Home » Article » ایس اے حمید کی پراسرار سبکدوشی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:صفدر ترابی

ایس اے حمید کی پراسرار سبکدوشی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:صفدر ترابی

ایس اے حمید کی پراسرار سبکدوشی نے تعجب کی لہر دوڑا دی ہے ۔ اخباری اطلاعات یہ ہیں کہ مقامی قیادت کے اعتراض پر ان سے ذمہ داریاں واپس لی گئی ہیں ۔ وہ ایڈمنسٹریٹر فوڈ سپورٹ پروگرام پنجاب تھے ۔ میں ان کے گھر پہنچاتو سینکڑوں لیگی کارکن مایوسی کی تصویر بنے کھڑے تھے ۔کچھ کارکنوں کی آنکھوں میں آنسوؤں سے ماحول جذباتی بن گیا تھا۔ ایس اے حمید کو درمیان میں دیکھ کرکارکن اپنا مختلف ردعمل دینے لگے۔ تو انہوں نے میاں برادران اور مسلم لیگ زندہ باد کے بلند آواز سے نعرے لگوائے جس سے کارکنوں کو واضح سمت مل گئی اور ان کے چہرے چمک اٹھے ۔ ایس اے حمید کے ناقدین بھی یہی کہتے ہیں کہ وہ قدآور لیگی رہنما اور ہزاروں کارکنوں کا ذاتی حلقہ اثر رکھتے ہیں ۔ وہ پارٹی معاملات سے ہٹ کر کارکنوں کے ذاتی دکھ سکھ میں شرکت کی نیک نامی سے بہرہ ور ہیں ۔ ایس اے حمید بائیس ماہ تک فوڈ سپورٹ پروگرام سے وابستہ رہے ۔ یہ غریب آدمی تک سستی دال روٹی پہنچانے کا پروگرام ہے اور وزیر اعلی نے اس کا انچارج کرپشن سے پاک اور سخت ترین ایڈمنسٹریٹر کی شہرت رکھنے والے ایس اے حمید کو بنایا ۔ یہ ایس اے حمید کی دیانت اور اہلیت پر وزیر اعلی کا بہترین اعتماد تھا۔ انہوں نے ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے نبھائیں اور بہتر نتائج کیساتھ حکومتی ساکھ میں اضافہ کیا۔ ایک طرف تو خادم اعلی پنجاب کے اعتماد کا یہ عالم کہ انہوں نے ایس اے حمید کا چناؤ وزارت اعلیٰ کا حلف لینے سے بھی پہلے کر لیا لیکن انہیں سبکدوش کرتے وقت موقف تک نہیں سنا گیا۔ یہ کام بہتر طریقے سے بھی ہو سکتا تھا…….. وزیر اعلی ن لیگ کے مرکزی صدر بھی ہیں ۔ وہ فریقین کا موقف سن کر حقیقت کے زیادہ قریب پہنچ سکتے تھے ۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا۔ پنجاب میں مختلف عہدوں پر فائز شخصیات اس فیصلہ سے خوفزدہ ہیں ۔ کیونکہ جرم بے گناہی کی افسوسناک روایت قائم ہو گئی ہے ۔ ایس اے حمید اپنے کام کی عوامی اہمیت سے آگاہ تھے اور کوتاہی کی صورت میں شدید رد عمل سے اپنی حکومت کو بچانا چاہتے تھے ۔ انہوں نے سستے تندوروں اور بازاروں کی مسلسل چیکنگ کی ۔ سرکاری انتظامیہ سے روزانہ میٹنگز ہوئیں ۔ ترقیاتی کاموں کی نگرانی اور عوامی جلسوں کا انعقاد ان کے معمولات تھے جس وجہ سے انہیں پنجاب میں ممتاز سیاسی مقام حاصل ہو گیا۔ بائیس ماہ میں کسی ایک دن بھی ان کی کارکردگی رپورٹ کے بغیر اخبارات نہیں چھپے ۔ وزیر اعلی کی کا بینہ اور دیگر ادارے بھی موجود ہیں ۔ لیکن وہ پورے پنجاب میں منفرد حیثیت سے نظر آ رہے تھے ۔ جس کا سارا فائد ہ ن لیگ اور میاں برادران کیلئے تھا۔ بہرحال انہوں نے وزیر اعلی کے فیصلہ کو پارٹی سربراہ کا فرمان سمجھ کر قبول کیا اور اپنے لیگی قد میں اضافہ کر لیا ہے ۔ انہوں نے اخباری مہم میں مزید تیزی پیدا کی ہے اور میاں برادران کے دیرینہ اور مخلص ساتھی ثابت ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں ۔ اس طرح انہیں میاں برادران سے دور کرنیوالے ناکام ہو گئے ہیں ۔ سبکدوشی کے بعد مخالفین کو جس رد عمل کی توقع تھی وہ پوری نہیں ہو سکی ،بعض لوگوں کا خیال تھا کہ اب وہ پارٹی چھوڑ دینگے اور سارے راستے صاف ہو جائینگے ۔ لیکن ایس اے حمید پورے قد کے ساتھ پارٹی میں موجود ہیں ۔ مصلحتوں اور غلط فہمیوں کے بادل عنقریب چھٹ جائینگے اور وزیر اعلی کو حقائق تک پہنچنے میں اب زیادہ دیر نہیں لگے گی ۔مقامی پارٹی قیادت کو شکوہ ہے کہ ایس آے حمید غیر منتخب ہوتے ہوئے وزیر اعلی کے اتنے قریب کیوں چلے گئے جب وہ عہدہ سنبھال کر آئے تو بائی پاس پر انسانی سروں کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے ہجوم نے ان کا استقبال کیا یہ بعض مقامی قائدین کیلئے پریشان کن تھا……. انہیں بہتر کارکردگی پر پارٹی کا صوبائی نائب صدر بنایا گیا کچھ لوگوں کو یہ بھی قبول نہ ہوا………. انہوں نے وزیر اعلی سے شہری تعمیر و ترقی کیلئے کروڑوں منظور کروائے لیکن اس کارنامہ کو بھی خطرے کی جھنڈی سمجھا گیا اور فنڈز رکوا دیئے گئے ……. ایس اے حمید جواں ہمت تھے انہوں نے پھر سپیشل فنڈز منظور کروا کر ترقیاتی کام شروع کر دیئے یہ ترقیاتی کام مسلم لیگی وزیر اعلی نے مسلم لیگی لیڈر ایس اے حمید کے ذریعے حلقہ پی پی 93 میں کروائے لیکن اسے سیاسی مداخلت کہہ کر وزیر اعلی سے شکایت کی گئی ……… حد یہ ہے کہ ترقیاتی کاموں کی وہ تختیاں جن پر مسلم لیگ ،شہباز شریف اور ایس اے حمید کا نام لکھا ہوا تھا ہتھوڑے مار کر گرا دی گئیں………. سیاسی تعصب کا یہ انداز پہلی بار سامنے آیا ہے ۔ جب مسلم لیگی تختیوں پر ہتھوڑے برسائے جا رہے تھے تو حلقہ کے سہمے ہوئے عوام ایک دوسرے سے پوچھتے رہے کہ کیا شہباز شریف کی حکومت ختم ہو گئی ہے ……….. ؟؟ ایک سچے خیر خواہ کی طرح میرے جذبات بھی عام لیگی کارکنوں والے ہیں لیکن کارکنوں کی زبانوں پر وہ سکوت طاری ہے ۔ جس کی تہہ میں طوفان پلتے ہیں ۔مقامی اختلافات کا نتیجہ ن لیگ ماضی میں کئی بار بھگت چکی ہے ۔ اب آٹھ سال تک سڑکوں پر آمریت کی مار کھانے والے بیچارے کارکن بے حد پریشان ہیں وہ لیڈروں کو کچھ سمجھانے کی بجائے ہاتھ اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں اور کسی معجزہ کے منتظر ہیں ۔ بہرحال انہوں نے ورکرز فورم ،کی شکل میں اپنی طاقت کو جمع کرنا شروع کر دیا ہے ۔ کشمیری ،انصاری شیخ اور مغل برادری مقامی مسلم لیگی چہرہ کے خوبصورت خدوخال ہیں ان میں سے ایک کو بھی ٹھیس پہنچی تو مسلم لیگی چہرہ پہچانا نہ جائیگا۔ یہ واحد خوبصورتی ہے ۔ جو مقامی ن لیگ کے نمبر بڑھا دیتی ہے ۔ اب ایس اے حمید کو کوئی رعائتی نمبر نہ بھی دینا چاہے لیکن انتہائی جائز اعتراف میں تسلیم کریگا کہ وہ شیخ برادری کے ترجمان اور لیڈر ہیں ۔ کلاتھ مارکیٹ بورڈ شہر کا سب سے بڑا کاروباری مرکز ہے وہاں کی لیڈر شپ ایس اے حمید کی قیادت میں متحد اور منظم ہے ۔ اس طرح بہت بڑی شٹر پاور ان کیساتھ ہے ۔ ایس اے حمید کو تسلیم کئے بغیر مقامی لیگی قیادت کا کوئی حربہ بھی شیخ برادری کا احساس محرومی ختم نہیں کر سکتا۔ جو ہزاروں لیگی کارکن ان کی پشت پر کھڑے ہیں ۔ ان میں صرف شیخ برادری شامل نہیں ہے ۔ وہ اپنے کام کی بنیا دپر سب برادریوں میں یکساں مقبول ہیں ۔ ایس اے حمید کے ذریعے ہونیوالے ترقیاتی کاموں سے مقامی قیادت کو کوئی خطرہ نہیں تھا وہ اربوں کے بھی ترقیاتی کام کروا دیتے پھر بھی انتخابی ٹکٹ پارلیمانی بورڈ نے جاری کرنا تھا اور جسے پارٹی قیادت امیدوار نامزد کرتی ترقیاتی کام بھی اسی کے کام آتے ۔ کسی انجانے خوف میں بلاوجہ مبتلا ہونیکی ضرورت نہ تھی ۔ کیونکہ ایس اے حمید سمیت کوئی بھی پارٹی ٹکٹ چھین سکتا تھانہ چوری کر سکتا تھا امیدوار وہی ہوتا جسے قیادت ہار پہناتی اور قیادت کا فیصلہ تسلیم نہ کر کے کوئی ن لیگ میں کیسے رہ سکتا ۔ مقامی قیادت کے ذاتی اختلاف نے 2002 ء کے الیکشن میں اپنی پارٹی کو گہرے زخم لگائے وہ این اے 96 سمیت سب اہم سیٹیں ہار گئے ۔ پچھلے الیکشن میں مرکزی مسلم لیگی قیادت کی مقبولیت جیت کا سبب بنی اب پھر زیادہ خوفناک منظر بننے جا رہا ہے ۔ حلقہ پی پی 93 میں ن لیگ کی پچھلی شکست بھی مقامی لیگی انتشار کا نتیجہ تھی ۔ 99 ء میں اکثریت کے باوجود میئر شپ کیلئے قادر خان کے متفقہ امیدوار نامزد نہ ہو سکنے سمیت درجنوں عبرتناک مثالیں موجود ہیں جن میں مقامی لیڈروں کی انا جیتی اور پارٹی ہار گئی ۔ مقامی لیڈر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں وقت ضائع نہ کرتے تو شہر کی بربادی میں بہتری آ چکی ہوتی ۔ گذشتہ انتخابات میں ق لیگ کا صفایا اسی لئے ہوا کہ سابق وزیر اعلیٰ نے اربوں کے فرضی پیکیج جاری کر دیئے اور اعلان کردہ منصوبے زمین پر نظر نہ آئے اسی طرح اب شہری خادم اعلی کے تاریخی پیکیج کی عملی شکل دیکھنے کے آرزو مند ہیں ۔ وکلاء کالونی ،صحافی کالونی ،پریس کلب ،میڈیکل کالج ،اوورہیڈ برج کی ٹی شپ توسیع وزیر اعلی کے گوجرانوالہ سے وعدے ہیں ۔ سڑکوں کی تعمیر ،صاف پانی کی فراہمی سمیت درجنوں منصوبوں کے اعلانات موجود ہیں ۔ مقامی لیگی قیادت ان معاملات پر بیان بازی اور لارلے لپے سے کام چلا رہی ہے ۔ لوگ اب نہ پوچھ سکے تو انتخابات میں ضرور پوچھیں گے کہ خادم اعلی کے تاریخی اعلانات کا کیا بنا……… ؟؟