے پر تیزاب پھینک دیاتھا۔آپ بڑے جذباتی ہیں۔۔۔۔ وہ رونے لگی۔ پیار جذبات کا ہی دوسرا نام ہے۔ میں نے اپنی قمیض کے بٹن اتارتے ہوئے کہا۔ تم بڑے۔۔انتہا پسند ہو۔۔۔ میں آپ سے کٹی کرتی ہو۔۔۔ وہ دونوں کانوں پر ہاتھ رکھ کر چلانے لگی۔دیکھو۔۔۔ اگر تو نے مجھ سے کٹی کی تو۔۔۔ میں زندگی سے روٹھ جاؤں گا۔۔۔ زندگی سے کٹی کرکے موت سے دوستی کرلوں گا۔ کس سے دوستی اور کس سے کٹی ہو رہی ہے۔۔۔ آٹو گراف کس سے لیا جارہاہے۔۔۔ عقل کو ہاتھ مارو رات کے اڑھائی بج رہے ہیںاور ۔۔۔ تم ابھی تک جاگ رہے ہو۔ اختر بانو نے مجھے جھنجوڑ کر کہا۔ میں نے ٹک ٹک کرتی ہوئی گھڑی کی جانب دیکھا تو واقعی رات کے دو بج کر تیس منٹ ہو چکے تھے۔